کیا یہ وبا 5G کے ٹاور ز سے پھیل رہی ہے؟ 5 G سازشی تھیوریاں اور غلط انفارمیشن

جیسے جیسے یہ وبا پھیل رہی ہے اس کے حوالے سے مفروضے کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں اب ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا یہ وبا فائیو جی کے ٹاورز کے ذریعے پھیل رہی ہے دراصل اس وبا کے پھیلنے سے پہلے چین اور امریکہ کے درمیان ایک سرد جنگ اور پنج آزمائی جاری تھی اور یہ سرد جنگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے چل رہی تھی چین کی کمپنی ہواوے کو امریکہ کی جانب سے بلیک لسٹ کردیا گیا لیکن پابندیوں کے باوجود چائنا نے فائیو جی ٹیکنالوجی پر اپنی انویسٹمنٹ جاری رکھیں اور چائنا کی سرکاری کمپنی چائنہ موبائل چائنا یونی کام اور چائنا ٹیلی کام نے نومبر میں فائیو جی ٹیکنالوجی کا باقاعدہ افتتاح کیا اب چائنا کا منصوبہ تھا کہ وہ فائیو جی ٹیکنالوجی کو بیجنگ اور شنگھائی سمیت 50 شہروں تک لے جائے نیٹ ورک کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 130000 گیس اسٹیشن قائم کرکے دنیا کا سب سے بڑا فائیو جی نیٹ ورک بنانے کا ارادہ تھا اب فائیو جی دراصل انٹرنیٹ موبائل فون کی پانچویں جنریشن ہے جو تیز ترین ڈیٹا ڈاؤن لوڈنگ اور اپلوڈنگ اور بہترین کنیکٹیوٹی کے ذریعے کوشش کو یقینی بنائے گی فائیو جی میں فور جی کے مقابلے میں بڑے فریکوینسیز اسپیکٹرم درکار ہیں اب فائیو جی کے لئے بڑے بڑے ٹاور درکار نہیں ہوتے بے سٹیشن بجلی کے کھمبے عمارتوں وغیرہ پر لگائے جاسکتے ہیں چائنیز کمپنی ہواوے نے فائیو جی میں سب سے بڑی رقم انویسٹ کی جبکہ فائیو جی کو مزید پھیلانے اور دوسرے ملکوں میں لے جانے کے لیے دنیا کے کئی ملکوں جیسے روس جرمنی کے ساتھ مل کر اس کام کو آگے بڑھایا ۔

امریکن نیشنل سیکورٹی کونسل کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے جرمنی کی کمپنی کو چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ کام کرنے سے خبردار بھی کیا اور ٹی وی پر کہا کہ ایک مغربی جمہوریت کا کیمونسٹ چائنیز کمپنی ہواوے کے ساتھ مل کر کام کرنا ان کے لیے حیران کن ہے امریکہ کو تحفظات ہیں کہ چائنا اپنے فائیو جی نیٹ ورک کے ذریعے جاسوسی بھی کر سکتا ہے ہواوے کمپنی نے ان تمام خدشات کو مسترد بھی کیا ماہرین کا خیال تھا کہ امریکہ کیونکہ فائیو جی ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گیا ہے اس لیے پابندیاں لگا کر وہ چین کا راستہ روکنا چاہتا ہے اب جاسوسی کے الزام کے بعد ایک نئی سازشی تھیوری نے لوگوں میں خوف وہراس پھیلانا شروع کر دیا کہ فائیو جی ٹاورز کی تابکاری وبا کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے ۔
آج آپ کو یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ اس الزام میں صداقت ہے یا نہیں ۔
برطانیہ میں ایک آن لائن پٹیشن کا آغاز کیا گیا جس پر اب تک ایک لاکھ دس ہزار لوگ دستخط کر چکے ہیں اس پٹیشن میں موقف یہ اختیار کیاگیا کہ برطانوی حکومت کو ملک بھر میں فائیو جی ٹیکنالوجی روکنے کا حکم دیا جائے اس پٹیشن پر دستخط کرنے والوں میں کئی مشہور شخصیات بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے فالوورز کو بھی پٹیشن پر دستخط کرنے کے لئے کہا ہے thechange.org نے ایک خودساختہ مفروضے کو اس دعوے کی بنیاد بنایا ہے جس کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی صحت کے لیے خطرناک ہے اور یہ کینسر سے لے کر دنیا میں پھیلی اثبات تک مختلف بیماریوں کا باعث ہے delory Chin نے اس پٹیشن کو شروع کیا ہے جس نے لکھا کہ فائب جی ٹاور سے پیدا ہونے والی جو تابکاری ہے وہ ماحول میں موجود آکسیجن کو کھینچ لیتی ہے اور انسانی جسم پر منفی اثر ڈالتی ہے انسانی جسم چونکہ پچاسی فیصد پانی پر مشتمل ہے اس لیے شارٹ ویز شو ای یا ریز جو نکلتی ہیں وہ ہماری فطری نظام میں توڑ کا باعث بنتے ہیں اور کینسر اور صحت کے دوسرے مسائل پیدا کرتی ہیں فائیو جی سے متاثر ہونے کی علامات میں سانس کے مسائل زکام کی علامات بخار سر درد نمونیہ وغیرہ شامل ہیں اور یہ تمام علامات اس وبا سے ملتی جلتی ہیں ۔

ٹیلی ویژن کی ایک مشہور شخصیت Amenda Holden. . بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو اس پٹیشن کو آگے بڑھا رہے ہیں انہوں نے اپنے ٹویٹر پر آپ نے 20 لاکھ فالوورز کے ساتھ اس پٹیشن کو شیئر کیا اور پٹیشن کے بعد برطانوی میڈیا نے بھی ایک وارننگ جاری کی ہے ۔
The Offcom
اس سازشی پٹیشن کو نہ پھیلائیں کیونکہ وہاں کی وجہ سے لوگ پہلے ہی پریشان ہیں اور صحت کے مسائل کے دوران اس قسم کی معلومات سے لوگوں میں اعتبار مزید کم ہو جاتا ہے کیونکہ کہیں سائنسدان فائیو جی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اس تشویش کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں ان کے مطابق فوجی کے مقابلے میں فائیو جی ٹیکنالوجی کی الیکٹرومیگنیٹڈ ریز تابکاری کی وجہ نہیں بنتے عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے بھی ایک بیان جاری کر دیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی بار یہ تحقیق کی گئی کہ کیا موبائل فون انسانی صحت کے لیے خطرہ ہیں یا نہیں ۔آج تک موبائل فون سے صحت کو لاحق ہونے والے خطرات کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور یہ حالیہ وبا پھیلنے کے حوالے سے کوئی پہلی آن لائن سازشی کہانی نہیں ہے اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

مارچ میں فرنچ گورنمنٹ کو یا بیان جاری کرنا پڑا کہ کوکین اس وبا سے بچاؤ میں مدد فراہم نہیں کرتی یہ بیان اس نے جاری کرنا پڑا کہ خبریں پھیلا دی گئی تھی کہ کوکین کے استعمال سے اس بات سے بچا جاسکتا ہے لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں تھی ۔فرانس کے وزیر صحت نے بیان دیا کہ کوکین حفاظت فراہم نہیں کرتی بلکہ یہ ایک نشہ ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور خطرناک ہے ۔
اب یوٹیوب پر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پھیلائی جانے والی ان غلط خبروں کو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے Infodemic. قرار دیا گیا ہے
غلط خبروں کے مقابلے کے لئے اقوام متحدہ نے ایک آن لائن پروگرام بھی شروع کیا ہے جس میں بابا سے متعلق مصدقہ اور سرکاری حکام سے حاصل کردہ معلومات دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچائی جائے گی اس لیے اب اس صورتحال میں جبکہ یہ وبا گیارہ لاکھ 22 ہزار لوگوں کو متاثر کر چکی ہے اور تقریبا 59ہزار 500 لوگ ہلاک کر چکی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ایسی صورتحال میں افواہوں اور سازشی تھیوریوں پر کان دھرنے کی بجائے جو ہدایات صرف ڈاکٹر ماہرین اور ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری کی جارہی ہیں ان پر عمل کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کا بھی خیال رکھیں احتیاط ہی بہترین چیز ہے ۔
From.mubashir luqman youtube channel

اپنا تبصرہ بھیجیں