مزدور، مستری، بڑھئی، الیکٹریشین، پلمبر، ڈرافٹسمین، انجینئر، اسٹیٹ ایجنٹ، بجری ریتی کے تاجر‘ سب کا روزگار کھلے گا

مزدور، مستری، بڑھئی، الیکٹریشین، پلمبر، ڈرافٹسمین، انجینئر، اسٹیٹ ایجنٹ، بجری ریتی کے تاجر‘ سب کا روزگار کھلے گا
تعمیراتی شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیتے ہوئے ماہِ رواں کے تیسرے ہفتے سے متعدد مراعات کے ساتھ فعال کرنے کا فیصلہ جس کا اعلان وزیراعظم نے گزشتہ روز کیا، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے باوجود لاک ڈاؤن کے سبب روز افزوں بےروزگاری اور قومی معیشت کی تیز رفتار زبوں حالی کے باعث ناگزیر نظر آتا ہے جس کا اندازہ عالمی بینک کے اس تازہ ترین تخمینے سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار محض ایک اعشاریہ ایک فیصد رہے گی۔ بلاشبہ کروڑوں افرادکا روزگار لامحدود مدت کے لیے بند نہیں رکھا جا سکتا، وزیراعظم کے اس موقف کی مکمل تائید پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی جمعہ کو اپنی میڈیا بریفنگ میں کی ہے۔ اس کی وجہ واضح طور پر یہ ہے کہ لامحدود لاک ڈاؤن کا مطلب لاکھوں گھرانوں کو فاقہ کشی میں مبتلا کر دینا ہوگا۔ معاشی سرگرمی کی ازسر نو بحالی کے لیے تعمیرات کے شعبے کا انتخاب فی الحقیقت متعدد ذیلی شعبوں کی بحالی کا باعث بنے گا جن میں سیمنٹ، لوہا، خشت سازی، نقل و حمل، ٹائلز، لکڑی، بجلی کا سامان، سینیٹری وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس کے نتیجے میں مزدور، مستری، بڑھئی، الیکٹریشین، پلمبر، ڈرافٹسمین، انجینئر، اسٹیٹ ایجنٹ، بجری ریتی کے تاجر‘ سب کا روزگار کھلے گا۔ اس کا

فوری فائدہ روز کی روز روزی کمانے والی محنت کش برادری کو ہوگا جس کا حالِ زار کسی مزید تاخیر کے بغیر توجہ کا طالب ہے کیونکہ اس طبقے کی بڑی تعداد دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ معاشی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعمیرات کے شعبے کو نہایت اہم مراعات دی گئی ہیں جو اس سے منسلک افراد کو نئے ولولے اور عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا حوصلہ بخشیں گی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار تعمیرات کو صنعت کا درجہ دینے کے علاوہ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، فکسڈ ٹیکس نافذ ہوگا جبکہ سیمنٹ اور اسٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ بھی پیکیج کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 90فیصد ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا اور وہ صرف اپنے منصوبوں پر ٹیکس کی مجموعی رقم کا 10فیصد ادا کریں گے، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 30ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جا رہی ہے، گھر فروخت کرنے والوں سے کیپٹل گین ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی سارے ٹیکس کو 2فیصد پر لے آئے ہیں، باقی صوبے بھی ٹیکس مراعات دیں گے؛ تاہم تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کی روک تھام کے تمام لوازمات کے ساتھ عمل میں لائی جانی چاہیے۔ وزیراعظم نے بالکل درست تنبیہ کی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاکستان میں کورونا کا خطرہ نہیں، ہمیں نہیں پتا دو ہفتے بعد کیا ہوگا اور وائرس کتنی تیزی سے پھیلے گا۔ ان کی یہ رائے قطعی معقول اور قابلِ فہم ہے کہ پاکستان میں ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک ہے لہٰذا بائیس کروڑ لوگوں کو مسلسل گھروں میں بند نہیں رکھ سکتے ورنہ خوف ہے کہ لوگ فاقوں سے مرنے لگیں گے۔ فی الحقیقت یہ حکومت ہی نہیں پوری قوم کا نہایت کڑا امتحان ہے کہ لوگ بےروزگار بھی نہ ہوں اور جس مہلک وبا کے باعث آج ساری دنیا بند ہے، ملک میں معاشی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کے باوجود اس عفریت کو بےلگام نہ ہونے دیا جائے۔ اس امتحان میں کامیابی کے لیے قومی اتحاد و یکجہتی ناگزیر ہے اور اس کا حصول کشادہ دلی سے باہمی مشاورت، مفاہمت، تدبر، بصیرت، آزادیٔ اظہار، اختلاف رائے کی برداشت اور احتساب کے نام پر انتقام کے خاتمے ہی سے ممکن ہے۔
jang

اپنا تبصرہ بھیجیں