تعمیراتی ایمنسٹی، کالا پیسہ لینے سے FATF میں مسئلہ ہوسکتا ہے، حفیظ پاشا

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبہ میں تیزی اور مندی ملکی معاشی حالات سے جڑی ہوتی ہے، تعمیراتی ایمنسٹی اسکیم اور کالا پیسہ لینے سے ایف اے ٹی ایف میں مسئلہ ہوسکتا ہے، ضروری ہے کہ استثنی تین مہینے سے زیادہ نہ ہو، لاکھوں تاجروں کا بھی فکسڈ ٹیکس کا مطالبہ نہیں مانا گیا،چیئرمین اور سی ای او یونی لیور پاکستان لمیٹڈ عامر پراچہ نے کہا کہ بڑے فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر روزانہ اجرت کمانے والے لوگوں کو راشن فراہم کریں گے، چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ حکومتی ریلیف زمینوں کیلئے نہیں کنسٹرکشن کیلئے ہونا چاہئے، اپروول اتھارٹیز میں نجی شعبہ کو بھی حصہ بنایا جائے، میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف بلیک منی کے خلاف کریک ڈاؤن کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی مگر اب اس نے ایک موقع دیدیا ہے کہ جو کالا پیسہ تعمیراتی شعبے میں لگے گا اس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔سابق وزیرخزانہ حفیظ پاشا نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ میں تیزی اور مندی ملکی معاشی حالات سے جڑی ہوتی ہے، پچھلے سال ہاؤسنگ کی سرمایہ کاری میں پانچ سے دس فیصد کمی آئی ہے، وزیراعظم نے مناسب بات کی ہے کہ تعمیرات میں اضافے سے بیس سے پچیس صنعتوں کو فائدہ ہوتا ہے، نوے فیصد مزدوروں کا تعلق تعمیراتی شعبہ سے ہے جہاں یہ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا تعمیراتی شعبہ کیلئے پیکیج کا اعلان مناسب ہے لیکن حکمت عملی پر تحفظات ہیں، شرح سود 14سے 15 فیصد ہی رکھی گئی تو کون نیا گھر لینے جائے گا،

شرح سودوہی سات فیصد رکھی جائے جو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کیلئے رکھی جانی تھی، کنسٹرکشن کی طرح ہاؤسنگ کو بھی انڈسٹری کا درجہ دینا ہوگا، حیران کن طور پر حکومت نے اس سال بجٹ میں سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی رکھی ہے، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے سے تعمیراتی لاگت کم ہوگی۔حفیظ پاشا نے کہا کہ کالا پیسہ چھوٹے مکانات خریدنے والوں کے پاس نہیں بلڈرز کے پاس ہوتا ہے، حکومت واضح کرے کہ ذرائع آمدن بتانے سے استثنیٰ صرف تین مہینے کیلئے ہے، اس طرح ایمنسٹی اور کالا پیسہ قبول کرنے سے ہمیں ایف اے ٹی ایف میں مسئلہ ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ استثنیٰ تین مہینے سے زیادہ نہ ہو۔ حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا تعمیراتی شعبہ کیلئے پیکیج دراصل ایمنسٹی اسکیم ہے جس میں کچھ جرمانہ بھی دینا نہیں پڑرہا ہے، غیرمعمولی حالات میں بلڈرز کو کچھ عرصہ کیلئے رعایت دینا ضروری ہے، تعمیراتی شعبہ میں فکسڈ ٹیکس نظام لاکر بڑے بلڈرز کو ایک اور فائدہ دیا گیا ہے، لاکھوں تاجر بھی فکسڈ ٹیکس کا مطالبہ کرتے رہے مگر ان کا مطالبہ نہیں مانا گیا۔ حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ پلاننگ کمیشن کا کورونا کے نتیجے میں معاشی نقصان کا منظرنامہ انتہائی خوفناک ہے، ایک کروڑ 80لوگ بیروزگار ہوگئے تو بہت نامناسب ہوگا، اس منظرنامے میں معاشی بحالی کیلئے کم ازکم ساڑھے چار ہزار ارب کا پیکیج لانا پڑے گا، پلاننگ کمیشن کو سوچ سمجھ کر آئندہ کا منظرنامہ پیش کرنا چاہئے تھا، ممکن ہے پلاننگ کمیشن اس طرح عالمی برادری اور آئی ایم ایف سے سپورٹ میں اضافہ چاہتا ہو۔ حفیظ پاشا نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں حکومتی پیکیج شہروں، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم اور بڑے بلڈرز کے لئے ہے، ملک کے 60فیصد مزدور شہروں میں نہیں گاؤں میں کام کرتے ہیں،

حکومتی ریلیف پیکیج سے ان مزدوروں کو کیا فائدہ پہنچے گا، حکومت کوشش کرے کہ اس پیکیج سے اصل حقداروں کو فائدہ پہنچے۔چیئرمین اور سی ای او یونی لیور پاکستان لمیٹڈ عامر پراچہ نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ہماری فیکٹریوں کے پروٹوکولز کافی سخت ہیں، یونی لیور کی چھ فیکٹریاں اس وقت کام کررہی ہیں جنہیں رسک کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے، تمام فیکٹریوں کی روزانہ کی بنیاد پر سینیٹائزیشن ہوتی ہے، سب کو فیس ماسک دیئے جاتے ہیں جبکہ فیکٹری میں کارکنوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جاتا ہے، اسی طرح کارکنوں کو لانے اور لے جانے والی ٹرانسپورٹ میں بھی روزانہ جراثیم کش اسپرے ہوتا ہے، پنجاب حکومت کے ایس او پیز کافی حد تک ٹی ایف فور ایس او پیز کے مطابق ہیں، اسی طرح ڈی جی خان، گجرات اور سکھر ٹی ایف فور میں آگئے ہیں، مارکیٹ میں جانے والے سیلز مینوں کا وقت کم کردیا ہے، ان کے پاس سینیٹائرز اور فیس وائزر ہوتے ہیں جبکہ ہر روز فیس ماسک تبدیل کرنا ہوتا ہے، اگر تمام کمپنیاں ان ایس او پیز کو سختی سے فالو کرتی ہے تو لاک ڈاؤن اٹھنے کے بعد کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
geo-jang-report

اپنا تبصرہ بھیجیں