ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پر امریکا کا ردعمل فطری ہے ، وزیرخارجہ

ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پر امریکا کا ردعمل فطری ہے ، وزیرخارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پر امریکا کا ردعمل فطری ہے، پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف بہت قربانیاں دیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ نےملزمان کو90دن کےلیےحفاظتی تحویل میں لےلیا، حکومت سندھ کی جانب سےفیصلےکےخلاف اپیل بھی دائرکی جائےگی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اب بیرون ملک پاکستانیوں کوواپس لانانسبتاًآسان ہے، اب کہیں کہیں پاکستانی چھوٹی تعدادمیں پھنسے ہوئے ہیں۔

گذشتہ روز وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت ڈینیئل پرل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے دو اپریل کے فیصلے سے آگاہ ہے اور فیصلہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات کے تناظر میں اگرچہ یہ ایک صوبائی معاملہ ہے ، اسی تناظر میں سندھ کی حکومت کے ساتھ بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال میں سندھ حکومت نے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اپیل آئندہ ہفتہ سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔

اعجاز شاہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاق نے سندھ حکومت کو انصاف کے تمام تقاضےپورے کرنے، اپیل دائر کرنے کے حوالے سے بہترین وسائل استعمال کرنے اور معاملہ پر اٹارنی جنرل پاکستان سے بھی مشاورت کرنے کا کہا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق اپیل دائر ہونے کا عمل مکمل ہونےتک تمام ملزمان کے خلاف نقص عامہ کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے اور تمام ملزمان کواپیل دائر ہونے تک تین ماہ کے لیے نظربند کیا گیاہے ،وزارت داخلہ

ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اور حکومت پاکستان دہشتگردوں منطقی انجام تک پہنچانے کے لیےتمام قانونی ضابطے پورے کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

یاد رہے سندھ ہائی کورٹ نےڈینیل پرل قتل کیس کےتین ملزمان کوبری کردیا تھا جبکہ مجرم احمدعمرشیخ کی سزائے موت سات سال قید میں تبدیل کر دی گئی تھی۔

بعد ازاں محکمہ داخلہ سندھ نےڈینئل پرل قتل کیس میں بری ہونیوالے چار ملزمان کودوبارہ تحویل میں لیکر نظر بندکردیا تھا۔

خیال رہے امریکہ کی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا تھا کہ ڈینئل پرل کے اغواء اور قتل کے ذمہ داروں سے مکمل انصاف ہونا چاہیے، حکومت پاکستان کی اپیل کرنے کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

Courtesy Ary News

اپنا تبصرہ بھیجیں