نیویارک ، چڑیاگھرمیں موجودٹائیگرمیں کوروناوائرس کی تشخیص

نیویارک کے چڑیا گھر میں چار سال کی ملائشین ٹائیگر نادیہ میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے ۔ نیو یارک سٹی میں واقع برونکس چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے نتائج کی تصدیق آئیووا میں نیشنل ویٹرنری سروسز لیبارٹری نے کی ہے۔ چڑیا گھرانتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹائیگرنادیہ سمیت 6 چھ دیگر ٹائیگرزکو کورونا وائرس ان کے رکھوالے سے منتقل ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹائیگر نے گزشتہ ماہ کے آخر میں خشک کھانسی سمیت علامات ظاہر کرنا شروع کی تھیں جس کے بعد ان کا کورونا ٹیسٹ کروایا گیا ، چڑیاگھر کے اس ملازم کی شناخت نہیں ہوسکی جس سے جانوروں کو یہ وائرس منتقل ہوا۔
چڑیا گھر کے چیف ویٹرنری پال کالے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی شخص نے جانور کو متاثر کیا اور جانور بیمار ہو گیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ دوسرے چڑیا گھروں اور اداروں کے ساتھ کوویڈ ۔19 کے پھیلاؤکے بارے میں تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ جانوروں خاص طورپر شیر جیسے جانوروں میں وائرس کیسے پھیلتا ہے ، یہ نئے انفیکشن پر مختلف نوعیت کا اظہار کرسکتے ہیں ، لیکن تمام جانوروں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ چڑیا گھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ نادیہ ، اس کی بہن اذول ، دو عمور کے شیر اور تین افریقی شیر جن میں علامات ظاہر ہوئیں وہ سب جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔
یہ خیال کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ انسان سے جانور میں کرونا وائرس کی منتقلی کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔اس سے قبل ہانگ کانگ اورووہان میں پالتو جانوروں میں کورونا سے متاثر ہونے کا کیس سامنے آیا تھا۔

Courtesy GNN Urdu

اپنا تبصرہ بھیجیں