کیا عمران خان ،جہانگیر ترین اینڈ کمپنی کے جوابی وار کے لئے تیار ہیں ؟

وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں ایف آئی اے کے ہاتھوں شوگر مافیا بے نقاب ہو چکی ہے اور اس عمل میں پاکستان تحریک انصاف کے سب سے پاپولر اور طاقتور لوگ بھی مشکل میں آگئے ہیں ۔
ایف آئی اے کی تہلکہ خیز رپورٹ آنے کے بعد پورے ملک میں سب کی نظریں جہانگیرترین خسروبختیار مونس الہی اور سلیمان شہباز کی طرف اٹھی ہوئی ہیں سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا بڑے بڑے نام جو سامنے آئے ہیں حکومت ان کو گرفتار کر سکے گی یا یہ معاملہ سیاست کی نظر ہو جائے گا ؟
کیا وزیراعظم عمران خان اپنے ہی قریبی ساتھیوں اور دوستوں اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف ایکشن لینے کے بعد سکون انداز سے حکومت چلا سکیں گے یا پارٹی کے اندر نہیں توڑ پھوڑ شروع ہوجائے گی اور آنے والے دنوں میں خود وزیراعظم عمران خان کے خلاف گھیرا تنگ ہو گا اور اگر جہانگیرترین اینڈ کمپنی کی سیاست خطرے میں ہے تو کیا خود وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین اینڈ کمپنی کے جوابی وار کے لئے تیار ہیں ؟

شوگر مافیا کے بے نقاب ہونے کے بعد کابینہ میں ہونے والی ردوبدل اور آنے والے دنوں کی سیاست پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ملک بھر میں تبصرے جاری ہیں اور مبصرین اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ۔

اس حوالے سے مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر اپنی رپورٹ میں رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بہت بڑا قدم ہے جو عمران خان نے اٹھایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کے اندر بہت بڑی مخالفت برداشت کرنی پڑے گی جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو چھوٹے لوگ نہیں ہیں سیاسی طور پر ان کا بہت بڑا قدم ہے خاص طور پر جہانگیر ترین کا پارٹی میں بڑا نام ہے اور پارٹی پر کافی کنٹرول ہے اب یہ عوامی طور پر اعلان کرنا کہ جہانگیر ترین اس بحران کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے کروڑوں روپے کا فائدہ اٹھایا ہے ان کی سیاست پر ایک سوالیہ نشان لگا رہا ہے کیا وہ تحریک انصاف کے حوالے سے آپ سیاست کر سکیں گے یا اس پلیٹ فارم سے ان کی سیاست ختم ہوجائے گی میرا نہیں خیال کہ وہ کسی اور پارٹی میں جاکر سیاست کر سکتے ہیں یہ بہت بڑا دھچکا ہے جبکہ خسروبختیار اس حوالے سے ریکور کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ براہ راست ان کا نام نہیں آرہا ان کے بھائی اور رشتہ دار کے تھرو ان کا نام آرہا ہے جبکہ مونس الٰہی کا نام بھی موجود ہے کافی دنوں سے وزیراعظم سے درخواست کی جا رہی تھی کہ مونس الہی کو وزیر بنا دیا جائے لیکن وہ اس معاملے کو ڈال رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ مونث کے خلاف نیب میں انکوائری ہو رہی ہے شاید عمران خان تو کو کر رہے تھے ۔
اب دو باتوں کی توقع ہے کہ 25 کے بعدمزید کیا کوئی انکوائری ہوتی ہے یا عمران خان کو اسی وقت ٹریفک کر لیا گیا ہے تیسری تھیوری یہ ہے کہ خود عمران خان نے کسی اور کو میسج دیا ہے کہ دیکھو یہ ہمارے لوگ تھے جہانگیرترین وغیرہ اور ہم نے ایکشن لے لیا ہے اب کھیلوں جاکر ۔

