چینی بحران رپورٹ: شواہد بتارہے ہیں وزیراعظم کرپٹ، نالائق ہے، شاہد خاقان عباسی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چینی کے بحران پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شواہد، دستاویزات اور ریکارڈ بتا رہا ہے کہ وزیراعظم کرپٹ بھی ہے اور نالائق بھی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چینی بحران پر مرتب کی گئی رپورٹ میڈیا پر لیک ہوئی، حکومت نے جاری نہیں کی۔

مزید پڑھیں:چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ قوم کے سامنے حقائق لانا ضروری ہے کیونکہ لوگ پوچھ رہے ہیں چینی میں 40 فیصد اضافہ کیسے ہوا، چینی برآمد کرنے کی اجازت کس نے دی ان سوالوں کے جواب معلوم کریں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رمضان میں چینی کی قیمت میں 100روپے اضافہ ہونے کاخدشہ ہے۔

چینی پر دی جانے والی سبسڈی پر وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں چینی پر سبسڈی دی گئی جو وقت کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں چینی 55 روپےفی کلوفروخت ہورہی تھی جبکہ فروری 2020 میں 80 روپے فی کلو پر چلی گئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے 3ارب روپے کی سبسڈی صرف پنجاب میں دی گئی لیکن اس سبسڈی کا فائدہ کسانوں کو نہیں ہوا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج جوعوام کے وسائل پرڈاکا ڈالا گیا اس کی وجوہات کچھ اورہیں۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شواہد، دستاویزات اور ریکارڈ بتارہا ہے کہ وزیراعظم کرپٹ بھی ہے اور نالائق بھی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے کہا کہ چینی کی ڈکیتی کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی وجہ سے ہوئی، کابینہ کا سربراہ وزیراعظم اور ای سی سی کا سربراہ وزیر خزانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے اس لیے وزیراعظم اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مافیا کا سربراہ تو وزیراعظم خود ہے، وزیراعظم کو ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف فرد جرم ہے، شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ جس شخص نے رپورٹ لکھی اور اس کے دو ساتھی ارکان ہی کمیشن میں بھی شامل ہیں، رپورٹ لکھنے والا اور ارکان وہی ہیں تو پھر کمیشن سے کیا حاصل ہوگا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملی بھگت سے عوام پر 100 ارب روپے کا ڈاکا ڈالنے والی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا حق نہیں، فارنزک آڈٹ کی ضرورت نہیں، مال تو حکومت کی پالیسی میں گڑ بڑ کرکے کمایا گیا۔

کمیشن بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کمشن 100 ارب روپے کا ڈاکا ڈالنے والوں کو بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرجب حکومتی پالیسی کوکرپشن کرنے کے لیے توڑ مروڑیں گے تو ان کے نام بھی لیں گے، حکومتی کرپشن یہاں ختم نہیں ہوئی، پورٹ اینڈ شپنگ، پیٹرولیم، توانائی اور خزانہ کی وزارتوں میں کیا ہورہا ہے، سارا پاکستان جانتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان اس کرپشن کا متحمل نہیں، آنے والا وقت خوف ناک اور غیر معمولی ہے، جو حکومت چینی کا انتظام نہ کرسکے، وہ ملک کو ایک سمت بھی نہیں دے سکتی۔

چینی بحران کے حوالے سے حکومتی ترجمان کے بیان کانام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کا اس برآمد سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی فائدہ اٹھایا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کی کل 3 شوگر ملیں ہیں، جن میں سے چوہدری شوگر مل تین سال سے بند ہے جبکہ رمضان شوگر مل اور العریبیہ نے موجودہ حکومت کے دوران کوئی سبسڈی نہیں لی۔

مزید پڑھیں:چینی بحران کی رپورٹ میں شریف خاندان کی بدمعاشی بے نقاب ہوگئی، فردوس اعوان

گزشتہ روز معاون خصوصی برائے اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چینی کو دی گئی سبسڈی سے شریف خاندان نے بھی فائدہ اٹھایا اور ان کی بدمعاشی بے نقاب ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پچھلے 4 برس جب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی 22 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی’۔

سلم لیگ (ن) کے صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کتنا اچھا ہوتا کہ وہ 22 ارب روپے جو ان کے دور میں سبسڈی کی شکل میں دیا گیا اس میں سے ایک ارب 40 کروڑ روپے شریف خاندان نے سلمان شہباز شریف کے ذریعے لی جو اس رپورٹ میں شامل ہے’۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتائے گئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ رپورٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف فرد جرم ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگ زیب نے فردوس عاشق اعوان کے بیان کو حقائق مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ چینی کے بحران پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے گئے ہیں جس کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو (جہانگیر خان ترین) کو ہوا اور اس نے مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:حقائق مسخ کرنے سے وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب کی چوری چھپ نہیں سکتی،مریم اورنگ زیب

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سب سے زیادہ فائدہ آر وائی کے گروپ کو ہوا جس کے مالک مخدوم خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان ہیں اور انہوں نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ 20 روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

اس گروپ کے مالکان میں چوہدری منیر اور مونس الہٰی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے بعد تیسرے نمبر پر زیادہ فائدہ المُعیز گروپ کے شمیم احمد خان کو 16 فیصد یعنی 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی صورت میں ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی عوام کو گندم، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت ایک فیصد زیادہ ہوئی، پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی’۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو 2 طرح سے فائدہ ہوا، پہلا انہوں نے سبسڈی حاصل کی دوسرا یہ کہ انہوں نے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے سے فائدہ اٹھایا جو دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔

ملک میں چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں 2018 میں چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کی عوام کو گندم، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی

رپورٹ کے مطابق 2018 میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس وقت میں ملک میں چینی ضرورت سے زیادہ تھی، اس لیے مشیر تجارت، صنعت و پیداوار کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کی جس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھی منظوری دی، حالانکہ سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے اگلے سال گنے کی کم پیداوار کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم چینی کی برآمد کی اجازت دے دی گئی اور بعد میں پنجاب حکومت نے اس پر سبسڈی بھی دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے مئی 2019 تک پنجاب میں چینی کی برآمد پر سبسڈی دی جاتی رہی، اس عرصے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 71 روپے ہوگئی، لہٰذا چینی برآمد کرنے والوں کو دو طریقوں سے فائدہ ہوا۔

تحقیقاتی رہورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک یہ کہ انہوں نے 3 ارب روپے کی سبسڈی حاصل کی جبکہ مقامی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کا بھی انہیں فائدہ ہوا۔
dawnnews-report