ایک ڈاکٹر صاحب ہاتھ اور لات سے دیوار کو دھکیل رہے ہیں اور دیوار کے پیچھے کورونا نظر آرہا ہے

کل جب میں بعد ازنماز ظہر باہر نکلا تو برادرم سید شفاقت گردیزی کی بیکری کا رخ کیا۔ موصوف ایک معتبر دکاندار ہونے کیساتھ انتہائی نیک دل و ذہین انسان بھی ہیں۔ میں اکثر ان کے پاس، کوئی چیز لینے کا بہانہ بنا کر انکے ساتھ ادبی و معلوماتی گفتگو کی غرض سے جایا کرتا ہوں۔شاہ صاحب نے ہمیشہ کی طرح گفتگو کا آغاز سوال سے کیا ’’سنگھانوی صاحب آپ کیا کہتے ہیں کورونا سے کب تک چھٹکارا حاصل ہو جائے گا‘‘؟جواب میں میں نے کہا، شاہ صاحب وہ تصویر آج کل مشہور ہو رہی ہے یقیناً آپ نے بھی دیکھی ہو گی جس میں دکھایا گیا ہے کہ ’’ایک ڈاکٹر صاحب ہاتھ اور لات سے دیوار کو دھکیل رہے ہیں اور دیوار کے پیچھے کورونا نظر آرہا ہے، وہیں کھڑے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک سپاہی بھی same action but against in wall direction میں دکھائی دے رہا ہے، یہ سپاہی بھی ڈاکٹر صاحب کی طرح عوام کو آگے آنے سے روک رہا ہے‘‘شاہ صاحب اس تصویر کا مقصد ہمارے دونوں اداروں سے وابستہ افراد کی اجتماعی کاوشوں اور ہم عوام کی عدم برداشت کو کھل کر بیان کرتاہے۔ ڈاکٹرز کورونا وائرس پر قابو پانے اور انتظامیہ عوام پر قابو پانے میں مصروف ہے۔تھوڑی سی وضاحت بڑھاتے ہوئے شاہ صاحب نے کہا ’’گردیزی صاحب کل تک تو میں نے نہ منہ پہ ماسک چڑھایا، نہ ہاتھوں کو گلوز سے ڈھانپا، نہ ہر بیس منٹس کے بعد ہاتھ کو بیس سیکنڈز تک دھویا، نہ سینیٹائزر استعمال کیا، حتیٰ کہ محکمہ صحت کے بتائے گے کسی ایک اصول پر بھی عمل پیرا نہ ہوا۔ جو سینیٹائزر کی بوتل بھائی نے مجھے دی تھی وہ کچھ دن پہلے ہی میں نے ایک ڈاکٹر صاحبہ کو گفٹ کر دی جبکہ ماسک اور گلوز بھی مختلف اشخاص کو دے چکا ہوں۔ جو گلوز اور ماسک میرے پاس ہیں وہ بھی کسی کو بطورِ تحفہ صدقہ جاریہ دینے کا سوچ رکھا تھا، مگر اب وہ کسی کو نہیں دینا بلکہ خود استعمال میں لائوں گا۔ کیونکہ پہلے میں اس لیئے احتیاط نہیں کرتا تھا کہ مجھے کورونا وائرس سے ڈر نہیں تھااور اب میں اس لیئے احتیاط کروں گا کہ میرا دن بھرسیکڑوں افراد سے میل جول رہتا ہے۔ اللہ نہ کرے میرا کسی ایک بھی مشتبہ افراد سے پالا پڑ جائے تو اسکے بعد مجھے ملنے والا ہر شخص مجھ سے ناصرف متاثر ہو گا بلکہ مجھ سے متاثر ہو کر لوٹنے والا ہر شخص دوسروں کو متاثر کرے گا اور یوں واحد میری بے احتیاطی سے ناصرف ایک فرد، فیملی، علاقے یا شہر بلکہ پورے وطن کو وسیع پیمانے پر متاثر ہونے کا خدشہ و خطرہ ہوگا‘‘گردیزی صاحب جب تک ہم خود کورونا وائرس کو ختم نہیں کریں گے تب تک نہ صرف باقی رہے گا بلکہ روز بروز بڑھتا رہے گا۔ شاہ صاحب ٹھوس دلائل و کشادہ صلاحیت کے مالک ہونے کے ناطے بہت جلد کسی بات کو ماننے سے انکاری رہتے مگر یہ بات ان کے دماغ میں راسخ ہو چکی تھی۔ ان کے جلد ہی مان لینے سے میں بھی جلد ہی واپس چل دیا۔مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ باشعور افراد بھی بے احتیاطی سے اجتناب نہیں کر رہے۔میرے ایک دوست نے دو دن قبل واٹس ایپ اسٹیٹس کا ایک اسکرین شارٹ میسنجر پر بھیجا، جس میں لکھا تھا ’’اگر کسی کو کہہ دیں گھر رہیں اور ماسک پہنیں تو جھٹ سے جواب ملتا ہے جہڑی رات قبر وچ اے او باہر نہیں‘‘معذرت کیساتھ بات تلخ مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے کچھ ہم وطن دین سے دوری اور جہالت کی بے مثال نظیر پیش کرنے میں سرگرم ہیں۔میں ایسے تمام افراد سے التجا کرتا ہوں جو ٹچ موبائل لیئے، انٹرنیٹ پیکج کروا اور فیس بک اکائونٹ بنوا کر آدھ راہے عالم بننے کے لیے کوشاں ہیں وہ کسی مدرسہ میں داخلہ لیکر باقاعدہ دین کو سیکھ کر عالم بننے کی خواہشات کو جنم دیں۔ میری ان جعلی ’’ادھ راہے‘‘ عالموں سے گزارش ہے خدارا نازک علم اور من گھڑت دلائل سے لوگوں کے ایمان کو خطرے میں ڈالنے سے اجتناب فرمائیں۔ اپنی جان کی حفاظت کرنا سنتِ نبویﷺ بھی ہے اور فرض بھی اور دوسروں کی جان کی حفاظت صدقہ جاریہ۔حضرت عمرو بن شرید نے اپنے والد سے ایک حدیث نقل کی ’’ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھ کا مریض بھی تھا۔ حضرت مُحَمَّد ﷺ نے اسے (دور سے) پیغام بھیجا کہ ہم نے تمہاری بیعت کر لی (ہاتھ ملائے بغیر) اس لیے تم (واپس گھر) لوٹ جائو۔صحیح مسلم حدیث#5822اس حدیث سے ثابت یہ ہوا کہ کورونا وائرس سے بچائو کیلئے ہاتھ نہ ملانا بھی سنت۔’’ایک بیمار اونٹ کے بارے حضرت مُحَمَّد ﷺ نے حکم دیا کہ اسے دوسرے اونٹوں سے الگ کردو تاکہ باقی اونٹ اس کی بیماری سے متاثر نا ہوں‘‘سنن ابنِ ماجہ کی حدیث#4019 میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں ’’جب کسی قوم میں بے حیائی عام ہو جائے اور لوگ اس کا ارتکاب اعلانیہ کرنے لگیں تو ان میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیلنے لگتی ہیں جو انکے آباء واجداد کے زمانے میں نہ تھیں‘‘۔آج کی جدید سائنس کہتی ہے یہ وائرس ہاتھ سے پھیلتا ہے، اسلام نے ہمیں وضو کی صورت اچھی طرح ہاتھ دھونا سکھا دیا اور خود نبی پاک ﷺ نے ہاتھ سے بیعت نہ کر کہ کوڑھ کے مریض سے ہاتھ نہ ملانا بھی سکھا دیا۔ سائنس نے کہا یہ چار دن تک گلے میں رہتا، اسلام نے اسکا علاج وضو میں غرا رہ کرنا سکھا دیا، جدید سائنس نے کھوج لگایا کہ یہ وائرس ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے، اسلام نے اس سے بچائو کیلئے ناک میں پانی چڑھا کر ناک صاف کرنا سکھا دیا۔آج کی جدید سائنس دن رات ’’ترلے‘‘ struggles کرنے کے بعد جو چیزیں جان رہی ہے، ہمارے نبی پاکﷺ کی دہلیز پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے یہ تو ہم مسلمان ساری چیزیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی جان چکے تھے۔آج انگریز دن رات محنت کے بعد جو سائنسی انکشافات کر کے خود کو ترقی یافتہ سمجھ رہے ہیں وہ مشاہدات آج سے صدیوں پہلے ہمارے نبیﷺ کی چوکھٹ پہ پڑے ملتے ہیں۔الحَمْدُ ِللہ ہم مسلمان ہیں اور انگریز جدید سائنس کی تعلیمات میں ہم سے اب بھی ساڑھے چودہ سو سال پیچھے ہیں۔میں اپنے تمام اہل وطن سے ملتمس ہوں کہ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ گھروں میں رہیں، سینیٹائزرز کا باقاعدہ استعمال کریں، ہر بیس منٹس بعد ہاتھوں کو بیس سیکنڈز تک دھوئیں، ماسک و گلوز استعمال کریں اور دیگر ہدایات پر بھی عمل پیرا ہوں۔کورونا وائرس تب تک آپ کے گھر داخل نہیں ہوگا جب تک آپ باہر نکل کر خود نہیں لائیں گے۔
Mutahir-Sanghanvi-nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں