نئے قانون کے تحت کشمیریوں کو چوتھے درجے کی سرکاری ملازمتیں ملیں گی

مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد مودی سرکا رکی طرف سے کشمیریوں سے اعلی نوکریوں کا حق چھیننا اور اعلیٰ ملازمتوں پر بھارتی شہریوں کا حق قرار دینااور اس ضمن میں اقدامات بروئے کار لاناانتہائی قابل مذمت امرہے اور مقبوضہ وادی کے عوام کوبنیادی حق سے محروم رکھنے کی گھناونی سازش ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کرونا جیسی وباء کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ بھارت نے اپنے طویل محاصرے کی آڑ میں لاک ڈائون پر نئے لاک ڈائون کے تحت بے حسی وسفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیریوں کے خلاف اپنے مذموم عزائم کے تکمیل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی پابندیوں کے باعث عوام کو ہسپتال میں آنے جانے اور وباء کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس امر کا شدید خدشہ ہے کہ بھارت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں نارواسلوک کے باعث کرونا وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے جو کہ نا صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرناک امر ہے۔ مودی سرکار نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کو جاری رکھتے ہوئے مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت وادی میں 15سال سے زائد عرصہ قیام پذیر شخص 10 سال تک تعلیم حاصل کرنے والے غیر رہائشی شخص کو بھی کشمیر کا ڈومیسائل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ اس سلسلے میں بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ نئے قانون کے تحت کشمیریوں کو چوتھے درجے کی سرکاری ملازمتیں ملیں گی۔ اس ضمن میں اگر غور کیا جائے تو یہ غیر قانونی اقدامات جو مودی سرکارکی جانب سے بروئے کار لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

دراصل 5 اگست کو کیئے گئے اس اقدام کے تسلسل کی ایک کڑی ہے جس کے تحت مقبوضہ وادی کی خصوصی اہمیت ختم کی گئی تھی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے موجودہ اقدامات اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہیں۔ حریت کانفرنس کی جانب سے بھی بھارتی اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی مشکلات میں اضافے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ وادی کی جیلوں میں قید کشمیریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت کو چاہیئے کہ غیرقانونی محاصرے کو ختم کرتے ہوئے قیدیوں کو رہا کرے۔ آزادی کی بات کرنے والے بے گناہ کشمیری طویل عرصے سے جیلوں میں سزاکاٹ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی کے ممبران کشمیری رہنمااور صحافی قیدوبند میںہیں اوراب تک ان کی رہائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دنیا کو آج لاک ڈائون کے دوران کشمیری مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں کچھ نا کچھ احساس ہونے لگا ہے۔ خاص طور پر خطے میں بڑی طاقتیں اپنی اپنی سرزمین پر مقبوضہ وادی کا منظر پیش کررہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آزادی کا احساس رکھتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی دل گرفتہ اور انسانیت سوز صورتحال انسانی حقوق کی تنظیموں سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کشمیر کے معاملے پر صدرٹرمپ کی ثالثی کی تکرار موجودہ حالات میں قصہ ماضی بن چکی ہے۔ خطے کے امن کے ضمن میں کام کرنے کی بجائے دفاعی ہتھیاروں کی دلچسپی میں بھارت کا جنون آج کسی کام نہیں آرہا۔ وباء کے پھیلائو نے جہاں پوری دنیا کو بے بس کر کے رکھ دیا وہیں مودی سرکار کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ 5 اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے لاک ڈاؤن کا بغیر کسی غورومشورے کے فیصلہ کیا گیا اور کشمیریوں کی آواز دبانے کے ضمن میں نتیجے سے بے خبر وادی کو جیل نما کوٹھڑی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

تاہم مودی سرکار کی چال تحریک آزادی کشمیر کو اْجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوئی اور بھارت کے حق میں الٹی پڑ گئی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پوری دنیا کو کشمیریوں پر کیئے جانے والے مظالم سے آگاہی حاصل ہوئی اور کشمیریوں کی آواز نمایاں طورپر سنی جانے لگی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میں جن غیرقانونی اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کشمیریوں کے عزم وحوصلے کو پست نہیں کرسکتے نا ان کے آزادی حاصل کرنے کے جذبے کو کم کرسکتے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کو قید کر کے بھارت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگا۔ مسئلہ کشمیربھارت کے حلق کا کانٹا بن چکا ہے۔ خطے کے امن کی راہ میں کانٹا بن چکاہے۔شرمناک اور افسوسناک امر یہ ہے کہ آج پوری دنیا وباء کی زد میں ہے اور انسانیت کو بچانے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف گھنائونے عزائم کی تکمیل میں مصروف ہے۔ کنڑول لائن پر اشتعال انگیز اور جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ سلامتی کونسل اور او آئی سی کو مقبوضہ وادی میں جبری قوانین کے نفاذ کو رکوانے میں کردار اداکرنا چاہیئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے مظالم و غیرانسانی سلوک بند کرانے میں اپنا اہم کردار اداکرے۔ مقبوضہ وادی کے عوام وباء کی وجہ سے اب دوہری مصیبت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے-
Kiran-Aziz-Kashmiri-Nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں