کورونا کی روک تھام کےساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچانا ہے : وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم تعلیمی اداروں، خرید و فروخت کے بڑے مراکز، شادی ہالز، اور ریستورانوں سمیت ایسے تمام مقامات بند کر چکے ہیں جہاں افراد کے جمع ہونے کا احتمال ہو۔ تاہم ان بندشوں کے تباہ کن اثرات سے بچاؤ کیلئے پہلے زرعی شعبہ کھلا رکھا گیا اور اب ہم تعمیرات کے شعبے کو کھول رہے ہیں ۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ برصغیر میں بلند شرحِ افلاس کیساتھ ہمیں پابندیوں میں حدددرجہ توازن درکار ہے۔ کرونا کا پھیلاؤ کم کرنے یا اسے مکمل طور پر روکنے کیلئے اگرچہ بندشیں ضروری ہیں تاہم اہتمام لازم کہ ان بندشوں کے باعث لوگ فاقوں مریں نہ ہی معیشت کا شیرازہ بکھرے۔ درحقیقت ہم ایک تنی ہوئی رسی پر گامزن ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں 14 اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے ۔
کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان بھی اس وبا سے متاثر ہوا ہے ، ملک میں مہلک وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 40ہوگئی جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد2708 تک پہنچ گئی ہے۔

Courtesy Gnn



اپنا تبصرہ بھیجیں