شہنشاہوں میں سے کتنے شہنشاہ ہیں جن کی کمائی حلال کی ہے

ہمارے اردگرد ایسے کتنے ہی کورونا ہیں، جن کا اعلیٰ درجے کا خوبصورت لائف اسٹائل دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ کاش ان جیسا ہوا جائے مگر جب ان کی ہولناکیوں پر نظر پڑتی ہے تو ان سے خوف آنے لگتا ہے۔ ان کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی کاریں ہیں، ان کے گھر دیکھیں تو مولانا طارق جمیل کی زبانی سنے اور پڑھے ہوئے وہ محل یاد آ جاتے ہیں جو جنتیوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں ملیں گے۔ ان کے بچوں کی شادیوں پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ دلہن کا جوڑا جو صرف ایک رات کے لئے ہوتا ہے، اس کی قیمت سے بیسیوں غریب بچیوں کی شادی ہو سکتی ہے۔ لاکھوں روپے شادی کے ایک ایک نظر کی متحرک تصویروں پر خرچ کر دیے جاتے ہیں۔

صرف یہی نہیں، شادی کی تقریبات کم از کم ایک ہفتے تک جاری رہتی ہیں، میں ان پر اٹھنے والے اخراجات اور ان تقریبات کی رنگینیوں کی تفصیل کیا بیان کروں مگر ان شہنشاہوں میں سے کتنے شہنشاہ ہیں جن کی کمائی حلال کی ہے۔ یہ کالا پیسہ ہے رشوت کا۔ ذخیرہ اندوزی کا، بلیک مارکیٹنگ کا۔ کھربوں روپوں کے سودوں سے ملنے والی کمیشن کا۔ قومی خزانے میں ہونے والی خورد برد کا۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد لوٹ مار، حرام کاری، ضمیر فروشی اور بہت سارے طبقوں کی ملی بھگت کے نتیجے میں وہ ’’کورونا‘‘ سامنے آتا ہے جو دیکھنے میں دلکش ہے مگر کروڑوں زندگیوں کو ایک طویل عرصے سے چاٹتا چلا آ رہا ہے مگر ان کے بارے میں کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ اس کورونا سے ڈرنا نہیں، اس سے لڑنا ہے-
جنگ میں عطاالحق قاسمی کے مضمون سے اقتباس