جہاں تک پہلی دو باتوں کا تعلق ہے تو یہ شوگر مافیا اتنی طاقتور ہے جس طرح اس ملک میں آٹوموبائل مافیہ سیمنٹ مافیا آٹا مافیا اور دیگر معافیہ ہیں یہ حکومت سے زیادہ طاقتور لوگ ہیں کوئی حکومت ان کو قابو نہیں کر سکتی اب قانونی طریقہ کیا ہے اگر فرانزک رپورٹ 25 کو آتی ہے تو دو طریقے بچ جائیں گے یا تو نیب کے پاس جائے گا یا یہ معاملہ ایف آئی اے کے پاس جائے گا نیب کی پروسیکیوشن کا حال ہم دیکھ چکے ہیں اور ایف آئی اے کی عدالتوں میں بھی جو حالت ہے ایک ایک وکیل کے پاس بہت سے کیسز ہیں اور ان کے سامنے دھانسو قسم کے کروڑوں روپے فیس لینے والے بڑے بڑے وکیل آجائیں گے تو ان کے سامنے ایف آئی اے کے وکیل ٹک نہیں سکیں گے لہذا ان چاروں بڑے ناموں نے انکوائریوں سے بچ جانا ہے آج نہیں تو چند مہینے بعد یہ صاف بچ کر باہر نکل آئیں گے جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ پچیس چالیس کے آس پاس یہ لوگ گرفتار ہوجائیں گے لیکن یہ لوگ مجھے نہیں لگتا کہ گرفتار ہوں گے پروسیکیوشن بھی ان پر الزامات ثابت نہیں کرسکے گی اس کے بعد اپوزیشن حکومت کے خلاف کھیلے گی اس معاملے کی تفصیل میں جائے گی کہ چینی کی قیمت بڑھانے کی آخری اجازت اور منظوری اس نے دی تھی ویسے تو یہ ڈیمانڈ سپلائی کا معاملہ ہے سی سی آئی اکنومی کمیٹی فیصلے کرتی ہے لیکن وہ عمران خان کی سربراہی میں فیصلے ہوتے رہے ہیں اب اگر حفیظ شیخ کو وزیراعظم نے اختیار دیا ہے تو وہ دیکھیں گے کے وزیراعظم کے پی ایس او اعظم خان کی طرف سے کیا ہدایت دی گئی تھی کیونکہ ہدایت و وزیراعظم کے کہنے پر اعظم خان نہیں جاری کی ہوگی قانون کیا کہتا ہے کہ چار لوگ سلیمان شہباز سمیت ہر الزام انکوائری سے بچ جائیں گے لیکن بعد میں سرالزام وزیراعظم ہم کے اوپر آجائے گا کیونکہ ان کے دستخط تو ریکارڈ پر مل جائیں گے یہ کیس خود وزیراعظم کو ٹارگٹ کر لے گا ایک طرف وزیراعظم اس طاقتور مافیا کو پکڑنے جھگڑنے اور ایکسپوز کرنے کی کوشش تو ضرور کر رہے ہیں لیکن یہ مافیاز ہر حکومت میں باقی رہ جاتی ہیں یا نام آپ غور سے دیکھیں آپ کو ماضی کی ہر حکومت میں نظر آئیں گے کیونکہ ان کے مفادات ایک ہیں 25 تاریخ کے بعد وزیراعظم کے اوپر بہت بڑی آزمائش ہوگی سوال اٹھے گا وہ کسی اور سے انکوائری کراتے ہیں یا یہ معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو بیچتے ہیں اب یہ معاملہ آگے بڑھے گا مافیا کو ایکسپوز کر دیا ہے تو یقینی طور پر یہ لوگ بھی ردعمل دیں گے اتنا پیسہ رکھ کر خاموش نہیں بیٹھیں گے وزیراعظم کے خلاف ایکشن میں آئینگے آنے والے دن وزیراعظم کے لئے مشکل ہوتے جائیں گے ہارڈکور پی ٹی آئی کے لوگ ناراض ہیں دوسری طرف پارٹی کے اندر دوسری پارٹیوں سے آنے والے وزیر بھی ناراض ہیں آخری کور میٹنگ میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ ٹائیگر فورس بنانیکی سے ہے کہا گیا کہ اعجاز چودھری سے پوچھیں وہ پیپر بنا رہے ہیں وہ کہاں گیا یہ اگر پیپر ورڈ مکمل نہیں تھا تو اس کو اناؤنس کرنے کی کیا ضرورت تھی جتنا وقت گزرے گا ہمیں لوگوں کے جواب دینے میں مشکل ہو گی پی ٹی آئی کے اندر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں دوسری پارٹیوں سے بھی لوگ رابطہ کرنے شروع ہوگئے ہیں اور مقتدر حلقوں سے بھی رابطے شروع کیے گئے ہیں پی ٹی آئی کے اپنے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہمارا وقت کم رہ گیا ہے اگر ایسا ہے تو آنے والے وقت میں ہمارا کیا ہوگا ہمارا بندوبست کیا جائے ۔
اب اس ساری صورتحال میں سوال یہ ہے کہ کیا بڑے بڑے نام پکڑے جائیں گے یہ ہمیشہ کی طرح نشاندہی کرنے والا ہی نقصان اٹھائے گا