وفاقی وزیر غذائی تحفظ خسروبختیار نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا

وفاقی وزیر غذائی تحفظ خسروبختیار نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے، خسروبختیار نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا ہے کہ میرا اس اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ہے، مجھے وزارت خوراک کی ذمہ داریوں سے الگ کیا جائے۔ انہوں نے وزیراعظم کو خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ آٹا اور چینی بحران میں میرا نام لیا جا رہا ہے۔
جبکہ میرا اس اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کبھی بھی ای سی سی کے فیصلوں پر حاوی ہونے کی کوشش نہیں کی۔میں چاہتا ہو ں کہ مجھے وزارت خوراک کی ذمہ داریوں سے الگ کیا جائے۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کردیا ہے، اعظم سواتی، ارباب شہزاد ، خسروبختیار ،حماد اظہرسمیت دیگر کی وزارتیں اور محکمے تبدیل کردیے گئے، بابر اعوان کو مشیر بنا دیا اور خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے آٹے اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کردی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بابراعوان پارلیمانی امورکا مشیرمقرر کردیا ہے۔ سید فخرامام کو وزیرنیشنل فوڈ سیکیورٹی لگا دیا گیا۔
مخدوم خسروبختیار وزیراقتصادی امور ہوں گے۔ اعظم سواتی کو نارکوٹکس کنٹرول اور حماد اظہرکو وزیر صنعت لگا دیا گیا۔ ایم کیوایم کے امین الحق کو وزیربرائے ٹیلی کام مقرر کردیا جبکہ خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے۔
ہاشم پوپلزئی کو سیکریٹری نیشنل فوڈ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیرخوراک پنجاب سمیع اللہ چودھری نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام ہے کہ وزارت خوراک کے اصلاحات نہ کرنے سے گندم بحران پیدا ہوا، جب تک الزام سے بری نہیں ہوجاتا وزارت نہیں سنبھالوں گا۔