بحران پیدا کرنے والے قومی مجرموں کی پکڑ بھی واجد ضیا کی جے آئی ٹی کے باعث ممکن ہوئی

عمران خان کی حکومت میں چینی اور آٹا بحران پیدا کرنے والے قومی مجرموں کی پکڑ بھی واجد ضیا کی سربراہی میں کام کرنے والی جے آئی ٹی کی وجہ سے ممکن ہوئی وہی واجد ضیا جسے پی ٹی آئی کے کارکنان قیادت اور امی نواز شریف کے خلاف جے آئی ٹی کے دنوں میں بہت پسند کرتے تھے وہی واجد سے اب پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ان لٹیروں کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ اور صوبائی حکومت میں وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کی کابینہ میں رہ کر خوب لوٹ مار مچائی ۔
جنگ کراچی میں اسد ابن حسن کی رپورٹ کے مطابق
چینی اور آٹا بحران کی جے آئی ٹی جس کے سربراہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء تھے جبکہ ممبران میں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب محمد گوہر نفیس اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو مبارک زیب تھے ان کے دستخطوں سے دونوں رپورٹیں پہلے وزیراعظم ہاؤس بھجوائی تھیں۔ مذکورہ رپورٹوں میں سے آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر وزیراعظم ہاؤس پر 5 اعتراضات تحقیقاتی کمیٹی کو بھجوائے گئے اور ان کے جواب 20 مارچ 2020ء کو دوبارہ وزیراعظم ہاؤس بھجوائے گئے اور اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں رپورٹوں کو پبلک کردیا جائے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جو پانچ سوالات بھجوائے گئے، ان کے جوابات یہ تھے: سوال نمبر 1، صفحہ نمبر 12 کے پیرا نمبر 40 میں بتایا گیا ہے کہ فلور مل مالکان جوکہ کسی نہ کسی طرح سیاسی تعلق رکھتے تھے، ان کو فائدہ پہنچا۔ اس حوالے سے کمپٹیشن کمیشن کا کیا کردار رہا اور کیا اس کمیشن نے فلور مل مالکان کے خلاف کوئی تحقیقات اور اس کو بے نقاب کرنے کی کوئی کوشش کی۔ جواب:کمیٹی نے کمیشن کے

ریکارڈ کی جانچ کی اور اس کے نمائندوں کو بھی سنا۔ کمیشن نے جو 2017ء میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کیں اور 13 دسمبر 2019ء کو اس پر 75 ملین جرمانہ عائد کیا جس کے خلاف پی ایف ایم اے نے عدالت میں درخواست دائر کی جو ابھی زیرالتوا ہے۔ کمیشن نے 30 جولائی 2019ء میں فنانس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ پی ایف ایم اے آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی ذمہ دار تھی۔ سی سی پی نے دسمبر 2019ء میں پی ایف ایم اے کے آفس کی حدود میں کارروائی کی اور ریکارڈ دیکھا اور پھر باضابطہ انکوائری شروع کی جو تاحال جاری ہے مگر وہ بہت سست روی کا شکار ہے۔ سوال نمبر 2، وفاقی اور صوبائی سطح کے افسران جو اس بحران میں ملوث پائے گئے تھے، ان کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کا موقع دیا گیا کہ نہیں۔ اگر نہیں تو انہیں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سنا جائے۔ جواب:دوران انکوائری ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر افسران کو ذمہ دار سمجھا گیا اور ان کی سنوائی بھی ہوئی جس میں سابق وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان، خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک قلندر لودھی، سابق ڈائریکٹر فوڈ کے پی کے سعادت حسین، وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری اور سابق ڈائریکٹر فوڈ پنجاب ظفر اقبال شاکر شامل تھے۔ ان سے پوچھے گئے سوالات اور جوابات رپورٹ میں شامل ہیں۔ سوال نمبر 3، کمیٹی کو چاہیے کہ وہ سندھ میں گندم کی خریداری نہ کرے اور ساتھ ہی منافع کمانے والوں کے بابت بھی بتائے۔ جواب: یہاں پھر واضح کیا جاتا ہے کہ سندھ کابینہ نے ان سمریوں پر جو فوڈ ڈپارٹمنٹ نے بھیجیں تھیں، ان پر عمل نہیں کیا اور اسی لیے گندم کی پروکیورمنٹ نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے افواہیں بھی سننے کو ملیں کہ ایک بہت اعلیٰ شخصیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ سب کیا گیا۔ گندم کی پرائیویٹ پارٹیوں سے خریداری کی دستاویزات نہیں مہیا کی گئیں، جس سے تحقیقات میں کافی مشکلات آئیں۔ سوال نمبر 4، کے پی کے اور پنجاب کے وزیر اور سرکاری حکام کو اس بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ جواب: کمیٹی نے پنچاب کے وزیر اور فوڈ ڈپارٹمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ سوال نمبر 5، یہ بتایا جائے کہ ای سی سی اور کابینہ کے گندم کی برآمد جو پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اس میں میدہ اور سوجی کی برآمد بھی شامل تھی۔ جواب:مذکورہ نوٹیفکیشن جو گندم یا آٹے کی برآمد پر پابندی کے حوالے سے جاری ہوا، اس میں میدہ اور سوجی شامل نہیں تھے۔ واضح رہے کہ ان دونوں رپورٹوں میں سب سے اہم بات یہ ہے کے تحقیقاتی کمیٹی نے کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف کاروائی کی سفارش نہیں کی جیساکہ عموماً ماضی میں جے آئی ٹی کرتی رہی ہے۔