تاجروں کو بلا سودقرضے دئیے جائیں،سرمایہ کاری کے رجحان کیلئے پالیسی ریٹ مزید کم کیا جائے

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدراشرف بھٹی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مختلف شعبوں کیلئے اعلان کردہ ریلیف پیکج میں نظر انداز کرنے پر تاجر طبقے میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ،تاجروں کی اکثریت اتنے وسائل نہیں رکھتی کہ کاروبار دوبارہ کھلنے پر ادھار خرید گئے سامان کی ادائیگیاں ،نئی خریداری ،یوٹیلٹی بلز اور عملے کی تنخواہیں ادا کر سکیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز مختلف مارکیٹوں کے تاجر رہنمائوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ محمد اشرف بھٹی نے کہا کہ حکومت کومعیشت میں حصہ ڈالنے والے تمام شعبوں کو ایک نظر سے دیکھنا چاہیے ،پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کیلئے جی ایس ٹی کو تین ماہ کیلئے صفر فیصد کیا گیا ہے جو قابل تحسین ہے لیکن بہت سے شعبے ایسے ہیں جنہیں اس طرز پر ریلیف ملنا چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے تاجروں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے بلا سودقرضے فراہم تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں ۔ اس کے ساتھ پالیسی ریٹ میں کمی لائی جائے تاکہ لوگ اپنے طو رپر بینکوں سے قرضے لے کر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ اگر حکومت نے کوروناسے متاثرہ معیشت کو دوبارہ پائوں پر کھڑا کرنا ہے تو اسے ہر شعبے کی معاونت کرنا ہو گی،سوتیلی ماں جیسے سلوک پر تاجربرادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اورتاجر طبقہ اس پر دلبرداشتہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں