امریکہ کا اصل ہدف پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ہے ۔آئی ایم ایف۔ سی آئی اے کا تسلسل ہے گورنراسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں ؟

پاکستان کے عالمی اور علاقائی دشمنوں کا اتحاد منظم طریقے سے ہماری سرحدوں کے اندر جگہ بنا چکا ہے اور ہماری معیشت کو کمزور سے کمزور تر بنا رہا ہے ہمیں غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا دینا چاہتا ہے یہاں تک کہ ہم اپنے فیصلوں میں ہر سطح کی آزادی اور خودمختاری کھو بیٹھی اور غیر ملکی اشاروں پر فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائیں دشمن کا اصل ہدف کل بھی پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام تھا اور آج بھی اس کے نشانے پر ہمارا نیوکلیئر پروگرام ہے ۔

ہمارے انٹیلیجنس اور دفاعی اداروں کی موجودگی میں دشمن اب تک ہمارے نیوکلیئر پروگرام کو سبوتاز کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اسے مسلسل شکست ہوتی آئی ہے جب جب اس نے ہمارے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف کوئی نئی چال چلی اس کے تمام کرداروں کو منہ کی کھانی پڑی ۔
پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے مضبوط ترین دفاع اور زیرو ایکسیڈنٹ کو دنیا مانتی ہے اس کا زبردست دفاع کرنے والے تمام موجودہ اور ماضی کے کردار ہمارے قومی ہیروز ہیں ان کی خدمات پر ہمیشہ فخر رہے گا ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آج بھی دشمن نیوکلیئر پروگرام کو رول بیک کرانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے اس کا پلان ہے کہ معیشت کو کمزور بنایا جائے ۔انٹیلی جنس افسران اس بات پر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا آئی ایم ایف امریکی سی آئی اے کا آپریشنل ونگ یا ایک طرح سے ذیلی ادارہ سمجھا جاسکتا ہے اور دراصل اس کے قیام کا مقصد ہی سی آئی اے کے اہلکاروں کو اپنے اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے سی آئی اے سے ٹرینڈ اہلکاروں کو آئی ایم ایف میں بھیجا جاتا ہے ۔اور وہ دنیا میں مختلف ملکوں میں مخصوص آپریشن انجام دیتے ہیں ۔

پاکستان میں 2018 الیکشن کے بعد جب پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت بنی تو وزیراعظم عمران خان کے لیے نیا پاکستان بنانے والے سب سے اہم شخص اسد عمر تھے جنہوں نے معیشت کے معاملات کو سنبھالنا تھا لیکن حکومت کی معاشی ٹیم کے سربراہ کو آئی ایم ایف کی خاتون سربراہ نے ایک سابق وزیراعظم کے ذریعے ناک آؤٹ کرادیا آئی ایم ایف نے اسد عمر کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہوئے پہلے ان کی وکٹ گرا ئیں یو عمران خان کی حکومت کو پہلا دھچکا اسی وقت لگا جب معاشی ٹیم کے سربراہ اسد عمر کو ہٹا کر خزانے کے معاملات آئی ایم ایف کے منظور نظر حفیظ شیخ کی سپورٹ کرنے پڑے ۔

کسی ملک کی معاشی پالیسیوں کو چلانے میں سب سے اہم کردار اسٹیٹ بینک جیسے ادارے کا ہوتا ہے اور اسد عمر کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد پہلا کام یہ کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک کا گورنر تبدیل کیا گیا اور آئی ایم ایف کے لیے خدمات انجام دینے والے رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک مقررکردیا گیا طارق باجوہ کو فارغ کردیا گیا باقر رضا آئی ایم ایف کے باقاعدہ ملازم تھے جب ان کو پاکستان بھیجا گیا اس وقت وہ مصر میں خدمات انجام دے رہے تھے وہ سال 2000 سے آئی ایم ایف کے ساتھ تھے ۔

پاکستان کے ٹاپ بزنس مین حیران ہیں کہ اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معیشت کو اٹھانا ہے یا ڈبونا ہے کیونکہ دنیا بھر میں ایک یا دو فیصد شرح سود پر لوگ بزنس کر رہے ہیں بھارت نے بھی چار فیصد ہے لیکن پاکستان میں پہلے 13فیصد ۔اللہ کی پناہ ۔۔۔۔اسے کم کرکے ساڑھے گیارہ فیصد پر لانے کا احسان کیا گیا اور اب جبکہ پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے ایل پروڈکشن کم کھپت کم ہوچکی ہے تو شرح سود بمشکل دس فیصد تک لانے کا اعلان کیا گیا ہے وہاں بڑا تیر مارا گیا ہے ۔

