کشمیر روڈ

کشمیر روڈ تحریر شاہ ولی اللہ جنیدی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 5 فروری 1976 مظفر آباد میں تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ
”‏میں بھی انسان ہوں غلطی کر سکتا ہوں لیکن کشمیر کے معاملے میں نیند میں بھی غلطی نہیں کرسکتا۔ اس طرح انھوں نے یکجہتی کشمیر منا کر کشمیری عوام کے ساتھ ایک ناختم ہونے والی محبت کا اظہار کیا تھا ۔ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کا وہ باب دوبارہ کھولا جو کئی برسوں سے بند تھا بھٹو کے دور میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے سڑکوں کے نام کشمیر کے نام سے منسوب کئے گئے تھے کراچی میں سینٹرل جیل جمشید روڈ سے شاہراہ قائدین جانے والی سرسبز و شاداب سڑک کا نام کشمیر روڈ رکھا گیا تھا اس سڑک پر ممتاز کشمیری بزنس مین فضل کشمیر والا اور اخترپگا نوالہ کا گھر واقع تھا اس سڑک کے نزدیک بلاک 2 پی آئی سی ایچ ایس میں 13 ستمبر 1982 کو ممتاز صحافی ۔مقرر ۔سیاستدان ۔ سماجی شخصیت ظہور الحسن بھوپالی کو قتل کردیا گیا تھا وہ 1970 اور 1977 کے دوران جمعیت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔جنرل ضیاءالحق کے چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد انکی پالیسوں کی حامی رہے انھوں نے استحکام پاکستان کونسل کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی 1981 میں وہ وفاقی مجلس شوری کے رکن بنے 13 ستمبر 1982 کو وہ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ گولیوں کا نشانہ بن گئے اس وقت انکے پاس ڈان اخبار کے فوٹوگرافر مجیب الرحمان مرحوم موجود تھے مجیب الرحمان فائرنگ کے وقت معجزانہ طور پر محفوظ رہے وہ اس قتل کے چشم دید گواہ تھے ۔ قتل کی ذمہ داری الذوالفقار نامی تنظیم نے قبول کرلی تھی ۔ ظہور الحسن بھوپالی کا ایک قاتل الیاس صدیقی جائے وقوعہ پر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دوسرا ساتھی ایاز سموں گرفتار ہوا اور اس کو پھانسی ہوئی

مشہور صحافی شاہ ولی اللہ کی کتاب یہ شاہراہ عام نہیں ہے سے ایک اقتباس

اپنا تبصرہ بھیجیں