کینیڈین حکومت نے باہر سے ہر آنے والے کو 14دن اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایات دی تھیں۔ 15ویں دن ہم نے—-

2ہفتے قبل راقم نے پاکستان سے کینیڈا پہنچنے کا واقعہ تحریر کیا تھا کہ کینیڈین حکومت نے باہر سے ہر آنے والے کو 14دن اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایات دی تھیں۔ 15ویں دن ہم نے ڈاکٹر کو فون کرکے سہ ماہی ٹیسٹ کروانے کی درخواست کی تو سابقہ طریقہ کار کے بجائے ہدایات دی گئیں کہ کلینک آکر کھڑکی سے خون ٹیسٹ کرانے کی پرچی لے جائیں اور اپنی مرضی کی لیب سے خون ٹیسٹ کروا لیں۔ پرچی لینے کے بعد ہم نے سرکاری اور نیم سرکاری لیبارٹریوں کو ٖفون کیا تو اکثر بند تھیں۔ خدا خدا کرکے ایک دو لیبارٹری والوں نے ہامی بھری، جاکر لائن میں لگ کر خون دیا اور گھر آگئے۔ یاد رہے کینیڈا میں شٹ ڈائون ہے، لاک ڈائون نہیں یعنی شاپنگ مالز، دکانیں، بینک، ریسٹورنٹس کھلے ہیں البتہ تین چار گھنٹے کم کر دیے ہیں۔ فیکٹریوں میں ضروری اشیا کے علاوہ تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ دفاتر میں آن لائن کام ہو رہا ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں، اپنی مرضی کے مطابق آن لائن پڑھائی جاری ہے۔ شاپنگ مالز اور سپر مارکیٹوں میں بہت کم تعداد میں عوام ضروری اشیا کی خریداری کر رہے ہیں۔ کوئی افراتفری نہیں ہے۔ سڑکوں پر کم تعداد میں گاڑیاں آ جا رہی ہیں۔ تمام ٹرینیں، بسیں اسی طرح چل رہی ہیں، البتہ بہت کم تعداد میں سواریاں ہیں۔ 19دن گھر میں رہ کر دل گھبرا رہا تھا، طے ہوا کہ نماز

جمعہ گھر میں پڑھنے کے بعد نیاگرا فال گھومنے جایا جائے تو پیشگوئی کے مطابق بارش شروع ہو گئی پھر طے کیا کہ ہفتہ کو جایا جائے۔ صبح صبح ہمارے صاحبزادے نے بتایا کہ اچھا ہوا، ہم نہیں گئے،جمعہ کی دوپہر نیاگرا فال جانے والوں کو پولیس نے روک کر چالان کیا کہ وہ غیر ضروری گھروں سے باہر کیوں نکلے۔ البتہ دکانوں، سپر مارکیٹوں اور دفاتر، فیکٹریوں کے آنے جانے والوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ دوسری طرف جب میں پاکستان کے حالات میڈیا اور وٹس ایپ، فیس بک اور پاکستانی دوستوں سے پوچھتا ہوں تو بہت مایوس ہوتا ہوں۔ یہاں قوموں کی بیوقوفیوں پر ایک اصلی واقعہ سنانا چاہتا ہوں، دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا کی 3بڑی طاقتوں کے سربراہان روس کے اسٹالن، امریکہ کے روز ویلٹ اور برطانیہ کے چرچل میٹنگ میں مصروف تھے کہ امریکہ کے صدر روز ویلٹ نےکچھ لکھ کر ایک پرچی چرچل کو دی۔ چرچل نے پڑھ کر وہ کاغذ جلا کر ایش ٹرے میں ڈال دیا۔ پھر کاغذ پر جواب لکھ کر روزویلٹ کو دیا۔ روز ویلٹ نے پڑھ کر وہ کاغذ کا ٹکڑا اسی ایش ٹرے میں ڈال دیا۔ میٹنگ ختم ہوئی تو سوویت یونین کے انٹیلی جنس اہلکاروں نے وہ کاغذ کا ٹکڑا اٹھا کر پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں کسی بھی صورت میں پرانا عقاب گھونسلے سے نہیں اڑ سکتا۔ اب انٹیلی جنس والوں نے اس کو خفیہ کوڈ سمجھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ ہمارے بوڑھے صدر اسٹالن کی طرف اشارہ ہے اور اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے صدر کو بچانے کیلئے اس کے تمام باڈی گارڈ تبدیل کر دیے اور خفیہ سیکورٹی بڑھا دی۔ جب جنگ ختم ہو گئی تو ایک سال بعد برطانیہ کا مترجم جو اس واقعہ کا عینی شاہد تھا، چرچل کو ایک تقریب میں ملا، اس نےپوچھا سر آپ کے اس خطرناک جملے کا مطلب کیا تھا؟ چرچل نے ایک زوردار قہقہہ لگا کر بتایا کہ روز ویلٹ نے پرچی پر لکھا تھا چرچل صاحب آپ کے بیلٹ کی زپ کھلی ہوئی ہے، آپ اسے بند کر لیں، میں نے وہ پرچی جلانے کے بعد اس کا جواب لکھا تھا۔ بالکل ایسی ہی افراتفری پاکستان میں کورونا وائرس نے پھیلا رکھی ہے اور حکمران بوکھلائے ہوئے نت نئے تجربات کر رہے اور عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ لاک ڈائون کو خطرناک قرار دے کر 12سو ارب کا پیکیج دینا چاہتی ہے۔ سندھ حکومت زبردستی لاک ڈائون کرکے غریب عوام کو ڈرا رہی ہے۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ پاکستان اور مغربی ممالک میں بھلا کوئی مماثلت ہے۔75 فیصد غربت میں مبتلا قوم کیسے گھروں میں رہ سکتی ہے؟ کون کھلائے گا اور زبردستی مالکان سے کیسے تنخواہیں دلوا سکتے ہیں جبکہ لاک ڈائون غیر معینہ مدت کیلئے ہے۔ اسکول بند کر دیے، یہاں تک تو بات ٹھیک تھی، مساجد بند کر دیں اور اجتماعات پر پابندیاں بھی ٹھیک مگر ٹرانسپورٹ اور فیکٹریاں بند کرکے معیشت ختم کرکے خود اپنے ہاتھوں سے تباہی لانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ پوری دنیا میں سپر مارکیٹس، فیکٹریاں اور دکانیں کھلی ہیں۔ ہمارے ہاں ابلتے گٹروں، گندے ماحول اور ایک ایک کمرے میں آٹھ دس افراد رہتے ہیں، گندا پانی پیتے ہیں، ہمارا امریکی، یورپی ممالک سے موازنہ کیسے۔ صرف نیویارک میں ڈیڑھ لاکھ کورونا کے کیس آ چکے ہیں مگر لاک ڈائون نہیں ہے۔ آپ کراچی کے پیچھے پڑے ہیں جہاں چند سو افراد کے کیس سامنے آئے ہیں۔ خدارا! ہوش کے ناخن لیں۔ جس سرکار کو گندے پانی کی نکاسی کا نہیں معلوم کہ بارش ہو تو زیادہ پانی جمع ہوتا ہے، جس ملک میں حکمران قرنطینہ کے طریقہ کار سے ناواقف ہوں، روز روز کابینہ کی میٹنگیں اور فیصلے خالی پیٹ عوام پر عمل درآمد نہیں ہو سکتے، امپورٹڈ مشیر ڈالر کو155 سے 165تک لاکر مہنگائی کا طوق عوام کے سر ڈال کر پھر واپس چلے جائیں، پھر آئی ایم ایف سے مزید بھیک منگوائیں وہاں وزیراعظم صاحب صنعتکاروں، فیڈریشن، چیمبرز، اسٹاک ایکسچینج کے سرکردہ افراد جو ملک کی معیشت سنبھالے ہوئے ہیں، کو آگے لائیں اور ان سے مشاورت کریں۔ یہ لال بجھکڑ وزرا، مشیران کے بس کی بات نہیں۔ ان سب کو قرنطینہ میں ڈالیں اور پریکٹیکل لوگوں سے مشاورت کرکے معیشت کو بچائیں ورنہ اب عوام کو سڑکوں پر آنے سے کوئی نہیں روک سکے گا بلکہ لوگ نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔Khalil-Ahmed-Nainitalwala-Jang

اپنا تبصرہ بھیجیں