‘ٹھگز آف پاکستان’

پاکستان میں چینی اور آٹے کے بحران پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں بننے والی رپورٹ کے مطابق چینی بحران کے دوران فائدہ اٹھانے والوں میں کئی نامور سیاسی خاندان بھی شامل ہیں۔
ان سیاستدانوں کے نام سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
ایک طرف اس رپورٹ میں نام آنے کے بعد کئی سیاستدان اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر صفائیاں پیش کر رہے ہیں تو دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کے بھی دلچسپ تبصرے جاری ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کے اہم رہمنا جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہمنا مونس الہی کی ملوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔
مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ‘رحیم یار خان شوگر ملز کے انتظامی امور سے میرا کوئی تعلق نہیں اس مل میں میرے صرف بالواسطہ شیئرز ہیں۔ امید ہے لوگ حقائق کو ذمہ داری سے پیش کریں گے۔’دوسری جانب جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں واضح ہے کہ ‘میں نے اپنے حصے سے بھی کم چینی برآمد کی ہے۔’وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں اور مخالفین میں بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث جاری ہے۔ اس حوالے سے ہزاروں ٹوئٹس کی جاری ہے جس کی وجہ سے ‘چینی چور آٹا چور’ سنیچر کی رات سے ٹاپ ٹرینڈ ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف حامد وسیم نے عمران خان، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی شئیر ہونے والی تصویر کو ‘ٹھگز آف پاکستان’ کا ٹائٹل دے دیا۔اسی حوالے سے ٹوئٹر پر پیپلز پارٹی کے رہمنا عبدالقادر کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’وزیراعظم کو انکوائری کی کیا ضرورت ہے، اپنے دائیں دیکھیں تو چینی چور اور بائیں دیکھیں تو آٹا چور مل جائیں گے۔‘
اس ویڈیو کا جواب دیتے ہوئے صحافی مرتضی وہاب نے لکھا ہے کہ ‘اس رپورٹ میں کچھ نیا نہیں پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر نے پہلے ہی کرپشن کرنے والے لوگوں کی نشاندھی کر دی تھی۔ جنہوں نے پی ٹی آئی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اس رپورٹ میں نیا کیا ہے؟’ممتاز اقبال نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ‘عمران خان کی شہرت کا گراف ایف سولہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ چینی بحران رپورٹ منظر عام پر آنا ان کی دیانتداری کا ثبوت ہے۔ٹوئٹس کے اس مقابلے میں ان سوشل میڈیا صارفین کی بھی کمی نہیں جو یہ رپورٹ منظر عام پر لانے پر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو ہیرو قرار دے رہے ہیں۔urdunews-report



اپنا تبصرہ بھیجیں