تاجر برادری اور عوام نے بجلی کے اضافی بل مسترد کردیئے ۔بزنس کمیونٹی نے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج ایڈجیسٹمینٹ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔

ایک طرف ملک بھر میں کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے عوام پریشان ہیں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہونے سے بے روزگاری اور مہنگائی بڑھ رہی ہے دوسری طرف بجلی کے اضافی بلوں نے عوام کے لیے مزید پریشانی پیدا کردی ہے ۔
ملک بھر کی تاجر برادری نے بجلی کے اضافی بلوں کو مسترد کردیا ہے پر متنبہ کیا ہے کہ اگر اضافی بل واپس نہ لیے گئے تو پھر سول نافرمانی کی طرف مجبور ان جانا پڑے گا ۔
تاجر برادری کے رہنما سراج قاسم تیلی نے خبردار کیا ہے کہ تاجروں کو دیوار سے مت لگایا جائے عمران خان کی حکومت ہوش کے ناخن لے کراچی کے عوام کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتی اور ناانصافی ہو چکی ہے اب ان کا حوصلہ اور برداشت جواب دے رہی ہے حکومت فوری طور پر انڈسٹریل سپورٹ پیکج ایڈجسٹمنٹ آئی ایس پی اے واپس لے ورنہ تاجربرادری مجبور اپنے کارخانے اور فیکٹریاں بند کرکے مزدوروں کے ساتھ سڑک پر آ بیٹھے گی انہوں نے کہا کہ ایک طرف کرونا وائرس کی بیماری سے لوگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف بے روزگاری پھیل رہی ہے تاجر برادری سے کے الیکٹرک کس چیز کا بدلہ لے رہی ہے دنیا میں بجلی کے بل معاف ہو رہے ہیں پاکستان میں اگر حکومت بجلی کے بل لوگوں کو معاف نہیں کرسکتی تو کم ازکم اضافی بل تو نہ لے اتنا ریلیف تو دیا جائے کہ اضافی بل نہ بھیجے جائیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاجر برادری جس کے تمام نمائندے ان کے ساتھ ہیں وہ کے الیکٹرک کی طرف سے بھیجے گئے بالوں میں انڈسٹریل سپورٹ پیکج ایڈریس منٹ کے نام پر جو پیسے لگائے گئے ہیں وہ ادا نہ کریں اور اگر کہ الیکٹرک نے اس کے بغیر بل وصول کرنے سے بینکوں کو نہ بتایا اور وصول نہ کیے تو پھر مکمل ادا نہیں کیا جائے گا کے الیکٹرک والے اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ہمارے بازو مروڑ کر بل وصول کرلیں گے اب ایسا نہیں چلے گا کراچی جو پورے ملک کی معیشت کو چلاتا ہے 70 فیصد ریونیو دیتا ہے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے اس کے ساتھ ہر حکومت نے سوتیلی ماں کا سلوک کیا ماضی میں بھی بہت زیادتیاں اور ناانصافی ہوئی اب عمران خان کی حکومت بھی ایسا ہی کر رہی ہے خدارا ہوش کے ناخن لے کراچی کو چلنے دیں کراچی کی انڈسٹری کو چلنے دیں دنیا میں کہیں بھی انڈسٹری بند نہیں کی جاتیں لیکن ہمارے یہاں جس کا دل کرتا ہے کبھی گیس کا پریشر کم کر دیتا ہے کبھی بجلی چلی جاتی ہے انڈسٹریوں کو تالا لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے تاجر برادری کیا کرے حکومت نے بڑے بڑے ریلیف کے اعلان کر دیے ہیں پتہ نہیں ماضی میں عمران کیا کرتے رہے اور اب عمر ایوب بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جب دنیا لاک ڈاؤن کی طرف چلی گئی تو ہم کس کو ایکسپورٹ کریں گے ایسا رعایتی پیکج ہمارے کس کام کا اگر لیفٹ دینا ہے تو عوام کو بجلی پانی گیس کے بلوں میں ریلیف دیا جائے بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر جگہ پر جو بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں ان پر پیسے خرچ ہوتے ہیں حکومت کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کے الیکٹرک والے عوام کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر رہے اضافی بل بھیج رہے ہیں لوگ یہ بلکہ اسے ادا کریں گے انڈسٹری کیسے چلے گی ۔

