وزیراعظم کے تعمیراتی شعبہ کیلئے پیکیج سے انڈسٹری چلے گی

چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا ہےکہ حکومتی رعایتوں سے تعمیراتی شعبہ اور مزدوروں کو فائد ہو گا انڈسٹری چلے گی ،چیئرمین عارف حبیب گروپ عارف حبیب نے کہا کہ یہ رعایت ایک دو سال کیلئے نہیں زیادہ عرصہ کیلئے ہونی چاہئے نوٹیفکیشن لکھنے میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، پالیسی میکرز صحیح طریقے سے نوٹیفکیشن بنائیں تاکہ صنعت فروغ پائے، ایسا نہ ہو کہ تعمیراتی شعبہ بلیک منی کا پارکنگ لاٹ نہ بن جائے، اگر ایسا ہوا تو زمینیں مزید مہنگی ہوجائیں گی ،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت لینا بہت مشکل ہے اس عمل کو سہل بنانا ضرور ی ہے،ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر ایسے پیرامیٹرز طے ہوسکیں جس میں معاشی سرگرمیوں کے ساتھ لوگوں کی صحت کمپرومائز نہ ہو تو ہمیں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے کہا کہ وزیراعظم کے رعایتی پیکیج کا مقصد تعمیراتی شعبہ میں مزدوروں کو فائدہ پہنچانا ہے، اس پیکیج سے فائدہ اٹھانے کیلئے فوری تعمیراتی سرگرمیاں ضروری ہوں گی، زمین لے کر رکھ دی گئی تو اس کا مقصد فوت ہوجائے گا، اپریل سے دسمبر تک شروع ہونے والے پراجیکٹس پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، ان پراجیکٹس کو جون یا دسمبر 2022 ء تک مکمل کرنا ہوگا، چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ وزیراعظم کے تعمیراتی شعبہ کیلئے پیکیج سے انڈسٹری چلے گی، کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے ماحول سے تمام کام اس وقت متاثر تھے، حکومتی رعایتوں سے تعمیراتی شعبہ اور مزدوروں کو فائدہ ہوگا، وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو اچھے پیکیج پر مبارکباد دیتا ہوں، حکومتی پیکیج میں ہمارے کافی مطالبات مانے گئے ہیں البتہ کچھ نکات باقی ہیں، ایک مسئلہ یہ ہے کہ اتھارٹیز تعمیراتی کام کی اجازت دینے میں بہت تاخیر کرتی ہیں ، حکومت اجازت دینے کے عمل میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کرے۔محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں تعمیراتی کام ہوگا وہاں ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، جہاں پوری تعمیراتی صنعت چلے گی وہاں پر ہی یہ ریلیف ہوگا، جہاں چھ مہینے ایک سا ل میں کنسٹرکشن شروع ہوگی صرف انہیں ہی ٹیکس سے استثنیٰ ہوگا، بلڈرز کم شرح سود پر قرضوں کے بعد کم لاگت ہاؤسنگ کی طرف جائیں گے، مارکیٹ میں خریداروں کی بڑی تعداد وہی ہے جس کے پاس گھر خریدنے کے وسائل نہیں ہیں۔ چیئرمین عارف حبیب گروپ عارف حبیب نے کہا کہ وزیراعظم کے تعمیراتی شعبہ کیلئے مراعاتی پیکیج سے اس صنعت کو فائدہ ہوگا، ٹیکسوں کا استثنیٰ ڈویلپرز کیلئے نہیں مانگا گیا تھا، مطالبہ یہ تھا کہ جائیداد خریدنے والوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ اپنے بلیک کے پیسے وہاں لگادیں یہ ریئل اسٹیٹ کیلئے زیادہ بدنامی کا باعث ہوگا، یہ رعایت ایک دو سال کیلئے نہیں زیادہ عرصہ کیلئے ہونی چاہئے،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت لینا بہت مشکل ہے اس عمل کو سہل بنانا ضرور ی ہے۔ جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب کا کہنا تھا کہ وفاق کے بعد تمام صوبے بھی تعمیراتی سرگرمیاں بڑھانے کیلئے مراعات دیں گے، تعمیراتی سرگرمیاں بڑھنے سے ڈویلپمنٹ سے لے کر مکانات کی دستیابی اور انڈسٹریاں چلنے تک فوائد ہی فوائد ہیں، اس حوالے سے نوٹیفکیشن لکھنے میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، پالیسی میکرز صحیح طریقے سے نوٹیفکیشن بنائیں تاکہ صنعت فروغ پائے، ایسا نہ ہو کہ تعمیراتی شعبہ بلیک منی کا پارکنگ لاٹ نہ بن جائے، اگر ایسا ہوا تو زمینیں مزید مہنگی ہوجائیں گی۔پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے کہا کہایک این جی او کے ساتھ مل کر کم لاگت مکانات کی تعمیر شروع ہوگئی ہے ، اس سال 14ہزار مکانات مکمل کر کے لوگوں کو دیدیئے جائیں گے۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کورونا متاثرین کی شناخت کیلئے ٹیسٹنگ کی رفتار میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، سندھ حکومت 1800ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مطلوبہ تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ 600ٹیسٹ کرپارہے ہیں، سندھ حکومت نے مارچ میں دس ہزار ٹیسٹنگ کٹس درآمد کرلی تھیں جس کی وجہ سے شروع میں تیزی سے ٹیسٹ کررہے تھے، ٹیسٹنگ کٹس کی اگلی شپمنٹ چار اپریل تک پہنچ جائے گی اس کے بعد ٹیسٹنگ کی رفتار بڑھاسکیں گے۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کو تقریباً2800ٹیسٹنگ کٹس دی تھیں، این ڈی ایم اے نے چین سے آنے والی 200کٹس سندھ کو دی ہیں، پاکستان میں ٹیسٹنگ کٹس بن جاتی ہیں تو ٹیسٹ کیلئے انہیں ترجیح دیں گے، زکوٰة ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ ایک لاکھ لوگوں میں ہر شخص کو چھ ہزار روپے دیئے ہیں، فلاحی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر پونے دو لاکھ خاندانوں کو راشن بیگ تقسیم کیے جاچکے ہیں، مستحق لوگوں کی شناخت کیلئے میسیج مہم بھی شروع کی تھی، کسی صوبائی حکومت کے پاس ڈیلی ویجرز کا ڈیٹا نہیں ہے، ڈیٹا پراسس کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے درکار مدد نہیں ملی، وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ میں طے ہوگیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت مل کر اس ایشو پر کام کرے گی ، فوری ریلیف کیلئے ڈپٹی کمشنر ز کی سطح پر پیسے تقسیم کردیئے ہیں ،اس کے بعد یونین سطح پر لوگوں کو راشن کی تقسیم شروع ہوگئی ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاق کے تعمیراتی شعبہ کو پیکیج پر وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی سطح پر بات ہونا ضروری ہے، ہماری حتی الامکان کوشش ہوگی کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں، وفاقی حکومت کے ساتھ معاشی

سطح پر تعاون کریں گے مگر یہ لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر نہیں ہوگا، انسانی جان کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت کوشش کرے گی کہ لوگوں کی صحت کا تحفظ کیا جاسکے، اگر ایسے پیرامیٹرز طے ہوسکیں جس میں معاشی سرگرمیوں کے ساتھ لوگوں کی صحت کمپرومائز نہ ہو تو ہمیں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں