اسپین کے بعد برطانیہ میں بھی مقیم پاکستانی ڈرائیوروں نے فری ٹیکسی سروس شروع کردی

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں جہاں ہر کوئی اپنا کردار ادا کر رہا ہے وہیں برطانیہ میں مقیم پاکستانی ڈرائیوروں نے بھی فری ٹیکسی سروس شروع کردی ہے جس کا مقصد ڈاکٹرز اور طبی عملے سے بغیر کرایہ لیے انہیں ہسپتال پہنچانا ہے۔برطانوی حکومت نے بھی کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہیں۔ تاہم شعبہ صحت سے منسلک افراد کورونا کی وبا سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے ہسپتالوں میں موجود ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ کے رکن لارڈ نذیر احمد نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر ویڈیو شئیر کی ہے جس میں انہوں نے فری ٹیکسی چلانے پر پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی اس کاوش کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘نوٹنگھم پریس کلب اور جتنے بھی مسلمان پاکستانی اس کام کا حصہ ہیں میں ان کا شکرگزار ہوں۔ اس مشکل وقت میں برطانیہ کا ساتھ دینے کے لیے شکریہ۔ بے شک اس کام کا اجر اللہ کی ذات آپ کو دے گی مگر کمیونٹی بھی آپ کو یاد رکھے گی۔

اس ویڈیو پیغام پر تبصرہ کرتے ہوئے نوٹنگھم سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور شہزادہ نے لکھا کہ ‘سر ہمارا نام لینے کا بہت شکریہ یہ ہماری ڈیوٹی کا حصہ ہے کہ ہم قوم کے ہیروز کی خدمت کر سکیں جو ملک کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔’لارڈ نظیر احمد کے اس ویڈیو پیغام پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ ٹوئٹر صارف ڈاکٹر جمشید چھٹہ نے لکھا کہ پاکستانی ہمیشہ مشکل وقت میں مدد کے لیے سب سے پہلے آگے آتے ہیں۔اس سے قبل سپین کے شہر بارسلونا میں مقیم پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں نے کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لیے مفت ٹیکسی سروس کا آغاز کیا تھا۔
اس سروس میں جس کو جہاں بھی ٹیکسی کی ضرورت ہوتی ہے اسے وٹس گروپ میں میسج آتا ہے تو قریب ترین موجود ڈرائیور بنا کسی حجت کے اس میسج کے جواب میں پہنچنے کا بتا کر متعلقہ عملے کے فرد کو خدمات فراہم کرنے پہنچ جاتا ہے۔
سپین کے ایک مقامی اخبار ’’ایم سی این میڑوپولی ایبرٹا‘‘ نے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کے اس اقدام کو سراہتے ہو ئے لکھا تھا کہ یہ طبی عملے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی زندگیاں آسان بنانے کا بہترین آئیڈیا ہےurdunews-report



اپنا تبصرہ بھیجیں