اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرگئی

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے یورپی ملک اٹلی میں مزید 6سو 81 اموارت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہزا ر 3 سو 62 ہوگئی جس میں حالیہ چند دنوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کی سول پروٹیکشن ایجنسی نے بتایا کہ پہلی مرتبہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

اٹلی میں مزید 4 ہزار 8 سو 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد اس وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 6 سو 32 ہوگئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہزار 9 سو 96 ہوگئی ہے ۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج 4 ہزار 68 افراد کے مقابلے میں اب صرف 3 ہزار 9 سو 94 افراد زیر علاج ہیں اور 21 فروری کے بعد پہلی مرتبہ یہ کمی دیکھی گئی ہے۔

دبئی میٹرو اور ٹرام سروس کل سے بند کرنے کا اعلان، دبئی روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ٹرانسپورٹ سروسز غیر معینہ مدت کیلئے بند رہیں گی۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کے پھیلاو میں اضافہ ہونے کے بعد اور ملک میں جاری ڈس انفیکشن مہم کے باعث دبئی روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے میٹرو اور ٹرام سروس بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاری اعلامیہ کے مطابق دبئی میٹرو اور ٹرام سروس کل 5 اپریل سے بند کر جائیں گی۔ ان پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس دوران دبئی میں بس سروس معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ دوسری جانب ملک میں نیشنل ڈس انفیکشن پروگرام کو بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

آج بروز ہفتہ اس صفائی مہم کو ختم ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی مُدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

اماراتی وزارت صحت اور وزارت داخلہ کی جانب سے اس نیشنل ڈس انفیکشن پروگرام کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزارت صحت و داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صفائی ستھرائی اور جراثیم کے خاتمے کی اس حالیہ مہم میں مزید سہولیات اور مشینری کا اضافہ کیا جائے گا۔ مملکت میں ڈس انفیکشن مہم کامیابی سے مکمل کی گئی، جس کا آغاز 26مارچ سے ہوا تھا۔
اس دوران بہترین قسم کی جدید ترین مشینریوں کا استعمال کیا گیا ۔ جس میں مختلف وفاقی اور مقامی اداروں کے ہزاروں کارکنان نے حصہ لیا۔وزارت کے مطابق ہر اماراتی ریاست میں جب جب اور جہاں جہاں ڈس انفیکشن کی ضرورت ہو گی، مقامی طور پر پلان تیار کر کے جراثیم کش ادویہ کا سپرے اور صفائی ستھرائی کی جائے گی۔ اس ڈس انفیکشن پروگرام کا دورانہ پہلے کی طرح ہی رات 8 بجے سے لے کر صبح 6 بجے تک ہو گا۔
جس دوران ٹریفک اور لوگوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی ہو گی۔ تاکہ ڈس انفیکشن کا کام کرنے والی ٹیموں پوری تسلی اور بنا کسی رکاوٹ کے اپنا کام انجام دے سکیں۔ دُبئی میونسپلٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ریاست کی فضا بہتر ہو گئی ہے۔ فضا میں زہریلی گیسوں نائٹروجن کی مقدار میں 57 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار بھی 48 فیصد کمی ہو گئی ہے۔
جس کا نتیجہ دُبئی میں ایئر کوالٹی کی بہتری کی صورت میں ظاہر ہو گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ لوگوں کا بڑی گنتی میں گھروں تک ہی محدود رہنے کے باعث ٹریفک کا نہ چلنا ہے،گاڑیوں سے دھوئیں کا اخراج نہ ہونے کے سبب فضا کی آلودگی کم ہو گئی ہے ، جس میں اگلے چند روز میں مزید بہتری آئے گی۔

اسپین میں کوروناوائرس کی خراب صورتحال کے باعث لاک ڈاؤن میں25 اپریل تک توسیع کردی گئی، اسپین میں کورونا وائرس سے 12ہزار اموات ہوچکی ہیں، جبکہ دنیا میں کورونا سے ہونے والی اموات 61 ہزارسے تجاوزکرگئی ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق اسپین حکومت نے کورونا وائرس کی خراب صورتحال کے باعث لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کردی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسپین میں کورونا سے اموات کی شرح 12ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح دنیا بھرمیں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد11 لاکھ 39 ہزار سے زائد ہوگئی۔

دنیا میں کورونا سے ہونے والی اموات 61 ہزارسے تجاوزکرگئی ہیں۔

کورونا وائرس سے متاثر 2 لاکھ 36 ہزار افراد صحت یاب ہوگئے۔ دوسری جانب دنیا کے 205 ملکوں تک پھیلے خطرناک وبائی مرض کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 11 لاکھ 17 ہزار 882 ہو گئی جبکہ اموات 59 ہزار 200 سے زائد ہوگئیں۔
کورونا مریضوں کی سب سے بڑی تعداد امریکا میں 2 لاکھ 78 سے زائد ہے، اس کے بعد اٹلی میں مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 19 ہزار 827 ہے۔ اسپین 1 لاکھ 19 ہزار 199 کورونا کے مریضوں کے ساتھ تیسرے اور جرمنی 91 ہزار 159 مریضوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات اٹلی میں 14ہزار 681، اس کے بعد 11ہزار 198 اسپین میں ہوچکی ہیں۔
امریکا میں 7 ہزار 402، فرانس میں 6 ہزار 507 اور برطانیہ میں 3 ہزار 605 افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔سب سے پہلے چین میں تباہی مچانے والے کورونا وائرس پر اب وہاں قابو پا لیا گیا ہے اور لگ بھگ 3 ہفتے سے چین میں کورونا وائرس کے بہت کم کیسز سامنے آ رہے ہیں۔چین میں متاثرہ مریضوں کا گراف 81 ہزار سے زائد پر رکا ہوا ہے جبکہ اموات 3 ہزار 326 ہو چکی ہیں۔
کورونا وائرس سے خوفناک صورتِ حال کا شکار رہنے والے چین کے شہر ووہان میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں، اس کے برعکس کورونا وائرس کے خوف سے لگ بھگ پوری دنیا ہی لاک ڈاون کا شکار ہو چکی ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک 40 اموات ہوچکی ہیں جن کے ساتھ متاثرہ مریضوں کی تعداد 2689 ہے، جبکہ ملک بھر میں 126 مریض صحت مند ہو چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں