پاکستان میں 25 اپریل تک کرونا کیسز 50 ہزار ہونے کا خدشہ

سپریم کورٹ آف پاکستان میںحکومت نے کورونا وائرس سے بچائو کے حوالے سے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں حکومت نے رواں ماہ کے اختتام تک متوقع کیسز بارے بھی عدالت کو آگاہ کیا ہے جبکہ عام اور سنگین اور تشویش ناک کیسز کی متوقع تعداد بارے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 25اپریل تک کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے،7 ہزار کیسز سنگین نوعیت کے ہو سکتے ہیں، اڑھائی ہزار کے قریب کیسز تشویش ناک ہو سکتے ہیں،41ہزار معمولی نوعیت کے کیسز ہوسکتے ہیں، پچیس اپریل تک کورونا کے کنفرم کیسز کی تعداد یورپ سے کم ہوگی، پچیس اپریل تک وائرس کی ٹیسٹنگ سہولت میں اضافہ کیا جائے گا،366 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے ایمرجنسی پلان کا اطلاق کر دیا، وفاقی حکومت نے صوبوں، وبائی ماہرین کیساتھ کورونا سے بچائو کی گائیڈ لائینز تیار کیںہیں,بیرون ملک سے واپس آنے والوں کی سکریننگ کے ایس او پیز بنائے گئے ہیں، کورونا سے جاں بحق ہونے کی تدفین کے لیے بھی ایس او پیز واضع کیے گئے ہیں، کرونا سے بچائو کی آگہی مہم چلائی جا رہی ہے، ائیر پورٹس اور داخلی راستوں پر 222 مشتبہ کرونا مریضوں کی شناخت کی گئی، تمام ائیر پورٹس پر کرونا اسپیشل کائونٹر قائم کیے گئے ہیں، ایران سے ملحقہ بلوچستان بارڈر پر ایمر جنسی کا اعلان کیا گیا ہے، اسلام آباد میں قرنطینہ کے لیے300 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے، اسلام اباد کے چار ہسپتالوں میں154 بیڈز پر مستمل آئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں۔154 اضلاع میں مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے کورونا سے متعلق اقدمات پر مبنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کو مجموعی طور پر کورونا کے باعث 44ارب 8 کڑوڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا ہوں گے، رپورٹ۔ ایران سے آنے والے زائرین کو فیصل آباد، ملتان اور ڈی جی خان میں علیحدہ رکھا گیا ہے۔ جیلوں میں آنے والے نئے قیدیوں کو 14روز تک علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ تمام جیلوں کو ڈبلیو ایچ او کے ایس او پی کے مطابق ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کیمپ جیل لاہور میں مشتبہ قیدی کو میو ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔ کیمپ جیل لاہور کے سیل کو خالی کر کے40بستروں پر مشتمل قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ انصاف مدد پروگرام کیلئے10 ارب مختص کر دیئے گئے ہیں۔ تمام جیلوں میں ڈاکٹرز کی بھرتیوں تک عارضی طور پر ڈاکٹر کی خدمات فراہم کر دی گئی ہیں۔ پنجاب حکومت نے کورونا کیلئے13 جنوری سے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ کرونا پھیلاو روکنے کیلئے وزیراعلی کی سربراہی میں کمیٹی کام کر رہی ہے۔ صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں