کیا بے نظیر قتل کیس میں مشرف کا فارمولا ضیاء الحق کیس پر بھی لاگو ہو نا چاہیے ؟

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کا بینیفشری میں نہیں تھا میرا تو صرف نقصان ہی نقصان ہوا فائدہ صرف ایک شخص کا ہوا جس کا نام ہے آصف زرداری ۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بینیفیشری کے حساب سے تیار کردہ مشرف فارمولا زیر غور لایا جائے تو کیا یہ فارمولہ جنرل ضیاء الحق کی موت کے معاملے میں جنرل مرزا اسلم بیگ اور صدر غلام اسحاق خان پر بھی لاگو ہونا چاہیے یا نہیں ؟
کیونکہ اگر بینظیر بھٹو کے قتل کا نقصان مشرف کو ہوا اور اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور فائدہ آصف زرداری کو ہوا کہ وہ پانچ سال کے لیے صدر بن کر بیٹھ گئے تو یہی سوال جنرل ضیاءالحق کیس میں بھی اٹھتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس کا فائدہ مرزا اسلم بیگ کو ہوا وہ آرمی چیف بن گئے اور چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو فائدہ ہوا وہ صدر بن کر بیٹھ گئے ۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے خود اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے امریکی ایجنٹ کو بلاک کرنے کے لیے بینظیر بھٹو کے سامنے آئی جے آئی بنائی اس کے باوجود بے نظیر کو عوامی طاقت اتنی زیادہ حاصل تھی کہ انہیں وزیر اعظم بننے سے نہ روکا جا سکا لیکن بے نظیر کو عددی اکثریت اتنی ہی ملی کہ وہ ایک کمزور حکومت کی وزیراعظم بن سکیں اپنی مرضی کا صدر نہ لا پائیں ۔حالانکہ بے نظیر بھٹو نے خود اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ملک قاسم کو صدر بنانا چاہتی تھی لیکن ایسا ممکن نہیں تھا اس لیے غلام اسحاق کو صدر بنانا پڑا جنہوں نے محض اٹھارہ مہینے بعد ہی ہماری حکومت کو فارغ کر دیا ۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر پرویز مشرف امریکیوں کے ساتھ چلتے رہے تو انٹیلیجنس اداروں کو یہ سب کچھ قابل قبول تھا لیکن یہی کام اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کرتے تو وہ قبول نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ان پر تشدد کیا جاتا تھا یہ کیسا ڈبل اسٹینڈرڈ تھا ۔
حمید گل نے خود کہا تھا کہ یہ ایک ایسی ٹسل ہے جو برسوں سے چل رہی ہے اس پر سیرحاصل بحث کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مختلف ادوار میں ترجیحات مختلف نظر آتی ہیں ۔
سیاسی حکومتوں میں حکمرانوں کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جاتے رہے بے نظیر بھٹو کے دور میں برگیڈیئر امتیاز اور میجر عامر کے حوالے سے الزامات سامنے آئے مڈ نائٹ جیکال کا چرچا بھی ہوا کہا جاتا ہے کہ مرزا اسلم بیگ چاہتے تھے کہ حکومت کو رخصت کر دیا جائے اس لئے ڈیڑھ سال میں ہی بے نظیر بھٹو کی حکومت فارغ کردی گئی حالانکہ سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل نے اے آر وائی کے پروگرام میں کاشف عباسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے گواہی دی تھی کہ میں بے نظیر بھٹو وہ تمام الزامات سے بیل آؤٹ کرتا ہوں اور یقین سے کہتا ہوں کہ بے نظیر بھٹو نیوکلیئر اور کشمیر کے معاملات پر کوئی کمپرومائز کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں ان کا اور فوج کا موقف ایک تھا لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت اداروں میں ایک خاص قسم کی فضا تھی اور یہ خوف بھی تھا کے فوج نے بھٹو کو پھانسی دی ہے بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ قذافی اسٹیڈیم میں جو کچھ ہوا پتھر پڑے تو جب بنظیر وزیراعظم بن کے آئے گی تو وہ سب کا بدلہ بھی لے سکتی ہے جماعت اسلامی اور دیگر پی پی مخالفین نے کھل کر بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک کہنا شروع کر دیا تھا ۔
خود بے نظیر بھٹو نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ یوسف رمزی مجھے دراصل قتل کرنا چاہتا تھا جب اسے گرفتار کیا گیا تو وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ اسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کیس میں نہیں بلکہ بےنظیر قتل سازش کیس میں گرفتار کیا گیا ہے اس بات کا اعترافی بیان اس نے خود دیا تھا ۔

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com

اپنا تبصرہ بھیجیں