چینی بحران میں ترین نے کمایا : انکوائری رپورٹ

پاکستان میں چینی بحران پر ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین نے اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا جبکہ چودھری مونس الٰہی اور چودھری منیر نے بھی بحران سے منافع کمایا۔
وفاقی وزیرخسرو کے رشتہ دار نے آٹے چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔
رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ بتایا گیا ہے کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔
چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے بنائے، چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا، رپورٹ کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا۔
دسمبر 2018 سے جون 2019 تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا، اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سٹاک اور ضرورت تقریبا برابر ہے۔ تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔ حکومت اس معمولی فرق بھی ختم کرنے کے لیے چینی درآمد کرنے کی اجازت دے۔
مونس الہی اور چوہدری منیر رحیم یارخان ملز، اتحاد ملز ٹو سٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر لک کی ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچا۔
ملک میں گندم کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کی گئی ہے جس کے مطابق بحران کی بڑے وجہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے پلاننگ نہ ہونا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجا ب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے 20-22دن تاخیر سے گندم جمع کرنا شروع کی اور ڈیپارٹمنٹ فلور ملز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوا۔
فلور مل مالکان نے پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی پورا نہ کرسکنے کی اہلیت کو جانتے ہوئے فائدہ کمانے کیلئے مہم چلائی اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ ڈیمانڈ اسپلائی کیلئے طریقہ کار بنانے میں ناکام رہا۔

پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے صورتحال کے پیش نظرفیصلے نہیں کیے جبکہ پنجاب میں گندم ٹارگٹ پورا نہ کر سکنے کی ذمہ داری سابقہ فوڈ سیکریٹری نسیم صادق ، سابقہ فوڈ دائیریکٹر ظفر اقبال پر عائد کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری پر صورتحال کے پیش نظر فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں اقدامات نہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سندھ میں کم گندم حاصل کرنے کی ذمہ داری کسی پر انفرادی طور پر نہیں ڈالی جا سکتی، سندھ کابینہ نے گندم حاصل کرنے کی سمری پر کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا۔
کے پی کے میں میں گندم خریداری کے ٹارگٹ پورے نہ کرنے پر وزیر قلندر لودھی، سیکریٹری اکبر خان اور ڈائیریکٹرسادات حسین ذمہ دار قرار دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربرا ہی میں تین رکنی کمیٹی نے ملک میں گندم بحران پر تحقیقات کیں۔
Pakistan24.tv

اپنا تبصرہ بھیجیں