غیر قانونی چیئرمین فشریز حافظ عبد البر کا 16 ہزار سے زائد ماہی گیر خاندانوں کو گھروں پر راشن پہنچانے کا حیران کن دعویٰ

کرونا وائرس کہ پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے متاثرہ ماہی گیر حکومتی امداد کے منتظر ہیں کراچی سے بدین تک کے ساحل پر مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر اس وقت انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کا شمار پاکستان کے انتہائی پسماندہ اور غریب طبقے میں کیا جا سکتا ہے ایک دن مچھلیاں پکڑنے کا موقع نہ ملے تو ان کی زندگی میں پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔
ان حالات میں چیئرمین فیشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی حافظ عبدالبر کی جانب سے یہ حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے کہ انہوں نے سولہ ہزار سے زائد ماہیگیروں کے گھر پر راشن پہنچا دیا ہے اور یہ راشن کراچی سے بدین تک ماہی گیروں کے گھروں تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ماہی گیر رہنماؤں اور ماہی گیروں نے اس حیران کن دعوے پر اپنا سر پیٹ لیا ہے اور حیران ہیں کہ یہ راشن کب اور کہاں اور کن کے گھروں پر پہنچایا گیا ہے ۔
ماہی گیر کئی مہینوں سے عبد البر کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ان کا کہنا ہے کہ عبدالبر غیر قانونی طور پر اس عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں 28 اکتوبر 2019 کو ان کی معیاد پوری ہوچکی ہے اس کے بعد ان کے اقدامات غیر قانونی اور احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس کے باوجود انہیں چند طاقتور شخصیات کی پشت پناہی کی وجہ سے کھلی چھوٹ حاصل ہے اور اب وہ اپنے غیر قانونی احکامات اور اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لیے میڈیا کے ایک حصے کے ساتھ مل کر چند فوٹوشوٹ اور ویڈیوز بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے تمام ماہیگیروں کے وہی رکھوالے ہیں اور انہوں نے تمام ماہیگیروں کے گھروں پر راشن پہنچا دیا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔
عبد البر اپنے معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے سرکاری فنڈز کا بے دریغ استعمال کرکے حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں یاد رہے کہ جنوری فروری میں بھی ماہی گیروں نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین عبدالبر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا کراچی ماہی گیر اتحاد کی جانب سے کراچی پریس کلب پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں کراچی اور دیگر ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں نے شرکت کی تھی ان ماہی گیروں میں بابا اور بیٹ آئلینڈ ابراہیم حیدری ریڑھی گوٹھ ماریپور کھڈا اور کلری سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر بھی شامل تھے اس موقع پر ڈاکٹر یوسف نئے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں اور سندھ حکومت سے یہ مطالبہ کرنا بالکل درست ہے کہ وہ چیئرمین کو اس کے عہدے سے ہٹائے کیونکہ وہ کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں اور دیگر ایسے معاملات میں ملوث ہے جس کی وجہ سے اس ادارے کو روزبروز بھاری نقصان ہو رہا ہے اور اس ادارے کی قیمتیں پراپرٹیز اور بینکوں میں پڑے سرمائے کو بے دریغ انداز سے استعمال کرکے اپنی جیب بھری جا رہی ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے حافظ عبد البر کے غیر قانونی کاموں پر آنکھیں بند کرلی گئی ہیں اور لب سی لیے گئے ہیں اس موقع پر بھی احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت چیئرمین فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی کرپشن کے خلاف انکوائری کروائے تاکہ یہ حقیقت سامنے آئے کے ماہی گیروں کے فنڈز اور ماہی گیروں کے حقوق پر کس نے کتنا ڈاکہ ڈالا ہے ۔
واضح رہے کہ فیشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی 1945 میں کھڈا میں قائم کی گئی تھی اس کا قیام سوسائٹی ایکٹ 1925 کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور یہ ایک کمرشل ادارے کے طور پر کام کرتی ہے جس کا مقصد ماہی گیروں کی مدد کرنا اور ان کے مسائل کو حل کرنا اور ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے جال اور نائیلون کے حوالے سے ضروری اقدامات پر بندوبست کرنا ۔جبکہ سابق فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1950 کی دہائی کے آخر میں کراچی فش ہاربر قائم کی تھی اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کو اسے سنبھالنے اور آپریٹ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور ماہی گیروں کی ویلفیئر کے کام کرنے تھے ایک قائد اور قانون کے مطابق پکڑی گئی مچھلی کی فروخت پر 6.25 فیصد کمیشن طے کیا گیا ہے جس کا نصف مول ہولڈرز کے لئے ہے اور باقی ایف سی ایس کو اپنا آپریشن جاری رکھنے کے لئے مدد دیتا ہے