شورکوٹ کینٹ پولیس عوام کیلئے “کرونا “سے خطرناک ہو گئی

شورکوٹ کینٹ پولیس عوام کیلئے “کرونا “سے خطرناک ہو گئی
دیہات سے آنے والوں کو پکڑ بند کرکے بھاری رشوت لیکر چھوڑ دیا جاتا ہے
ڈی پی او جھنگ کے نام پر بھی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے ذرائع کا انکشاف
قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں، ایس ایچ او نواز نول،پولیس لوٹ مار میں ملوث ہے صحافتی ذرائع

شورکوٹ کینٹ(نمائندہ خصوصی )ملک بھر میں جاری لاک ڈون کی آڑ میں پولیس نے شورکوٹ کینٹ لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا ایس ایچ
او شورکوٹ کینٹ اعلی حکام کے نام پر لاکھوں روپے کی دھاڑیاں لگانے میں مصروف ہیں تفصیلات کے مطابق ملک بھر “کرونا وائرس ” سے بچاؤ کیلئے کیا جانے والا لاک ڈون شورکوٹ کینٹ پولیس کی وجہ سے عوام کیلئے عذاب میں تبدیل ہو گیا ذرائع کے مطابق ایس ایچ او شورکوٹ کینٹ نے ڈی پی او کے نام پر بازار میں ایمرجنسی کی صورت میں آنے والوں کو پکڑ دھکڑ کے بعد تھانے میں بند بند کر کے بھاری رشوت لینا شروع کر دی جبکہ پنجاب بھر عوام کو اشیا ضرورت اور ادویات کی ایمیر جینسی خریداری کیلئے آنے والوں کو پکڑ دھکڑ کر تھا نے میں بند کر دیا جاتا ہے مگر اس پکڑ دھکڑ کا کرونا وائرس کی روک تھام کے حکومتی اقدامات کو شور کوٹ مکمل طور پر ناکام بنانے میں مصروف دیکھائی دیتا ہے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ایس ایچ او شورکوٹ کینٹ فی موٹر سائیکل چھوڑ نے کے 15 سے 20 ہزار روپے وصول کرتے ہیں جبکہ عوام کو اعلی حکام کو بھاری نذرانے دینے کا کہہ کر بھی لوٹ مار میں مصروف ہیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں مین بازار، گوجرہ بازار، منیاری بازار،منڈی روڈ،ٹوبہ ٹیک سنگھ روڈ،رفیقی روڈ ،شورکوٹ سٹی روڈ،سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں شکار کی تلاش میں مصروف ہیں ذرائع کے مطابق مطابق شورکوٹ کینٹ کے اردگرد علاقوں میں ڈبل سواری پر بھی پولیس ایس ایچ او شورکوٹ کینٹ کی سر پرستی 5ہزار تک کی دہاڑی لگانے میں مصروف ہے رابطہ کر نے پر ایس ایچ او شورکوٹ کینٹ نواز نول کاکہنا تھا کہ شورکوٹ کینٹ پولیس قانون کے مطابق کام کر رہی ہے ہمارے ہاں تو لوگ کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے ،رشوت کے الزمات بے بنیاد ہیں دوسری جانب شورکوٹ کینٹ کے صحافتی ذرائع کے مطابق شورکوٹ کینٹ پولیس واقعی لوٹ مار میں ملوث ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں