وزیرِ اعظم سے میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر بات کی ہے: شیخ رشید

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ حکومت کے مشکور ہیں کہ انہوں نے تنخواہوں کے لیے سبسڈی دی ہے، ٹرینیں حفاطتی اقدامات مکمل کر کے چلائیں گے، 14 اپریل کو کورونا کی صورتِ حال واضح ہو جائے گی، اگر وائرس بڑھاتو 15 اپریل کو ٹرینیں نہیں چلائیں گے۔

انہو ںنے کہا کہ کورونا کی صورتِ حال کنٹرول میں ہوئی تو وزیر ِاعظم عمران خان کی اجازت سے ٹرینیں چلائیں گے اور 15 اپریل کو ٹرینیں نئی شکل کے ساتھ نکلیں گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے کو سب سے زیادہ فکر عوام کی تھی، لاک ڈاؤن سے قبل ہم نے بیس بیس ٹرینیں ایک ایک دن میں چلائی ہیں۔

انہو ںنے کہا کہ بھارت میں کورونا سے نہیں ، پیدل گھر کے لیے نکلنے والے افراد مرے ہیں، بھارت کے52لوگ سڑکوں پر مر گئے، کیونکہ وہ لوگ پیدل چل پڑے تھے۔

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوےنے آخری دو روز میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، ہم نے ایک لاکھ 65 ہزار لوگوں کو بذریعہ ٹرین گھروں میں بھیجا ہے۔

انہو ںنے کہا کہ ہم آخری دو روز میں 40ٹرینیں نہ چلاتے تو کراچی میں لوگ ایڑیاں رگڑ رہےہوتے، ہم نےآخری 2روز میں چالیس ٹرینوں سےایک لاکھ 65ہزار مسافروں کو منتقل کیا۔

وزیرِ ریلوے نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور قوم کو بچانا ہے، 1670 قلی ہیں، تمام کو احساس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا، ہمیں ایک ارب 20 کروڑ روپے کا ہر ہفتے نقصان ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ لاک ڈاؤن ختم کیا تو 20 مسافر ٹرینیں چلائیں گے، ٹرینیں چلانے کے لیے لوگوں کا اصرار ہے اور مجبوریاں ہیں، ہم حکومت کے فیصلے کے پابند ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ 15تاریخ سے وزیر اعظم عمران خان کی اجازت سے فریٹ ٹرین شروع کریں گے، ٹائیگر فورس کے پاس کوئی پیسے اور اختیارات نہیں ہیں، صرف خدمت کا جذبہ ہے، پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر فلاحی کام ہو رہا ہے۔

انہو ںنے کہا کہ لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر کیڑے نکالنے والوں کا وقت ختم ہو چکا ہے، حادثات اور امتحانات سے ہی لیڈر شپ کا پتا چلتا ہے۔

ریلوے کے وزیر نے کہا کہ ریلوے کے پنشنرز اور تنخواہ داروں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی، ہمارے ہاں دیگر ممالک کے مقابلے حالات بہت بہتر ہیں۔

انہو ںنے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیریوں پر ظلم کی مذمت کرتے ہیں، ان کے ساتھ ساری قوم کھڑی ہے۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے کا کوئی ملازم کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوا، رائیونڈ میں لوگوں کے ساتھ جو بدتمیزی کی گئی ہے اس کی مذمت کرتا ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی رائے نقطہ چینی کے مترادف ہے، قوم دیکھ رہی ہے کہ ان کا کیا رویہ ہے، انہوں نے کام کرنا ہے تو لیپ ٹاپ کے آگے نہ بیٹھیں

courtesy jang urdu

اپنا تبصرہ بھیجیں