اس لئے پاکستان کے ٹاپ بزنس مین اور صنعتکار یہ سمجھتے ہیں کہ گورنر اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں آئی ایم ایف نے دیگر ملکوں کو ڈبویا ہے اب پاکستان کو بھی مشکل صورتحال سے دوچار کرنے جارہی ہے ۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کپتان کی حکومت میں پہلی مرتبہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب 12 ارب 75 کروڑ تک پہنچے ہیں 27 مہینے پہلے بھی پاکستان کے پاس اتنے ہی ڈالر تھے لیکن نومبر 2017 کے بعد مالی حالات خراب ہوتے چلے گئے 2018 میں الیکشن کے بعد کپتان کی حکومت بنی اس وقت حالت یہ تھی کہ ہمارا ملک اگر ایک ڈالر کماتا تھا تو دو ڈالر خرچ کر دیتا تھا اس لئے بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ سنگین ہوتا گیا ضروری امپورٹرز اور قرضوں کی اقساط کی ادائیگی بھی مشکل ہوتی جا رہی تھی ہنگامی میں اقدامات نہ کیے جاتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا ۔چنانچہ کپتان نے دوست ملکوں کے دورے شروع کیے جن کے نتیجے میں سعودی عرب اور چین سے 10 ارب ڈالر کی مدد مل گئی سعودی عرب میں ہر سال تین ارب ڈالر کا تیل بھی ادھار فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔
18 جنوری 2019 وہ دن تھا جب پاکستان کے ذخائر میں صرف چھ ارب ساٹھ کروڑ ڈالر باقی رہ گئے تھے پچھلے پانچ سال میں یہ کام ترین دکھائے تھے اور صرف دو مہینے کے امپورٹ بلز کی ادائیگی کے قابل رہ گئے تھے غیرملکی ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کی نوبت آ چکی تھی ۔
جولائی 2019 میں آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کی ڈیل کر لی گئی جس کے نتیجے میں 22 کروڑ عوام کو بھاری سود ادا کرتے رہنا پڑے گا اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے نتائج بھی بہت نا پڑیں گے آئی ایم ایف کے قرضے کی وجہ سے بظاہر ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بھی پاکستان کی مدد کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں ڈالر جس نے سال کے شروع میں اونچی اڑان بھر لی تھی 25% روپیہ گر گیا تھا وہ ڈالر 155 روپے پر اگست 2019 میں پہنچ گیا سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کو روکا تھا جس کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ وہ ایک مصنوعی طریقہ تھا ۔

گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا کے دور میں اصل کھیل کھیلا گیا ہاٹ منی ۔ان فلو کے ذریعے ۔

بیرونی ممالک سے تین ارب ڈالر سے زائد مالیت کے گورنمنٹ ٹریزری بلز خریدے گئے جولائی 2019 تک ۔کیونکہ وہ پاکستانی روپیہ میں 13فیصد ریٹن حاصل کر رہے تھے جو کہ امریکن اور یورپی مارکیٹ کے مقابلے میں بے تحاشہ زیادہ ریٹرن بنتا تھا ۔

اب ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تو 76 فیصد کم ہو چکا ہے لیکن ماہرین متنبے کر رہے ہیں کہ اگر شارٹ ٹرم لونز منافع کے ساتھ ایک سال میں ادا کرنے پڑے تو ڈالر کا فلو ریورس ہو جائے گا اور اس طرح ہم ملک دوبارہ وہیں کھڑا ہو جائے گا جہاں اٹھارہ مہینے پہلے تھا ۔
بیلنس آف پیمنٹ کرائسس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی ایکسپورٹس بڑھائی جائیں

یہ بات ذہن میں رکھیے کہ اس وقت پاکستان کا اسٹیٹ بینک اور معاشی پالیسی آئی ایم ایف کے ماتحت چل رہی ہے اور تھوڑا پیچھے چلتے ہیں جب آئی ایم ایف کے بارے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دنیا نیوز پر معید پیرزادہ کو کہا تھا کہ ۔۔۔۔۔

سیاستدان کچھ وعدے کر کے حکومت میں آتے ہیں یہ وعدے دو طرح کے ہوتے ہیں کچھ عالمی طاقتوں سے اور کچھ اپنے عوام سے ۔لیکن پھر حکومت میں آنے کے بعد یہ سیاستدان اپنے وعدے آنر نہیں کر پاتے کیونکہ ہمارے انٹیلیجنس ادارے ان کے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں جب سیاستدان اپنی ڈیل آنر نہیں کر پاتے تو مشکلات شروع ہوتی ہیں ہمارے انٹیلیجنس ادارے کسی سیاستدان یا سیاسی حکومت کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصد امریکی ایجنڈے کو بلاک کرنا ہوتا ہے جب آئے یحیٰی بنائی گئی تو اس کا مقصد بھی امریکی ایجنڈے کو بلاک کرنا تھا بعد کے ادوار میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے کئی مرتبہ آئی جے آئی جیسے کام کیے اور ان کامقصد بھی امریکی ایجنڈے کو بلاک کرنا تھا ۔
امریکہ اسرائیل اور بھارت پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام سے خائف رہے ہیں اور یہی ان کا اصل ہدف ہے پاکستان کے ادارے انٹرنیشنل گیم کو سمجھتے اور جانتے ہیں اس لیے وہ حکومتوں کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ امریکی ایجنڈا آگے نہ بڑھ سکے پاکستان کے جرنیلوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ پاکستان کے کور انٹرسٹ کا دفاع کریں کیونکہ مغربی جمہوریت نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا ۔

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com

اپنا تبصرہ بھیجیں