چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ -فائدہ جہانگیرترین، خسرو بختیار کے بھائی و دیگر نے اٹھایا

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چینی اور آٹے کے بحران پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں بننے والی اس رپورٹ میں ملک کے کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام چینی بحران سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں سامنے آئے ہیں۔
واجد ضیا کی ہی سربراہی میں قائم کی گئی جی آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے چینی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو گروپ اور جے کے کالونی شوگر ملز کو ہوا۔
یہ دونوں شوگر ملز تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر خان ترین کی ملکیت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی شوگر ملز نے چینی بحران سے سبسڈی کی مد میں 56 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا جبکہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتے دار کی شوگر مل کو چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شوگر مل میں مسلم لیگ کے رہنما مونس الہی اور چوہدری منیر بھی حصہ دار ہیں۔ رپورٹ میں مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر کی فیکٹری کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
تاہم جہانگیر ترین نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق میں نے 12 فیصد چینی برآمد کی جبکہ میرا مارکیٹ شیئر 20 فیصد ہے۔ رپورٹ میں واضح ہے کہ میں نے اپنے حصے سے بھی کم چینی برآمد کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘میری ملوں کو ملنے والی تین ارب روپے سبسڈی میں سے اڑھائی ارب روپے تب ملے جب حکومت ن لیگ کی تھی اور میں اپوزیشن میں تھا۔
دوسری طرف وزیر غذائی تحفظ خسرو بختیار نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘میں نے ہمیشہ چینی سے متعلق حکومتی فیصلوں سے خود کو دور رکھا ہے۔’
انہوں نے کہا ہے کہ وہ مفادات کے ٹکراؤ کے تاثر سے بچنے کے لیے چینی سے متعلق حکومتی فیصلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔

خسرو بختیار نے کہا ہے کہ انہوں نے چینی سے متعلق حکومتی فیصلوں سے خود کو دور رکھا (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں پیدا ہونے والے چینی بحران کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا۔
چینی کا بحران کیوں پیدا ہوا؟
ایف آئی اے کی رپورٹ میں چینی بحران پیدا کرنے والے ذمہ داران کا بھی تعین کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی برآمد کرنے کے فیصلے سے ملک میں چینی کے بحران نے شدت اختیار کی۔ ‘چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا شوگر ایڈوائزری بورڈ بروقت فیصلے کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔’
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سال 2018-19 میں پیداوار کم ہونے کے باوجود چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس سے مقامی منڈی میں اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت میں اثرو رسوخ رکھنے والے اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والے شوگر مل مالکان نے کم وقت میں زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
‘چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے کمائے، پہلے چینی برآمد کرنے کی سبسڈی حاصل کی ہھر مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اُٹھایا۔’

10 شوگر ملوں کا فرانزک آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے (فوٹو: فیس بک)

رپورٹ کے مطابق 10 شوگر ملز کا فرانزک آڈٹ انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت شروع کر دیا گیا ہے جو کہ اپنی تفصیلی رپورٹ 40 روز کے اندر پیش کرے گی۔
اس کمیشن میں وفاقی تحقیااتی ادارے، انٹیلیجنس ایجنسیز، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اہم ادارے حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں رمضان کے مہینے سے قبل ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے سے بھی خبردار کیا ہے اور سفارش کی ہے کہ صوبائی حکومتیں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ سٹاک اور ضروریات تقریباً برابر ہیں لیکن تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔

ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا۔

دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الہٰی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

یہ انکشافات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے ) نے چینی اور آٹا بحران پر تحقیقاتی رپورٹ میں کیے ہیں۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے کس کے دباؤ میں آکر شوگر ملز کو سبسڈی دی۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کیٹی نے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت کیوں دی؟

ایف آئی اے کی رپورٹ میں آٹا بحران کی وجہ حکومتی رابطوں میں فقدان کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ یقین ہے کہ کوئی بھی صورتحال ہو وزیراعظم عمران خان انصاف کریں گے۔

جہانگیر ترین نے رپورٹ پر کہا کہ تین ارب روپے میں سے ڈھائی ارب کی سبسڈی ن لیگ کے دور میں دی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ میری کمپنیوں نے اپنی گنجائش سے کم چینی برآمد کی، میری کمپنیوں نے12.28 فیصد چینی برآمد کی جبکہ میرا مارکیٹ شیئر20 فیصد ہے
انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ چینی کی برآمد پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر تھی۔
میری کمپنیوں نے اپنی گنجائش سے کم چینی برآمد کی۔ میری کمپنیوں نے12.28 فیصد چینی برآمد کی جبکہ میرا مارکیٹ شیئر20 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ3 ارب روپے میں سے اڑھائی ارب کی سبسڈی ن لیگ کے دور میں دی گئی۔
جس وقت ن لیگ نے اڑھائی ارب کی سبسڈی دی اس وقت میں اپوزیشن میں تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں