مشیر تجارت رزاق داؤد کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا

آٹا اور چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کے بعد وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کرتے ہوئے متعدد وزرا کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے بعد مشیر تجارت رزاق داؤد کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔

آٹا اور چینی بحران کی رپورٹ کے بعد کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مشیر تجارت رزاق داؤد کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، رزاق داؤد کو چیئرمین شوگر ایڈوائزری بورڈ کےعہدے سے بھی ہٹایا گیا ہے
وفاقی وزیر خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل کر کے اکنامک افیئر کی وزارت سونپ دی گئی ہے جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی کا وزیراعظم نے استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور ان کی جگہ ایم کیوایم کے امین الحق کو ٹیلی کمیونی کیشن کا قلمدان دے دیا گیا ہے۔

فخرامام کو وزارت فوڈ سیکیورٹی کا قلمدان دیا گیا ہے اور بابر اعوان کی کابینہ میں واپسی ہوئی ہے انہیں وزیراعظم کے پارلیمانی امور کا مشیربنایا گیا ہے۔

اسی طرح حماداظہر کو وزیر صنعت کاقلمدان سونپا گیا ہے جب کہ وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