65برس کے بزرگ صحافی کی بھوک ہڑتال

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کیخلاف 65برس کے بزرگ صحافی کی بھوک ہڑتال جاری ہے۔ سینئر صحافی اظہر منیر کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وہ پہلے بھی اہم سماجی شخصیات کی رہائی کے لیے بھوک ہڑتال کرچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر بڑھتی تنقید کے باوجود حکومت کوئی ردعمل دیتی نظر نہیں آرہی۔ جب کہ ایک تجربہ کار صحافی نے لاہور پریس کلب میں ان کی رہائی کے لیے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ 65 برس کے سینئر صحافی اظہر منیر کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ جب تک ان میں جان ہے وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ چار دہائیوں پر محیظ اپنے کیریئر میں وہ تاریخ اور حالات حاضرہ پر 14 کتابیں لکھ چکے ہیں۔ جب کہ انسانی حقوق اور سول آزادی سے متعلق سیکڑوں کتابچے اور پمفلٹس بھی انہوں نے شائع کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں ساتھی صحافیوں، پی ٹی آئی کے حامیوں اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 29 مارچ، 2020 سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس کے بعد سے انہیں نیب کیسز، گرفتار کرنے اور سنگین نتائج ملنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور وہ میر شکیل الرحمٰن یا حکومتی ایجنسیوں کے
ساتھ نہیں ہیں۔ ایک ساتھی منظور قادر کا کہنا ہے کہ اظہر منیر کمزور جسم میں ایک مضبوط روح رکھتے ہیں۔ اظہر منیر نے 1990 کی دہائی کے وسط میں جنگ گروپ کے ساتھ کام کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف حکومت نے جنگ گروپ کو نشانہ بنایا اور تقریباً اس کی اشاعت ختم کرتے ہوئے اس کے نیوز پرنٹ کی اشاعت 1999 میں روکی تو انہوں نے اس وقت بھی لاہور پریس کلب میں بھوک ہڑتال کی تھی ۔ حالاں کہ وہ جنگ گروپ چھوڑ چکے تھے اور ان کی کئی صحافیوں اور مالکان نے مخالفت بھی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 1990 کی دہائی میں ہی میانمار کی سول آزادی اور جمہوریت کی آئیکان آنگ سان سوچی کے لیے بھی مہم چلائی تھی اور اس حوالے سے اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں کو سیکڑوں خطوط بھی لکھے تھے۔ انہوں نے دی نیوز کو بتایا کہ اسی طرح انہوں نے متعدد قیدیوں کے لیے بھی مہم چلائیں۔ ان میں اسرائیل کے جوہری سائنس دان موردیکائی وانونو کے لیے بھی مہم چلائی تھی جنہوں نے بڑی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی مخالفت کی تھی اور اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی تفصیلات برطانوی پریس کو 1986 میں دے دی تھی۔ جس کے بعد اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد انہیں اٹلی سے گرفتار کرکے اسرائیل لے آئی تھی۔ جس کے بعد ان کا خفیہ ٹرائل کرکے 18 سال قید رکھا گیا تھا۔ اظہر منیر نے نائجیریا کے صحافی کین سارو ویوا کے لیے بھی مہم چلائی، جنہیں فوجی حکمرانوں نے سزائے موت دے دی تھی۔ جب کہ اظہر منیر نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے لیے بھی مہم چلائی تھی۔ اظہر منیر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد اکبر منیر اردو اور فارسی کے مشہور شاعت ، کالج لیکچرار تھے۔ جب کہ ان کا شمار علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان، سید سلمان ندوی اور تحریک پاکستان کے دیگر رہنمائوں کے دوستوں میں ہوتا تھا۔ اظہر منیر کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری نیب کے کالے قانون کی خلاف ورزی کے طور پر ہوئی ہے۔ جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی تصدیق کے مرحلے میں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو جنگ گروپ کا شکر گزار ہونا چاہیئے ، جس نے انہیں مشہور شخصیت، کپتان، سماجی رہنما اور سیاست دان بنایا اور ان کے ہر اقدام کو منظرعام پر لایا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی فطرت میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسن کو ہی ڈنگ مارتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں