میٹرک پاس گورنر کو ہٹا کر نجیب ہارون کو گورنرسندھ بنایا جائے

ملک کے حکمرانوں کو فکر لگ گئی ہے کہ اگر کراچی میں مسلسل لاک ڈاون رہا تو پورے ملک میں فاقے پڑ جائیں گے کیونکہ اس کرونا نے ثابت کر دیا ہے کہ کراچی پورے ملک کو سندھ سمیت پال رہا ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ سندھ کی کرپٹ ترین حکومت جو کرونا کے نام پر بھی مال بنانے پر لگی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔واجد ضیاء کی سربراہی میں جی آئی ٹی بنا لیں ثابت کر دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیئے سندھ حکومت کو ختم کر کے گورنر راج لگا دیں اور زردار و فریال و مراد کو تختہ دار پر چڑھا دیں۔۔۔۔اب تو یہی حل رہ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کام کے لیئے گورنر عمران اسماعیل میڑک پاس نہیں چلے گا.کہتے ہیں کہ وہ ان سے ملنے کے لیئے آنے والوں سے کبھی کہتے ہیں کہ 15 آدمیوں کے لیئے برنس روڈ سے ناشتہ لے آئو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سابق جج اور مشہور لائیر خواجہ نوید احمد بتاتے ہیں کہ وہ ان سے ملنے گورنر ہاوس گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔گورنر صاحب فرمانے لگے کہ بیٹھو میں سب کے لیئے برنس روڈ سے ناشتہ منگواتا ہوں۔پھر انہیں نے وہاں ان سے ملنے کے لیئے آنے والوں سے یہی بات کی،لیکن پیسوں کی کوئی بات نہیں کی یعنی لانے والا اپنی جیب سے لائے گا۔۔۔۔۔۔۔ تو کبھی ان سے ملنے کے لیئے آنے والوں سے بوتل لانے کی فرمائش کرتے ہیں لیکن پیسوں کی کوئی بات نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کام کے لیئے پی ٹی آئی کے سب سے کوالیفائڈ ایم این اے نجیب ہارون(ایم ایس سول انجیئر فرام امریکا) ہی سب سے بہترین چوائس ہے۔
انہیں پہلے گورنر بنایا جائے پھر یہ سب کاروائی کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ورنہ عمران اسماعیل جیسے میڑک پاس کے ہوتے ہوئے کراچی میں سندھ حکومت سے زیادہ تباہی پھیلے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیئے ایم این اے نجیب ہارون ہی گورنر کے لیئے سب سے بہترین چوائس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقتدر حلقوں پاکستان کے اصل حکمرانوں کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔کیونکہ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ سندھ حکومت دنیا کی کرپٹ ترین حکومت ہے جو کرونا میں بھی مال بنانے پر لگی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی فش ہاربر سے بڑا گھر 2 کروڑ روپے ماہانہ لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔عذیر بلوچ۔۔۔۔۔۔۔۔سعید خان۔۔۔۔۔۔۔نثار مورائی کی جے آئی ٹی پڑھ لیں۔۔۔۔۔۔ورنہ واجد ضیاء کو سندھ حکومت کا پوسٹ مارٹم کے لیئے جے آئی ٹی کا سربراہ بنا دیں۔۔۔۔دیکھیں کیسے زردار۔۔۔فریال۔۔۔مراد کی چیخیں نکلتی ہیں۔۔۔۔۔اب پنجاب سے آئے ہوئے کو فش ہاربر کا چیئرمین نمازوں کی امامت کے لیئے تو نہیں بنایا۔۔۔۔۔۔۔28 اکتوبر 2019 کو اس کی معیاد پوری ہو گئی ہے پھر وہ کیسے غیر قانونی طور پر چیئرمین بنے ہوئے ہیں اور غیر قانونی احکامات جاری کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔آخر انہیں زردار۔۔۔۔۔فریال ۔۔۔۔۔۔۔مراد کی آشیر باد حاصل ہے ورنہ یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
نجیب ہارون کو پہلے گورنر بنایا جائے پھر یہ سب کاروائی کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ورنہ عمران اسماعیل کے ہوتے ہوئے سندھ حکومت سے زیادہ تباہی پھیلے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

M-Ali-Karachiwala

اپنا تبصرہ بھیجیں