1981ء میں شائع شدہ کتاب ’’آئیز آف ڈارک نیس‘‘ میں وائرس کا نام بھی ووہان 400 رکھا گیا ہے

تحریر:عظمیٰ گل دختر جنرل (ر) حمید گل

انبیاء کرام کو جب لوگوں کی قیادت اور رہنمائی کا فرض سونپا جاتا تو اللہ سبحان و تعالیٰ پہلے انکی تربیت کرتا، ان میں فہم و فراست پیدا کرتا، حالات کی سختیوں، سردی گرمی سے گزارتا۔ صبرو حوصلہ، جرأت و ہمت کی تربیت سے گزر کر ہی انبیاء کرام کو لوگوں کے مسائل حل کرنے کا ادراک حاصل ہوتا۔ انبیاء کرام کی زندگیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ ان پر لمحہ بہ لمحہ مشکلات سے نمٹنے کیلئے وحی نہیں اتارتا تھا بلکہ کڑی تربیت کے ذریعے ان کو معاملات حل کرنے کا فہم، فراست اور حکمت و دانائی حاصل ہوتی تھی۔آج ساری دنیا میں کورونا کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک ہی اس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ بے انتہا بے بسی اور بے کسی کا احساس تمام امیدوں، منطقوں اور سائنسی ترقی پر انحصار کرنے پر، غالب آتا جا رہا ہے۔ آئے روز نت نئی سازشوں کے انکشاف ہو رہے ہیں۔ کبھی معلوم ہوتا کہ اسرائیل نے کافی عرصہ سے وائرس کی ویکسین تیار کر رکھی ہے اور انتظار میں ہے کہ جب پوری دنیا میں وائرس سے لاکھوں اموات ہو جائیں تب وہ مجبور اور لاچار قوموں سے ویکسین کی من مانی قیمت وصول کر سکے گا۔ کہیں ڈالروں کے عوض، کہیں مخالف مذہبی رجحانات سے چھٹکارے کی صورت میں اور کہیں اپنے آپ کو تسلیم کروانے کی صورت میں۔

ویکسین کی خاطر دنیا اسرائیل کی ہر شرط ماننے پر تیار ہو جائے گی۔ یوں پوری دنیا پر ایک چھوٹا مگر طاقتور گروہ حکمرانی کرنے میں کامیاب ہو جائیگا۔ کبھی معلوم ہوتا ہے کہ امریکی اور یہودی مل کر دنیا کی آبادی کو کم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ایسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے عمر رسیدہ افراد جو معاشرے کو کچھ دینے کی بجائے بیماریوں کے باعث اپنی حکومتوں پر بوجھ ہیں سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائیگا جبکہ غریب ممالک میں وباء کا مؤثر علاج نہ ہونے کے باعث کثیر تعداد میں اموات سے آبادی کا تناسب بھی قابل ذکر حد تک گھٹ جائیگا۔ کہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی صنعت کاری اور دنیا بھر کی منڈیوں میں رسائی سے خائف امریکہ نے یہ وائرس چین میں پھیلایا تاکہ وہ وباء کے ہاتھوں بے بس ہو جائیں اور وہاں سے ہر قسم کی آمدو رفت اور مال کی ترسیل بند ہو جائے۔ اس دوران امریکہ اپنی ڈوبتی ہوئی معیشت کو ’’دھکا سٹارٹ‘‘ کر کے پیدا ہونے والا خلاء کو پر کر لے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چین نے بر وقت سخت ترین انتظامات سے وائرس کے پھیلاؤ کو روک کر وائرس امریکہ میں واپس چھوڑ دیا اور اب امریکہ کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ ادھر یورپ بھر میں یہ وائرس قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ عمر رسیدہ افراد تو اس کا شکار ہو ہی رہے ہیں جوان اموات کا تناسب بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ میں وائرس اور اسکی ویکسین 2016ء میں رجسٹر ہو چکی ہے اور یہ وائرس سماوی آفت نہیں بلکہ لیبارٹری میں تیار کی گئی انسانی کاوش کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 45سال پہلے یہودی ربی سے جب یہ پوچھا گیا کہ دنیا پر آپ کا حکمرانی کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا تو کیا کریں گے تو انہوں نے جواباً کہا ایسی صورت میں ہم ایک قدیمی وائرس کو جگا دینگے۔

