کورونا کے باعث سیمنٹ کی مقامی کھپت مارچ میں16.7 فیصد کم

کورونا وائرس سیمنٹ کی مقامی کھپت مارچ میں 16.7 فیصد کم ہو گئی تاہم برآمدات میں معمولی 5.27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق مارچ میں 3.721 ملین ٹن سیمنٹ کی کھپت ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے دوران 4.340 ملین ٹن تھی، اس طرح اس میں 14.26 فیصد کمی واقع ہوئی۔ مقامی مارکیٹ کی طرف سے دباؤ بہت زیادہ تھا جہاں مارچ 2019 میں 3.85 ملین ٹن سے فروخت کم ہوکر رواں سال مارچ میں 3.2 ملین ٹن ہوگئی تھی۔ برآمدات میں اضافہ ہوا جو گزشتہ سال مارچ 2019 میں 0.482 ملین ٹن سے بڑھ کر مارچ 2020 میں 0.507 ملین ٹن ہوگئیں۔ برآمدات میں اضافہ بھارتی مارکیٹ کے بڑے خسارے کے ساتھ دیکھا جانا چاہئے۔ رواں مالی سال بھارت کو برآمدات صفر رہی ہیں جبکہ گزشتہ سال پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان نے بھارت کو 0.716 ملین ٹن سیمنٹ برآمد کیا تھا۔

شمالی علاقے میں قائم ملوں کی مقامی کھپت 2.749 ملین ٹن تھی ، جو گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے کے دوران 3.017 ملین ٹن سے تقریبا 10.48 فیصد کم ہے۔ حالیہ رجحانات کے مطابق ، مارچ 2020 میں شمالی علاقے میں قائم ملوں سے برآمدات بھی 18.85 فیصد کم ہوکر 0.107 ملین ٹن ہوگئیں ، جو مارچ 2019 میں 0.132 ملین ٹن تھیں۔ ملک کے جنوبی خطے میں مقامی کھپت میں 40.96 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ، کیونکہ یہ مارچ 2019 کی 0.787 ملین ٹن سے کم ہوکر مارچ 2020 میں 0.464 ملین ٹن رہی جبکہ گزشتہ ماہ برآمدات 14.32 فیصد بڑھ کر 0.401 ملین ٹن ہو گئیں۔ مارچ 2019 میں یہ 0.351 ملین ٹن تھیں۔سیمنٹ انڈسٹری کے ماہرین نے رائے دی ہے کہ اس لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں مزید دباؤ میں رہیں گی۔ صنعت کو امید ہے کہ حکومت سے کچھ امدادی پیکیج ملے گا کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات بڑھ رہی ہیں اور کھپت انتہائی مشکل ہوتی جارہی ہے۔وزیراعظم کے تعمیراتی صنعت کے لیے مراعاتی پیکیج سے سیمنٹ کی کھپت میں اضافہ ہوگا،تاہم سیمنٹ انڈسٹری کو توقع ہے کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی جائے گی جو خطے بھر میں پہلے ہی سب سے زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں