کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں کے پاس سوشل رسپانسیبلیٹی کا اربوں روپے کا فنڈ موجود ہے، کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں CSR کا فنڈ استعمال کیا جائے، کوکب اقبال

کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں کے پاس سوشل رسپانسیبلیٹی کا اربوں روپے کا فنڈ موجود ہے،سیکورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن کی واضح ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں CSR کا فنڈ استعمال کیا جائے،کوکب اقبال چیئرمین کنزیومر ایسوسی ایشن پاکستان
کراچی : کرونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک کے صارفین گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔روزمرہ کے معمولات کب ٹھیک ہونگے کسی کو کوئی خبر نہیں ان حالات میں غریب طبقہ اور غربت کی لکیر سے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں بے انتہاء اضافہ شروع ہو گیا ہے، بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مجبور سفید پوش بھی امداد کے منتظر ہیں، ایسے وقت میں پاکستان کارپوریٹ سیکٹر اور کاروباری شعبہ کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی کے تحت آگے بڑھ کر راشن،ماسک،صابن،سینی ٹائزر ان لوگوں میں تقسیم کریں جو ان چیزوں کی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے روز انہ کے دیہاڑی مزدور اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جس کے سبب اگر یہی صورت حال بدستور رہی تو کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد کم اور بھوک سے مرنے والوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہوگی، اس لئے اس مشکل گھڑی میں بزنس کمیونٹی اور کارپوریٹ سیکٹر پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی کے بجٹ کو نہ صرف غریبوں کی امداد کیلئے استعامل کریں بلکہ بجٹ کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضرورت مندوں میں مفت ماسک اور سینی ٹائزر کی تقسیم سمیت انکے علاج معالجے کیلئے استعمال میں لائیں۔کوکب اقبال نے کہا کہ ابھی تک کسی بھی کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے اور نہ ہی بزنس کمیونٹی کی جانب سے کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی کے تحت کوئی بڑا کام ہوتا نظر نہیں آرہا جبکہ اس ضمن میں سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے تمام کمپنیوں اور کارپوریٹ سیکٹر کو واضح ہدایت جاری کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی نے کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 202 (2) کے تحت کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ قانون کی اس شق کے تحت کمپنی کا ڈائریکٹر،کمپنی کے تمام ممبران،ملازمین،شراکت دار کمپنی کے کاروباری مفادات حاصل کرنے کے ساتھ ماحول کے تحفظ کیلئے اچھی نیت کے ساتھ کام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی کا فنڈ کسی کارپوریٹ سیکٹر یا کمپنی پر بوجھ نہیں ہے کیونکہ اس کو صارف ہی بیئر کرتا ہے یعنی وہ جس کمپنی کی کوئی بھی سروس استعمال کرتا ہے یا اس کی وہ پروڈکٹ خریدتا ہے اس کا کچھ حصہ کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی فنڈ میں چلا جاتا ہے جس کو کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیاں معاشرے کی بہتری کیلئے اور کسی بھی آزمائش کی گھڑی میں استعمال میں لا سکتی ہیں۔ کوکب اقبال نے کہا کہ اب جبکہ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے واضح ہدایت جاری کر دی ہے تو یہ کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اس فنڈ کا بروقت استعمال کرتے ہوئے اپنے فرائض دیانت داری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات انشاء اللہ جب بھی بہتر ہونگے اور معمولات زندگی دوبارہ شروع ہونگے کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا اور اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کو کنزیومر ایسوسی ایشن  کی جانب سے خط لکھا جائیگا۔ کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کرونا وائرس کی وباء سے متاثر ہونے والوں اور غریب ونادار طبقہ کی بھلائی کیلئے اس فنڈ کو کب اور کیسے استعمال کیا۔کوکب اقبال نے امید ظاہر کی کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی فنڈ کے تحت کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیاں اپنا کردار ادا کریں گی۔