اسی طرح سلویا براؤن کی ’’اینڈ آف ڈیز‘‘ کتاب میں وائرس کے شروع ہونے کے متعلق تفصیل سے پیشین گوئی کی گئی ہے۔ سال2020 میں نمونیا کی طرح کی وباء کا دنیا بھر میں پھیلنا اور پھر اچانک غائب ہو جانے کا بتایا گیا ہے۔ ایسے ہی 1981ء میں شائع شدہ کتاب ’’آئیز آف ڈارک نیس‘‘ میں وائرس کا نام بھی ووہان 400رکھا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس بطور جنگی ہتھیار تیار کیا گیا ہے اور یہ صرف انسانی جسم میں ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے بھی زندہ انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’راکی فیلر فاؤنڈیشن‘‘ کا ایک تحقیقی مقالہ جو کہ 2010ء میں شائع ہوا‘ مستقبل کے ایسے بین الاقوامی وائرس کا تذکرہ کرتا ہے جس کیلئے ماسک پہننا، جسمانی ٹمپریچر لینا، قرنطینہ کرنا، کرفیو لگانا اور ’’لاک سٹیپ‘‘ یعنی لاک ڈاؤن کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے اپنے نرم اور کمزور رویئے کی وجہ سے بہت جانی نقصان اُٹھایا جبکہ چین نے زبردست انداز میں لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کر کے اپنی آبادی کو محفوظ کر لیا۔ تمام تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں اور بالآخر وقت گزرنے کے ساتھ لوگ ایسے رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور رضاکارانہ اپنے جان و مال کے تحفظ کیلئے اس طرز زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں مذہب اور دینی اقدار کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اس مقالے میں گھوم پھر کر بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ جمہوریت سے مسئلے حل نہیں ہو سکتے، عوامی رائے کی بجائے اوپر سے فیصلے ہونے چاہیں اور عوام کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ وباء کے بہانے قانون سازی اور لا محدود اختیارات حکمرانوں کو عارضی نہیں بلکہ مستقل طور پر تفویض کئے جانے چاہئیں۔ اس طرح حکمران اپنی عوام پر فاشسٹ انداز میں مکمل قابو رکھ سکیں گے جس کی تازہ مثال اسرائیل، برطانیہ، ہنگری، چلی، جنوبی کوریا، اردن، سنگاپور وغیرہ ہیں۔ ان سب نے وباء پر قابو پانے کیلئے ایسے لا محدود اختیارات حاصل کر لئے ہیں جن کا وباء ختم ہونے کے بعد بھی واپسی کا امکان نہیں۔ ان آمرانہ قوانین کی آڑ میں حکمران خود کو مزید مضبوط کرینگے،

مخالفت کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی جائے گی اور جمہوریت صرف نام کی ہی رہ جائیگی۔ ایسے بہت سے ایجنڈے، سازشیں اور ہتھکنڈے پوری دنیا میں معاشی، انتظامی اور میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے آزمائے جاتے رہے ہیں اور اب بھی کوششیں جاری ہیں۔ ریاستوں کے اندر چھپی ہوئی ریاستیں چالیں چلتی رہیں گی۔ وائرس نے جیسے تمام دنیا کی معیشتوں کو بٹھا دیا، جس طرح انسانی جان نازک ثابت ہوئی اور جس طرح دنیا کے تمام کاروبارِ زندگی تھم گئے، ان سے دنیا میں رائج انسانی نظاموں کی بے ثباتی بھر پور طریقے سے عیاں ہو گئی ہے۔ بندہ بندے سے بیزار ہے، انسان انسان سے گھبرا رہا ہے، گھروں میں مقید لوگوں کو وائرس کے خوف نے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ فی الحال وائرس تو ایک ٹریلر تھا۔ لگتا ہے کہ خفیہ ایجنڈے رکھنے والے پہلے مرحلے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے تحفظ کے لیے قرنطینہ اور کرفیو قبول کر لیا ہے۔ ابھی مزید سرنگوں ہونا باقی ہے۔’’وہ ایک چال چلے اور اللہ بھی ایک چال چلا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘ آل عمران 54دنیا چاہے کچھ بھی کر لے، جتنی چاہے چالیں چل لے، بالآخر وہی ہو گا جو اللہ سبحان و تعالیٰ کی مشیت ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی، حق اور ناحق کی جنگ ازل سے جاری ہے اور تاابد جاری رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران اور عوام اللہ سبحان و تعالیٰ کی مشیت کا ادراک کرتے ہوئے اسکی رضا سے جڑ جائیں۔

حکمرانوں کو مستقبل میں آنے والی مشکلات کیلئے موثر حکمت عملی اپنا کر، عوام کو ان سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار کرنا پڑے گا۔ عوام کی رائے اور حکومت کی سوچ کو ایک صفحے پر لانا ہو گا۔ فتنے تو آتے رہیں گے، کبھی وباء کی صورت میں، کبھی ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے لائے ہوئے زلزلوں اور سیلاب کی صورت میں۔ انسانی آفات کے علاوہ آسمانی آفات بھی صبرو حوصلے سے جھیلنا پڑیں گی۔ تبدیلی باہر سے نہیں، ہمیں اپنے اندر لانے کی
ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی اوپر سے نیچے تک اور نیچے سے اوپر تک ہونی چاہیے۔ تب ہی ہم آئندہ آنے والی آفات کا مقابلہ کر سکیں گے۔ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل پر بھی یکسو ہونا ہو گا۔ورنہ اس بےحسی کا خمیازہ پوری امت،بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔ رب تعالیٰ کی رضا میں اپنی سوچ کو ڈھال لینے میں ہی ہماری نجات ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے حکمران اور ہم اپنا قبلہ و کعبہ درست کر لیں اور اپنے برے اعمال کی توبہ کریں۔ یاد رہے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ ’’رب العالمین‘‘ ہے۔ اس نے ہم مسلمانوں سے کوئی عہد نہیں کیا کہ ہم چاہے جو کچھ کرتے پھریں ہر مشکل سے بالآخر نکل بھی جائیں گے اور بخشے بھی جائیں گے آج بھی ہو جو ابراہیمؓ کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا۔
jang