داؤدابراہیم کیسے انڈرورلڈ کا بے تاج بادشاہ بنا ؟

داؤد ابراہیم کا نام آپ سب نے سنا ہوگا ہندوستان میں تو بہت زیادہ مشہور ہے اور ہندوستان کی پولیس یہ نام سن کر کانپ اٹھتی ہے ۔خاص طور پر مہاراشٹر کی پولس ۔داؤدابراہیم انڈرورلڈ دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے داؤدابراہیم درمیانہ قد سانولی رنگت اور خاموش طبع انسان ۔اس سے ملنے والا کوئی بھی شخص یہ گمان نہیں کر سکتا کہ اس نے امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے افسروں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں وہ بھارت میں دہشت گرد جبکہ غریبوں میں روبن ہوڈ اور غریب پرور کے طور پر مشہور ہے ۔لیکن وہ ہے کہاں ؟کسی کو کچھ معلوم نہیں اور جسے معلوم ہے وہ کچھ بول نہیں سکتا ۔جنوبی ایشیا میں اسمگلنگ کو اگر کسی شخص نے صنعت کی حیثیت دی اور اس کے ذریعے بے تحاشا دولت اور شہرت حاصل کی تو وہ داؤد ابراہیم کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ۔یہ شخص مکمل طور پر رپورٹس اصرار ہے ایک مسٹری ہے اور کوئی شخص اس تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا ۔اس بارے میں تمام لب خاموش ہیں کہتے ہیں بد اچھا بد نام برا ۔بھارت میں داؤد ابراہیم کو ایک ایسا ڈان بناکر پیش کیا گیا جسے گیارہ ملکوں کی خفیہ ایجنسی اور کئی ملکوں کی پولیس 1995 سے تلاش کر رہی ہے انٹرپول کی 2008 کی تیار کردہ فہرست کے مطابق اس کا نام دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب 10افراد میں چوتھے نمبر پر ہے داؤد ابراہیم کا نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مجرمین کی فہرست میں بھی شامل ہے انٹرپول کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کر چکی ہے جس کا مطلب ہے اسے کہیں پر بھی دیکھا جائے تو گرفتار کرلیا جائے گرفتاری پولیس کے لئے لازمی ہے اس کا شمار دنیا کے دولت مند ترین لوگوں میں بھی کیا جاتا ہے فوبز میگزین نے اس کا نام 57 ویں نمبر پر رکھا ہے جسے طاقتور ترین شخص قرار دیا گیا ۔داؤد ابراہیم کا کاروبار ہندوستان پاکستان سری لنکا تھائی لینڈ نیپال ملائیشیا یواے جرمنی فرانس برطانیہ کے علاوہ افریقہ کے کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے ایک اندازے کے مطابق داؤدابراہیم کی دولت 900 ارب روپے ہے یہ صرف ایک اندازہ ہی ہے کوئی بھی آدمی اس کے بارے میں بالکل درست بات نہیں بتا سکتا ۔
انڈیا کے سب سے بڑے جاسوسی ادارے سی بی آئی کے مطابق وہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے 13 مختلف ناموں کا استعمال کرتا ہے ۔
مہاراشٹرا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والا داؤدابراھیم اتنا بڑا زور اور ڈون بند کیسے گیا یہ کہانی بذات خود ایک فلمی کہانی لگتی ہے اور بالی وڈ کی کئی فلمیں داؤد ابراہیم کی زندگی اس کے حالات اور اس کی ڈی کمپنی کے حوالے سے بنائی جا چکی ہیں ۔داؤد ابراہیم ایک پولیس کانسٹیبل شیخ ابراہیم علی کا ذکر اور آمنہ بیگم کے گھر 27 دسمبر 1955 کو مہاراشٹراکے ضلع رتناگیری کے گاؤں میں پیدا ہوا پیدائشی سرٹیفکیٹ میں اس کا نام شیخ ابراہیم داؤد لکھا ہوا ہے اسے شیخ ابراہیم حسن کے نام سے بھی اکثر لوگ پکارتے ہیں 5 فٹ 4 انچ کے اس نوجوان نے اپنے والد کے ساتھ ممبئی کا رخ کیا ابراہیم کا شمار ایماندار پولیس افسروں میں ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پولیس کے محکمے میں ان کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔

لیکن داؤد ابراہیم اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے بمبئی کی ایک اور دنیا سے زیادہ متاثر ہو گئے اور یہ دنیا تھی انڈرورلڈ ۔

بتایا جاتا ہے کہ اندر ہوں بمبئی میں افغانستان سے آنے والے پٹھانوں کا بہت دباؤ تھا یہ لوگ تاجروں کو رقم قرض کے طور پر دیتے تھے اور ان کی وصولی کا طریقہ کار کافی سخت تھا وصولی کے لیے اغوا اور قتل جیسے واقعات سے بھی گریز نہیں کرتے تھے اور طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ نبی کی پولیس ان پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتی تھی جنوبی بمبئی کی پولیس کو ان افغانوں کی وجہ سے کافی سردی تھی انسپیکٹر رنبیر وہاں تعینات تھا اس کی فکر ہمیشہ یہی تھی کہ کس طرح افغان پٹھانوں کی سرگرمیوں کو قابو کیا جائے ایک دن وہ اپنی گاڑی پر جارہا تھا سگنل پر رش تھا وہ نیچے اتر آیا دیکھا کہ ایک نوجوان اپنے سے ڈبل سائز کے پٹھان کی کوٹ لگا رہا ہے باقاعدہ مارپیٹ جاری تھی پٹھان کے منہ سے خون نکل رہا تھا انسپکٹر نبی نے پوچھا تم کون ہو تو مار پیٹ کرنے والے نوجوان نے بتایا میرا نام داؤد ابراہیم ہاور میرے والد پولیس میں کام کرتے ہیں وہ انسپیکٹر داؤد ابراہیم کو لے کر تھانے آگیا ۔پولیس کو ان دنوں فلم شعلے کی طرح مجرموں کو ختم کرنے کے لئے ایک گینگ بنانے کا خیال آیا تھا انہوں نے داؤد کو بھی اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ افغان گینگ سے ٹکر لے اور ممبئی پولیس کی مدد کرے گی ۔
اس طرح داود ابراہیم انڈرورلڈ کے ایک امیر زادہ پٹھان کے ساتھ منسلک ہو گیا اور مستقبل کے لیے جرائم کی دنیا کا راستہ اختیار کر لیا اور یہ راستہ خود ممبئی پولیس نے اسے دکھایا تھا اینکر اسٹریٹ اور محمدعلی روڈ کے ایک معمولی سے شخص نے زندگی میں آگے بڑھ کر انڈرورلڈ کے بے تاج بادشاہ کی حیثیت اختیار کرلی ۔
اپنے مخالفین کو رفتہ رفتہ راستے سے ہٹا کر وہ بالآخر بمبئی کا ڈون بن گیا امیرزادہ پٹھان کے بعد اس کا تعلق حاجی مستان اور کریم لالہ سے بھی رہا اسی کی دہائی میں جرائم کی دنیا میں حاجی مستان کا طوطی بولتا تھا اس نے داؤد ابراہیم کے سر پر ہاتھ رکھا اس کے بعد داؤد ابراہیم نے خود مختار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں جو امیرزادہ پٹھان گینگ کو بہت ناگوار گزری یہ گینگ دو بھائیوں امیرزادہ پٹھان اور عالمزیب پٹھان کے سر پر چلتا تھا دونوں بھائی کریں ملالہ کے لیے کام کرتے تھے انہوں نے جرائم کی دنیا میں ابھرتے ہوئے نوجوان داؤد ابراہیم کو اپنے راستے سے ہٹانے کی پوری کوشش کی انیس سو اکیاسی میں ایک حملے میں داؤد کا بڑا بھائی صابر ان دونوں بھائیوں کے گینگ کے ہاتھوں مارا گیا ۔

داؤد اس وقت مشہور ہوا جب اس پر بمبئی کے انڈرورلڈ کے دو بڑے دادا عالم زیب اور امیر زادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا اسی کی دہائی میں بمبئی پولیس نے داؤد ابراہیم کو گرفتار بھی کیا لیکن وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دبئی چلا گیا وہ اسے سونے کی اسمگلنگ میں ہاتھ ڈالا اور پھر بالی وڈ کی فلمی صنعت میں پیسہ لگایا اور جائیداد بنانی شروع کر دی اس وقت تک عام لوگ اس کے نام سے زیادہ شناسا نہیں تھے لیکن نوے کی دہائی تک وہ انڈرورلڈ کی دنیا کا ڈان بن چکا تھا اور اربوں ڈالر کے اثاثے بنا چکا تھا ۔

پولیس کے مطابق قانون سے بچنے کے لئے وہ انیس سو چھیاسی میں دبئی چلا گیا تاہم انڈرورلڈ کارروائیاں اس وقت بھی جاری تھی اور فلم انڈسٹری پر بھی وہ اثر بڑھاتا گیا کی فلم سازوں اور مخصوص اداکاروں کو پیسے دینے کا الزام بھی لگا اس کے قریبی دوستوں کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی اس کی پیش کش کو ٹھکرانے کی ضرورت نہیں کر سکتا ۔بالی ووڈ میں ان کی دلچسپی اور سرمایہ کاری اس وقت سامنے آئی جب وہ شارجہ کرکٹ میچ میں کئی بھارتی فلم اسٹارز کے ساتھ نظر آئے ۔سنا ہے وہ آج کل بھی بھارتی فلم سازوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ان سے ملنے والوں میں سلمان خان گوندا انیل کپور سنجے دت سمیت بہت سے نام شامل رہے ۔

بالی وڈ میں ان کے اثر رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک فلم میں جب امیتابھ بچن نے داؤد ابراہیم کے اسٹائل میں ڈائیلاگ بولا تو ان کی طلبی ہوگی اور داؤد ابراہیم نے ایک زوردار دھماکہ چہ رسید کردیا ۔
بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کرکٹ میں 17 اور جواں ہوں یا عصمت فروشی سے لے کر کوئی بھی جرم ہو ہر جرم اور ہر زندہ کا الزام پر داؤد ابراہیم کے سر پر ڈالتی رہی ۔

سال 1993 میں ممبئی میں ہونے والے تیرہ دھماکوں کے بعد اسے اس وقت شہرت ملی جب بمبئی پولیس نے الزام لگایا کہ ان دھماکوں کے پیچھے ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم کا ہاتھ ہے اس وقت داؤد ابراہیم دبئی میں نظر آئے تھے کہا جاتا ہے کہ بمبئی میں چھوٹا راجن سے ان کے تعلقات ممبئی کے دھماکوں کے بعد ختم ہوگئے تھے چھوٹا راجن بعد میں تھائی لینڈ میں قاتلانہ حملہ ہوا ۔
داؤد ابراہیم کا نمبر تو چھوٹا شکیل جس کے گروہ میں ابوسالم بھی شامل تھا وہ بعد میں اس گروپ سے الگ ہوگیا ۔پولیس نے دعوی کیا تھا کہ اسے گرفتار کیا گیا پولیس کے مطابق وہ بم دھماکوں کا اہم ترین کردار تھا ان دھماکوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے داؤد ابراہیم کے دیگر بااعتماد ساتھیوں میں ان کا بھائی انیس اور اقبال کا سگر خود بھائی پولیس نے پکڑ کر بھارت کے حوالے کردیا تھا اور آج بھی وہ بھارت کی اسی جیل میں ہیں ۔

داؤد بھارتی پولیس کو مطلوب ترین افراد میں شامل ہے داؤد اور بھائی انیس پر 1993 کے دھماکوں جن میں 257 لوگ مارے گئے تھے ان کی منصوبہ بندی کا الزام ہے جب کہ 700 لوگ زخمی ہوئے تھے کہاگیا کہ یہ بم دھماکے 1992 کے ہندو مسلم فسادات کے نتیجے میں انتقام میں کیے گئے ان فسادات میں سینکڑوں مسلمانوں کو بے دردی سے گجرات میں شہید کر دیا گیا تھا اب انڈین حکام کا کہنا ہے کہ داؤد پاکستان آ چکا ہے اور اس کا رابطہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ ہے دہلی نے داؤد کو بھارت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ داؤد ہمارے پاس نہیں ۔آخری بات دعوت کو دبئی میں دیکھا گیا تھا اس لیے دبئی سے پتہ کریں ۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ داؤد ابراہیم نے 1990 کی دہائی میں افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا وسیع پیمانے پر منشیات کی سمگلنگ کا دھندہ بھی شروع کیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان جسے منشیات کا گڑھ کہا جاتا ہے افغانستان سمیت دنیا کے دیگر مغربی ملکوں میں کہیں بھی کوئی ایک بھی منشیات کا کیس داؤد ابراہیم کے خلاف درج نہیں ہے ۔جبکہ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں بھی داؤد ابراہیم کو لپیٹا جاتا ہے اسے ملوث کیا جاتا ہے اور بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کو داؤد ابراہیم نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی ۔
ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی حملہ کیس میں گرفتار ہونے والے واحد شخص اجمل قصاب نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا دہشت گردی میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد اور ہتھیار اس کو داؤد ابراہیم کی تنظیم نے مہیا کیے تھے جبکہ اس حقیقت کا سب کو اندازہ ہے کہ اجمل قصاب سے کیا کچھ نہیں کہلوایا گیا ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھیں جس میں کہہ رہا تھا کہ بھگوان کے لیے مجھے چھوڑ دو ۔

داؤد کی ایک بیٹی مشہورِزمانہ کرکٹر جاوید میانداد کے بیٹے جنید کے ساتھ بیاہی گئیں اور جاوید میانداد کے مطابق جنید کی ملاقات اپنی بیگم سے لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہوگئی تھی کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک بیٹا حافظ قرآن بھی ہے اور سننے میں آیا ہے کہ داؤد کی زندگی میں انقلاب آچکا ہے اور وہ مذہب کی طرف بہت زیادہ مائل ہو چکا ہے اکثر شناخت بدل کر مکہ اور مدینہ بھی جاتے رہتے ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں گجرات کے مسلمانوں میں داؤد ابراہیم کے بارے میں بہت اچھے خیالات پائے جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ آج بھی بمبئی میں داؤد ابراہیم بھائی کا خفیہ راج ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت پاکستان بنگلہ دیش سری لنکا میں بااثر ترین حکومتی شخصیات بھی ان کے ذاتی دوستوں میں شامل ہیں ۔
بھارتی سی بی آئی کا دعوی ہے کہ وہ دبئی میں رہتے ہیں لیکن وہ کس وقت کہاں آتے جاتے ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم مگر کسی کو معلوم ہے تو وہ ان کے دوستوں کو اور ان کے دوست اس حوالے سے کچھ نہیں بولتے ۔
پولیس کے پاس ان کی پہچان اور تصاویر موجود ہیں لیکن کوئی بھی ان کو کہیں پہچان نہیں پایا نہ ہی وہ کہیں پولیس کو نظر آئے ۔
بھارتی پولیس کے لئے داؤد ابراہیم کا نام ایک ڈراؤنا خواب ہے جسے سنتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں ۔
کچھ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ دو سال سے طبیعت خراب ہے انڈین میڈیا میں تو خبریں آتی رہتی ہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں بعد میں ان کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ انڈین میڈیا کی خبریں غلط نے ۔
داؤد ابراہیم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ سچے ہیں یا غلط ۔اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا یا خود داؤدابراھیم یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ کب دنیا کو سچائی بتانا چاہتے ہیں ۔

نوٹ۔ ۔۔۔۔۔۔یہ تھا آج کا مبشرلقمان یوٹیوب اسپیشل پروگرام ۔
اس پروگرام میں خود مبشر لقمان نے بتایا تھا کہ آج ایک بڑا ھی دلچسپ موضوع لے کر آیا ہوں اس میں کچھ انفارمیشن غلط ہوسکتی ہے کچھ انفارمیشن سے ہی ہو سکتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتے ہیں جس کے بارے میں کچھ بھی نہ پتاہواور پھر آپ اس کے بارے میں ریسرچ کرتے ہیں تو آپ کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ یہ انفارمیشن کہاں سے آئی اور کیسے لگ گئی اور کئی مرتبہ فارمیشن بھی ہوتی ہے لیکن ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ یہ ساری انفارمیشن بڑی کلیئر ہو ۔