کراچی چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے وفاقی حکومت سے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج ایڈجسٹمنٹ آئی ایس پی اے مستقل طور پر واپس لینے کی درخواست کی ہے جس سے صنعتکاروںکو باالخصوص حالیہ انتہائی نازک صورتحال میں کسی حد تک ریلیف مل سکے گاجنہیں ایک جانب تو بری طرح کم ہوتی پیداوار کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف انہیں تنخواہوں کی ادائیگی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ورکرز جو کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں ان کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست کرنے کے حوالے سے اضافی اخراجات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔
کے سی سی آئی کے صدر نے چیئرمین کیبنٹ کمیٹی برائے توانائی اسد عمر کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اگرچہ کے الیکٹرک نی30اپریل تک آئی ایس پی اے کی مد میں بقایاجات مؤخر کر دیے ہیں لیکن تاجروصنعتکار برادری پر یہ تلوار لٹک رہی ہے کیونکہ انہیں 30اپریل2020کے بعد ایک بار پھر بھاری بھرکم بلوں کی صورت میں ناانصافی کا سامنا کرنا پڑے گا اور صنعتکار برادری کے لیے اتنی بڑی رقم پر مبنی بلوںکی ادائیگی کرنا ناممکن ہوگا جس میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہوگا لہٰذا کابینہ کمیٹی برائے توانائی وزارت توانائی سے آئی ایس پی اے چارجز وصول نہ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی درخواست کرے۔

انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک کو براہ راست آئی ایس پی اے چارجز وصول نہ کرنے کی ہدایت کی جائے اور حکومت اس معاملے کو خود نمٹائے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ جولائی 2019 سے دسمبر2019 تک بجلی کے بلوں میں آئی ایس پی اے کی مد میں بقایات عائد کیے گئے ہیں جو صنعتکاروں کی مشکلات میں اضافہ کریں گے کیونکہ باالخصوص موجودہ حالات میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے جوکم ہو کر تقریباً25سی30فیصد کے درمیان تک گر چکی ہے۔
آغا شہاب نے تاجروصنعتکار برادری کی مشکلات کو کم سے کم کرنے اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگلے 3ماہ کے لیے ٹیکسوں کی شرح( ایکسائز و سیلز ٹیکس وغیرہ)، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں،یوٹیلیٹی نرخ(بجلی و گیس) اور شرح سود میں50 فیصد کمی کا اعلان کیا جائے۔انہوں نے رائے دیتے ہوئے کہاکہ ابتک کیے گئے بیشتر امدادی اقدامات اور حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے کیونکہ وہ تمام صنعتوں اور کاروبار کا احاطہ نہیں کرتے لہٰذا حکومت کومذکورہ بالا بیان کیے گئے تمام مجوزہ کیٹگریز میں50 فیصد کمی کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہوگا جو یقینی طور پر صنعتکاروں کو نقد بہاؤ فراہم کریں گی اور مزدوروں کو ملازمت سے نکالنے کے امکانات کو کم کیا جاسکے گا۔
انہوں نے کہاکہ صنعتوں کو اپنا بقا کو قائم رکھنے کے لیے اگلے 3ماہ انتہائی نازک ہیں لہٰذا حکومت ٹیکسوں، پیٹرولیم قیمتوں، یوٹیلیٹی بلوں اور شرح سودمیں50فیصد کمی کی صورت میں صنعتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے سہارا دینا ہی ہوگا۔کے سی سی آئی کے صدر نے امید ظاہر کی کہ حکومت کے سی سی آئی کی دی گئی تجاویز پر غور کر ے گی اور اسی بنیاد پر غریب عوام کی بقا کے لیے عملی اقدامات کرے گی جس کا انصار صنعتوں کی بقا سے وابستہ ہے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں