لاک ڈاؤن 14 اپریل سے ختم کردیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ : 14 اپریل کے بعد بندشیں بڑھیں گی یا کم ہوں گی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا. اسد عمر

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہ کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو فوری طور پر واپس نہیں لیا جاسکتا ہے لیکن 14 اپریل کے بعد اسے ختم کردیا جائیگا، یہ لاک ڈاؤن لگانا اور صنعت کا پہیہ کو روکنا آسان فیصلہ نہیں تھا، میرے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا کہ معیشت کو بچانا یا لوگوں کو کورونا وائرس سے بچانا اور میں نے اپنے لوگوں کی حفاظت کا انتخاب کیا۔
یہ بات انھوں نے ممتاز صنعتکاروں اور برآمدکنندگان سے ملاقات میں کہی۔ چھوٹے تاجروں کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی کہ انہیں اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے قرض دیا جائے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا جس طرح پھیل رہا ہے، اس سے موجودہ نظامِ صحت کم پڑ سکتا ہے، ہسپتالوں کو براہ راست سامان کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں. اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر نے کہا کہ بندشوں کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے میں کامیابی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ اگر بندشیں نہ ہوتیں تو کورونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیل سکتا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج نہیں بتا سکتے کہ 14 تاریخ کے بعد بندشیں بڑھیں گی یا کم ہوں گی، اس بارے میں فیصلہ اگلے چند دنوں میں کر لیں گے‘ منفی معاشی اثرات سے بچنے کے لیے حکمت عملی بنا رہے ہیں، ملک میں کورونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں اڑھائی گنا اضافہ ہوا ہے. اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ بندشوں کے باعث منفی اقتصادی اثرات پڑ رہے ہیں، تمام سماجی کارکنوں اور سیکیورٹی اہل کاروں کو پوری قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں جن سے امیر اور غریب دونوں ہی متاثر ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن سے وائرس کا پھیلاﺅ روکنے میں مدد ملی ہے پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے کی رفتار سست ہے جو حوصلہ افزا بات ہے پاکستانی قوم نظم و ضبط کا مظاہرہ کررہی ہے اور یہی اس وبا سے مقابلے کا واحد طریقہ ہے تاہم بعض علاقوں میں احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد نہیں ہورہا. انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اور طبی عملہ ہمارے ہیروز ہیں انہیں حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے طبی عملے کو حفاظتی سامان کی براہ راست فراہمی پر غور کیا جارہا ہے حالیہ دنوں میں ملک کی کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کورونا وائرس سے متعلق حکومتی تجاویزپرعمل کررہی ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ بعض علاقوں میں لوگ حفاظتی تدابیر پر مکمل عمل درآمد نہیں کررہے ہیں انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا آئندہ دنوں میں صحت کے نظام کا امتحان بھی بن سکتا ہے. انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں اسدعمر نے کہا کہ کورونا کے اقتصادی اثرات سے امیراورغریب دونوں متاثرہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ہسپتالوں کی استعداد کار کے ساتھ ساتھ ملک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد بھی بڑھا رہے ہیں. وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے سماجی ورکرز اور سیکورٹی اداروں کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں