لاک ڈاؤن ۔خدمت کے کاموں میں ایاز موتی والا سب سے آگے اور دوسروں کے لئے ایک روشن مثال

کرونا وائرس پھیلنے کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب اور سفید پوش لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا احساس حکومت اور صاحب حیثیت لوگوں کو بھی ہے حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی اس لیے خدا ترس لوگ خود آگے بڑھ رہے ہیں اور معاشرے میں ضرورت مند اور مستحق لوگوں کی امداد کے لیے خاموشی سے اپنے حصے کا کام کرکے نیکی کما رہے ہیں ۔بے شک انسانیت کی خدمت ہی وہ عمل ہے جو دنیا اور آخرت میں کام آئے گا ۔
انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار چیرمین کراچی تاجر الائنس اور سماجی رہنما ایاز میمن موتی والا ہمیشہ کی طرح اس بحرانی صورتحال میں بھی سرگرم ہیں اور دامے درمے سخنے امدادی کاموں میں مصروف ہیں انہوں نے سید سادات نعتخواں اداکار اسٹیج فنکار بیروزگا صحافی شہید پولیس کے ورثاء اقلیتی برادری سونے کے کاریگروں سمیت مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے سفید پوش طبقے کی مدد کا اعلان ۔500 راشن بیگز سفید پوش خاندانوں کو دینے کا اہتمام وہ لوگ جو اپنی عزت نفس کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا سکتے سوال نہیں کرسکتے ان لوگوں کی خدمت کے لیے یہ شخص اپنی ٹیم کے ساتھ مصروف ہے ۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے ایاز میمن موتی والا کاکہناتھاکہ دولت شان و شوکت اور بڑے بڑے بنگلے کسی کو کرونا سے نہیں بچا سکتے یہ اللہ کا کرم ہے کے بڑے بڑے لوگ اس سے محفوظ ہیں اور ہر جگہ اس کی پریشانی موجود ہے ترقی یافتہ ملکوں میں جس طرح یہ وبا پھیلی ہے وہاں ٹیکنالوجی اور دولت بے بس نظر آئی ہمیں اللہ سے مدد مانگنی چاہیے توبہ کرنی چاہیے اور اسے راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یہ آزمائش کا وقت ہے اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اللہ تعالی کے عذاب سے بچنا چاہیے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اللہ نے جب ہمیں اس قابل کیا ہے کہ ہم دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں ۔
انہوں نے کہا کہ جب کرونا وائرس پھیلا تو لوگ خوفزدہ ہوئے اس لیے سرکاری سطح پر بھی یہ بات کی گئی گلونہ سے ڈرنا نہیں ہے اس کے ساتھ لڑنا ہے آج بچے بچے کی زبان پر یہ جملہ ہے کہ کرو نہ سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے جب لوگوں کو ہمت دلائی جائے لوگوں کو پتہ ہو تو ان کے ساتھ کوئی کھڑا ہے اور ہم آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کریں ایک دوسرے کا خیال رکھیں جہاں ضرورت ہے یہاں مستحق لوگ موجود ہیں وہاں تک راشن پہنچانا چاہیے وہاں تک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جو بھی امدادی کام ہو رہے ہیں ان کو آگے بڑھانا چاہیے اور بتانا چاہیے نشاندہی کرنی چاہیے کہ کہاں زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہ عثمان پہنچے زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وہ بات سے پیدا ہونے والی صورتحال میں سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کھانے پینے کا سامان محفوظ طریقے سے پہنچایا جا سکے اور یہ سامان زکوۃ یا خیرات کا نہیں بلکہ ہر اس سفید پوش کی مدد ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا سکتا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سب کو متحد کرنے اور اکٹھے ہونے کی صورتحال پیدا ہوئی ہے آزمائش میں یہ قوم ایک دوسرے کی مدد کرنا جانتی ہے ماضی میں جب زلزلہ آیا جب سیلاب آئے اس طرح کی ناگہانی صورتحال میں قوم نے ایک دوسرے کی مدد کی مگر کراچی کے عوام تو اس طرح کے کاموں میں سب سے آگے نظر آتے ہیں انہوں نے بتایا کہ جب سے کرونا وائرس کھایا ہے اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق شہر قائد کی عوام کی مدد کر رہا ہوں اور ہمارا مقصد راشن پیکج کی تقسیم کرتے وقت کوئی فوٹو سیشن ویڈیو یا نمودونمائش نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جو میرے صافی بھائی نعت خواں حضرات فنکار اسٹیج آرٹسٹ اور پولیس شہیدوں کی فیملیاں ہیں اور ان سمیت سید سادات فیملی اس کو جانتے ہیں وہ ہم سے رابطہ کریں ہم ایسے ضرورتمندوں کے گھروں تک راشن پہنچائیں گے ۔

رپورٹ وحید جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں