4 اپریل 1979 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں چئیرمین بھٹو شہید کی غائبانہ نمازہ جناز میں شامل ہونے والے یہ لوگ ان بہادر لوگوں میں شامل تھے

4 اپریل 1979 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں چئیرمین بھٹو شہید کی غائبانہ نماز  جنازہ میں شامل ہونے والے یہ لوگ ان بہادر لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پھانسی کے بعد مارشل لاء کے ڈر دہشت اور خوف کے باوجود لیاقت باغ کے اردگرد گرد پولیس اور فوج کے حصار کو توڑا اور بندوقوں کے سائے تلے چئیرمین بھٹو شہید کی نماز جنازہ ادا کی سلام ہے ان بہادروں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کو ان میں سے جو لوگ زندہ ہیں وہ کسی بھی تغمہ شجاعت کے حقدار ہیں ۔میں اس دن لیاقت باغ میں موجود تھا ۔میری حالت ایسی تھی کہ اس مجمع میں شامل ہونے کے باوجود مجھے نہیں پتہ کہ کب صفیں باندھی گئییں اور کب جنازہ ختم ہوا ۔میرا دماغ شل تھا۔ذہن جیسے کام کرنا چھوڑ گیا ہو ۔میرے پاس کوئی ٹینک توپ نہیں تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے گھرآرمی ہاوس پر چڑھ دوڑتا خود بھی مر جاتا اور سب کچھ جلا کر خاک کر دیتا ۔بی بی سی نے رات کو خبر دی تھی کہ کل صبح لیاقت باغ میں چئیرمین بھٹو شہید کی غائبانہ نمازہ ادا کی جائے گی ۔میں جو پوری رات سو نہ سکا تھا چیئرمین بھٹو شہید کی رہائی کی تحریک میں بھرپور شرکت کے باوجود ہم اپنے لیڈر کو بچا نہ سکے ۔جب راولپنڈی کے کمیٹی چوک میں کارکن اپنے آپ کو پٹرول چھڑک کر آگ لگاتے مجھے افسوس ہوتا کہ کاش یہ اپنے آپ کو آگ لگانے کے بجائے سپریم کورٹ اور آرمی چیف کے گھر کو لگائیں ۔لیکن کیا کرتے نہتے کارکن اپنے قائد کو چھڑانے نہیں سکتے تھے پھانسی لگتا ہوا دیکھ نہیں سکتے تھے۔

خود سوزیاں کرکے اپنی جان اپنے قائد پر نچھاور کر دیتے یا بھٹو کو رہا کرو جیوے جیوے بھٹو جیوے کے نعرے لگاتے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے گرفتاریاں دیتے جنہیں فوری طور پر سمری ملٹری کورٹ میں پیش کیا جاتا اور فوجی عدالت کوڑوں کی سزا دے کر جیل بھیجتی وہاں ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے مارے جاتے کوڑے لگنے سے جو خون بہتا وہی خراج تھا بھٹو کے نام پر ہر کوڑے کی آواز پر جئے بھٹو کی صدا پوری جیل میں گونجتی ۔میں کبھی کبھی پرانی جیل کے اردگرد پاگلوں کی طرح اکیلے طواف کرتا کہ میرا قائد میرا بھٹو یہاں قید ہے کاش میں ان کو چھڑانے کے لئے کچھ کر سکتا کبھی کبھی رات کو اکیلے اپنے بستر اپنی بے بسی دیکھ کر روتا سپریم کورٹ پشاور روڈ راولپنڈی میں چئیرمین بھٹو شہید کی پیشی ہوتی تو گھنٹوں سپریم کورٹ کے کہیں آس پاس بیٹھ کر دیکھتا رہتا جس دن احتجاج اور گرفتاریوں کی کال ہوتی نعرے لگانے پولیس پر پتھراؤ اسلامی جمیعت طلبہ کے غنڈوں کا بھی مقابلہ کرتے جو اپنی ڈنڈا بردار فورس لے احتجاج کے مقام پر پولیس کے ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ۔

غائبانہ نمازہ جنازہ والے دن سے پہلے ہی پاکستان پیپلزپارٹی کے ہزاروں کارکنوں لیڈرز کو گرفتار کر لیا تھا کہ جیلوں میں جگہ نہ تھی میں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد پہروں ناکوں کے باوجود لیاقت باغ پہنچی لگتا ایسا تھا کہ پورے پنجاب کی پولیس لیاقت باغ کے اردگرد تعینات ہے نماز جنازہ کا وقت آیا تو اردگرد کھڑے ہوئے کارکنوں نے جرات کا مظاہرہ کیا اور لیاقت باغ میں داخل ہونا شروع ہوگئے چند منٹوں میں ہزاروں لوگ لیاقت باغ میں داخل ہوگئے پارٹی کی اعلی قیادت سے لے کر مقامی قیادت جیلوں میں بند تھی ہجوم جس کی قیادت عوام خود کر رہے تھے پہلے تو ایک دوسرے کے گلے لگ رونے لگے اس دن پہلی بار بی بی سی کے نمائندے مارک ٹیلی کو قریب سے دیکھا جو کارکنوں سے اردو میں بات کر رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کون سے لیڈرز جنازے میں شرکت کریں گے ۔کارکن اتنے رنجیدہ تھے کہ وہ صحافیوں کے جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھ رہے تھے ۔آنسوؤں اور سسکیوں کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا کوئی تو چیخ چیخ کر جنرل ضیاء الحق کو گالیاں نکال رہے تھے ۔میں اپنی دنیا میں مگن یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے ایک دن پہلے پارٹی کارکن ریاض عرف رشو جس سے میری جیل جانے اور واپس آنے کے بعد ملاقات نہ ہو سکی جس کا مجھے دکھ ہے کیونکہ اس نے چیئرمین بھٹو شہید کی رہائی کی تحریک میں میرے ساتھ بھرپور طریقے سے شرکت کی مگر اقتدار آنے کے باوجود مجھے کبھی نظر نہ آیا بھابھڑا بازار کی کسی گلی میں رہتا تھا ۔ریاض رشو نے مجھے 32 بور کا ایک پستول دیا اور کہا کہ اسے چلانا نہیں صرف اپنی حفاظت کے لئے رکھ لو کل جب لوگ نمازہ جنازہ پڑھیں گے تو ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے ۔

نمازہ جنازہ ختم ہوئی تو کارکنوں اور عوام نے اپنا غم و غصہ احتجاج میں بدلا ابتدا پولیس پر پتھراؤ سے ہوئی آنسو گیس پولیس نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور پیچھے کی طرف ہٹتے رہے اور شدید پتھراؤ کے باوجود ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس پر اکتفا کیا ۔کارکن تو خیر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔میں اور کچھ کارکن گارڈن کالج کی پچھلی طرف نکل گئے ۔ہزاروں افراد مری روڈ کی طرف نکل گئے ٹرانسپورٹ مکمل بند تھی ہم لوگ پولیس سے آنکھ مچولی کرتے ہوئے عالم خان روڈ کی طرف نکل آئے کہ میں نے دیکھا کہ سامنے سے پاکستان ٹیلی کام کی بس آ رہی ہے میں اور دیگر لوگوں نے بس کو روکا بس ڈرائیور بھگانے کی کوشش میں تھا تو میں پستول نکالی تو ڈرائیور نے چپ چاپ بس کھڑی کر کے نیچے اتر آیا اور اس میں بیٹھے لوگ بھی منٹوں میں آگ کے شعلے آسمان تک دکھائی رہے تھے پھر جو سرکاری گاڑی نظر نہیں جلا دی گئی ۔لیکن ایک بات ضرور تھی کہ کارکنوں نے کسی کی پرائیویٹ پراپرٹی کو آگ نہیں لگائی ۔شام تک راولپنڈی میدان جنگ بنا رہا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن اپنے لیڈر کے لئے نہیں نکلے شاید انہیں معلوم نہیں چیئرمین بھٹو شہید کی پھانسی تک پاکستان خصوصا پنجاب کی جیلیں پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے کبھی خالی نہیں چھوڑیں پھانسی کے بعد پاکستان میں ایک سال تک سکوت رہا کیونکہ تمام لیڈر شپ جیلوں میں بند تھی کارکن مارشل لاء کے خلاف لڑائی کے لئے تیار تھے مگر پارٹی لائن کے انتظار میں بالآخر وہ وقت بھی آن پہنچا جب ایک طرف مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے ایم آر ڈی ( تحریک بحالی جمہوریت ) کے قیام کا اعلان کیا تو دوسری طرف میر مرتضی بھٹو شہید اور شاہ نواز شہید نے پیپلز لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان جس کا نام بعد میں الذوالفقاد رکھا گیا ۔
اورنگ زیب ظفر خان
سینئر وائس پریذیڈنٹ پاکستان پیپلزپارٹی کینیڈا

A former PPP local Rawalpindi leader write-up who now living in Canada.

اپنا تبصرہ بھیجیں