شاہکار تجربے صرف پاکستانی حکمران ہی کرسکتے ہیں

حیرت کی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی شیر چیتا جیسی فورس بنانے کا خیال کیوں نہیں آیا۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ امریکہ میں انتظامی ادارے فعال اور منظم ہیں اور جب بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے تو حکومت کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ویسے بھی امریکہ میں صدر قواعد اور ضوابط کا پابند ہوتا ہے اورایساذرا مشکل ہے کہ وہ یکایک اس بات کا ارادہ کرلے کہ وہ سارے سرکاری انتظامات چھوڑ کر ایک ذاتی فورس تشکیل دے کر اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا مقابلہ ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ ایسے نوجوانوں کے ساتھ کرے گا جن کا اس میدان میں کوئی تجربہ نہیں۔اس قسم کے شاہکار تجربے صرف پاکستانی حکمران ہی کرسکتے ہیں۔ایک طرف تو اس قسم کی سوچ اس بات کی عکاس ہے کہ ہمارے محترم وزیر اعظم ملک کے مستند اداروں پر اعتماد نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ سڑک سے اٹھ کر آنے والا نوجوان ایسے تجربہ کار افراد سے کہیں زیادہ فعال ثابت ہوگا جن کی تربیت ہی اس قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے کی جاتی ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ ملک میں ۲۰۰۵ کے زلزلوں سے لے کر ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ کے ملک گیر سیلابوں میں مثالی خدمات انجام دیں اور جہاں لاکھوں جانوں کو بچایا وہاں ان سانحات کے بعد متاثرہ لوگوں کی بحالی میں بھی مثالی کردار ادا کیا۔ میں ان سانحات کے وقت ایک ایسی کثیر القومی کمپنی میں کام کرتا تھا جو انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھتی تھی تو مجھے بھی ان اداروں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔اس وقت تو ملک کے کسی بھی حصے میں رسائی کوئی مسئلہ نہیں مگر اس سے پہلے کے سانحات میں چاہے وہ زلزلہ ہو یا سیلاب لوگوں تک رسائی ہی تو مشکل کام تھا۔ اس کے باوجود متاثرین تک امدادی سامان پہنچایا گیا اور ایسے علاقوں میں بھی جہاں انسان جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا لوگوں کی امداد کی گئی۔ان اداروں میں نہ صرف تجربہ ہے بلکہ جیسا ہم دیکھ چکے ہیں ملک کی خدمت کا جذبہ بھی ہے۔انہیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دینا اور لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف تجربے کرنا ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے۔معاملہ اس لئے بھی سنگین ہے کہ اس موذی مرض کی تباہ کاریوں کے معاملے میں وقت سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا اس کا پھیلائو بڑھے گا اور اس وقت لوگوں کو فوری اپنے گھروں میں روکنا بہت ضروری ہے جس کے لئے ان کی بروقت اور اپنے اپنے گھروں میں امداد ضروری ہے جو صرف ایسے ادارے کرسکتے ہیں جو اس کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہوں اور اس سے پہلے اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی استعداد کا مظاہرہ کرچکے ہوں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ نہ جانے کیسے ہمارے وزیر اعظم کو خیال آیا کہ اس وقت کوئی ادارہ اور کوئی تنظیم لوگوں تک امدادی سامان نہیں پہنچا سکتی جس کے لئے جیسا انگریزی محاورہ ہے پہیے کی پھر سے ایجاد وقت کی ضرورت ہے۔بس یکایک اعلان ہوگیا کہ خان صاحب سب پر عدم اعتماد کرتے ہوئے خود اپنی ایک فورس بنائیں گے جس کا نام بھی وہ سوچ چکے تھے یعنی ٹائیگر فورس۔ایک تو تعجب کی بات یہ ہے کہ ویسے تو خاں صاحب کی سب سے بڑی حریف جماعت مسلم لیگ نون کا نشان شیر سمجھا جاتا ہے مگر انتخابی نشان دیکھیں تو وہ اصل میں چیتا یا ٹائیگر ہے۔اب سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنے سب سے بڑے حریف کے انتخابی نشان سے نام لے کرایک حکومتی فورس بنانے کے پیچھے کیا منطق ہے اور کیا اس نازک وقت میں بھی عوام کے فوری مسائل سے صرف نظر کرکے مستقبل کی سیاسی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ویسے بھی اس قسم کی ذاتی فورس کا شوق شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بھی تھا جنہوں نے سرکاری سرپرستی میںایف ایس ایف بنائی تھی اور اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مخالفین کو کچلنے کے لئے ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کر سکیں اور کسی ایسی سرکاری تنظیم کا سہارا نہ لینا پڑے جو اس قسم کے کاموں کے لئے قانونی اور اخلاقی جواز کا مطالبہ کر بیٹھے۔یہ جو ہزاروں نوجوان یکایک ایک فورس بن جائیں گے اور اپنے اختیارات نہ تو دستور سے اور نہ ملکی قوانین سے بلکہ براہ راست وزیر اعظم سے حاصل کریں گے تو ان کی وفاداری بھی براہ راست وزیر اعظم سے ہی ہوگی اور وہ ہر اس شخص کو جو جائز یا ناجائز وزیر اعظم پر تنقید کررہاہو اپنا اور وزیر اعظم کا دشمن سمجھیں گے اور جب یہ جنون بڑھ جائے گا تو حکومت مخالفین ملک دشمن تصور ہونگے اور جیسے بھٹو صاحب کی ایف ایس ایف مخالفین کا حشر کرتی تھی یہ بھی کریں گے۔ویسے بھی اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حکمراں جماعت کا حمایتی نوجوان طبقہ چاہے سوشل میڈیا ہو یا دو بدو مقابلہ کچھ لگی لپٹی نہیں رکھتا اور سیاسی حریفوں کو چور ملک دشمن اور نہ جانے کیا کیا سمجھتا اور ان جرائم کے معاملے میں خود ہی ان کے ملزم ہونے کا اعلان کرکے ان کی سزائیں بھی تجویز کرتا ہے۔ اب تو یہ سب ایک فورس کا رکن بننے جا رہے ہیں خدا خیر کرے۔خیر یہ تو مستقبل کے بارے میں خدشات تھے اس وقت تو پورا ملک ایک موذی وبا کی لپیٹ میں ہے اور ہمیں اس کے پس منظر میں ہی اس قسم کے اقدامات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔ اب کہا یہ جا رہا ہے کہ ابھی تو یہ ٹائیگر فورس بنے گی پھر اس میں سے بھی چھانٹی ہوگی یعنی کہیں کوئی کم عقیدہ تو اس کا ممبر نہیں ہوگیا اور پھر اس کی تنظیم کے خدو خال کچھ واضح ہونگے اور اختیارات کیا دیئے جائیں گے اس کا بھی تفصیلی جائزہ لینا ہوگا تو یہ ایک آدھ دن کا کام تو نہیں۔ جب یہ فورس کسی شکل میں آجائے گی تو پھر اس کی ٹریننگ بھی ہوگی اور اس کا یونیفارم بھی منظور ہوگا پھر تقسیم بھی ہوگا۔ اس دوران لاک ڈائون جاری رہے گا اور غریب دو وقت کی روٹی کے لئے اس فورس کے مکمل اور فعال ہونے کا انتظار کرتا رہے گا۔یہ کوئی بڑا خوش کن منظر نہیں ہے ۔خدا کرے ہمارے خدشات غلط ثابت ہوں۔ایک اور بات جس کی اب تک وضاحت نہیں ہوسکی ہے کہ صوبوں میں اس فورس کا کیا کردار ہوگا اور کیا صوبائی حکومتیں اس قسم کی کسی مادر پدر آزاد فورس کو اپنے صوبے میں دندناتے ہوئے برداشت کرلیں گی۔ مطلب یہ کسی طرح سے بھی دیکھیں اس وقت یہ قدم اٹھانا مناسب نہیں لگ رہا اور اس سے صوبوں میں جاری کام بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیا ٹائیگر فورس جس علاقے میں اور جس گھر میں راشن پہنچائے گی اس کی صوبائی یا مقامی حکومت کو پیشگی اطلاع دے گی اور اس بات کا اطمینان کرے گی کہ تقسیم منصفانہ ہو اور نہ کوئی رہ جائے اور نہ کسی کو ضرورت سے زیادہ مل رہا ہو۔ایسا تو نہیں ہوگا کہ صوبہ سندھ میں ٹائیگر فورس گورنر ہائوس کی نگرانی میں چل رہی ہو اور وزیر اعلیٰ کے انتظامی ڈھانچے کو اس کی سرگرمیوں کی کان و کان خبر نہ ہو۔ابھی تو بھرتی کا عمل شروع ہوا ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق لگ بھگ تین لاکھ نوجوان جس میں آٹھ ہزار خواتین بھی شامل ہیں اس فورس میں شامل ہونے کے لئے درخواست دے چکی ہیں۔ایک ایسے ملک میں جہاں بے روزگاری عام حالات میں بھی آسمان کو چھو رہی ہو ان مشکل حالات میں یہ رضاکار بھی پر امید ہونگے کہ انہیں ان کے کام کا معقول مشاہرہ دیا جائے گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وفاق کے پاس اتنے فنڈ ہیں کہ وہ امداد کے علاوہ چار پانچ لاکھ نوجوانوں کو چاہے کم ہی مگر کوئی بھی مشاہرہ دے سکے؟ سب جانتے ہیں کہ اس وقت ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت پوری دنیا میں پیٹرول کی قیمت کے زمین بوس ہوجانے کے باوجود ابھی تک عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دے سکی ہے تو یہ اضافی خرچہ کیسے برداشت کرے گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سارے منصوبے پر ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور کوشش یہی کی جائے کہ ان مستند اداروں سے کام چلایا جائے جو اس سے پہلے اپنی مہارت اور قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔

Zia-ul-Islam-Zubairi-nawaiwaqt