سابق وزیراعظم کورونا وائرس سے انتقال کرگئے

لیبیا کے سابق وزیر اعظم محمود جبریل کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے، محمود جبریل کو طبیعت خراب ہونے پر27 مارچ ہسپتال داخل کیا گیا، محمود جبریل ساڑھے سات ماہ تک لیبیا کے وزیراعظم رہے۔ افریقہ کے خبررساں ادارے کے مطابق لیبیا کے سابق وزیراعظم محمود جبریل مہلک وباء کورونا وائرس سے انتقال کرگئے ہیں۔
محمود جبریل کی طبیعت خراب ہوئی توستائیس مارچ کو انہیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔ وہاں پر طبی معائنے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ان کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا تھا۔ لیکن وہاں زندگی کی بازی ہار گئے۔ بتایا گیا ہے کہ محمود جبریل لیبیا میں سول وار کے دوران 2011ء میں ساڑھے 7 مہینے تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

انہوں نے لیبیا میں بڑی سیاسی پارٹی نیشنل فورس الائنس کی بھی قیادت کی۔ واضح رہے لیبیا کورونا مریضوں کی تعداد میں عالمی سطح پر 18 ویں نمبر پر ہے۔ افریقی ملک صومالیہ کے سابق وزیراعظم نور حسین بھی کچھ دنوں سے کورونا کا شکار تھے، دو اپریل کو لندن میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 83 سال تھی۔ 24 مارچ کو صومالیہ کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی مختار محمد بھی کرونا کا شکار ہو کر لندن میں انتقال کر گئے تھے۔
برطانوی وزیراعظم بھی کورونا سے شدید متاثر ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ عالمی سطح پر 64 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں. برطانیہ میں ایک ہی دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 708 اموات ہوئی ہے ۔ ہلاکتوں میں اٹلی پہلے، اسپین دوسرے، امریکا تیسرے، فرانس چوتھے نمبر پر، دنیا بھر میں89599 مریض اب بھی اسپتالوں میں داخل، 246638 مریض صحت یاب ہو کرگھروں کو لوٹ گئے۔
کورونا کے دنیا بھر میں 89 ہزار 599 مریض اب بھی اسپتالوں میں داخل ہیں، 2 لاکھ 46 ہزار 638 مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں جبکہ 42 ہزار 290 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ امریکا کو کورونا وائرس کی وبا نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جہاں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 11ہزار 357 تک پہنچ چکی ہے جبکہ کورونا نے امریکا بھر میں 8 ہزار 452 افراد کو لقمہ اجل بنایا ہے۔کورونا کے امریکا بھر میں 2 لاکھ 88 ہزار 80 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، 14ہزار 825 مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں جبکہ 8 ہزار 206 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں