جوتا فیم وفاقی وزیر فیصل واڈوا کی یاد آتی ہے

 امیر محمد خان جوتا فیم   وفاقی وزیر  فیصل واڈوا کی یاد آتی ہے  کرونا  وائرس  نے دنیا کو ایک قید خانہ میں تبدیل کردیا ہے۔  ایسے  میں گھر میں بیٹھے بیٹھے  عجیب عجیب خیالات بھی آتے ہیں ، جنکا  اظہار کہیں منفی  اور کہیں  مثبت انداز  میں سوشل میڈیا پر جاری ہے ۔  منچلے  اسے مذاق بھی بنائے ہوئے ہیں۔ مگر  میرے موکل کو عجیب خیال آیا  اسکے خیال سے میں بھی سوچ میں پڑگیا کہ تحریک انصاف  کے موجودہ وزیر  اور سابقہ  ایم کیو ایم کے سیاسی کارکن  فیصل واڈوا  کہاں گئے۔ ٹیلی ویژن کے بیشتر  ٹاک شو  میں ان سے رونق لگی  رہتی تھی ا ور  وزراء کے روائیتی چرب زبانی سے محظو ظ ا ہوا  کرتے تھے۔ ایک چینل  کے اینکر کے پاس تو فیصل واڈوا کی ایک تحریر  بھی ہے جس میں انہوں نے کہاتھا چند  ہفتوں میں  تمام میڈیا کارکنان  ملازمتوں پر نہ  صرف چلے جائینگے بلکہ   بیرون ملک سے  لاکھوں افراد  پاکستان میں ملازمت کرنے بھی آیندہ  چند  دنوں میں آنا  شروع ہوجائینگے۔  نہ جانے ایک ٹاک شو میں انہیں کس نے  ایک  ”فوجی بوٹ“ دے دیا  جسے وہ ساتھ لے آئے جس سے دیکھنے والوں کو ان پر  ہمیشہ کی طرح  ہنسی  نہیں آئی  بلکہ افسوس ہوا  کہ ہمارے سیاست دان  کسطرح معتبر  اداروں کا مذاق بناتے ہیں، اس پر کوئی سوال نہیں کہ  وہ چینل بھی یا اسکا اینکر بھی اس میں ملوث ہوگا،  چونکہ آجکل اداروں میں  تو موبائل فون ساتھ لیجانا مشکل ہے   ”بوٹ “کیسے آگیا ،  اسکا  کوئی نہ کوئی  ”اسکرپٹ“تو ہوگا۔  پھر دوران  گفتگو  ٹاک شو میں ہی  موصوف کو ایک میسج آیا   اور  انہوں نے اس بوٹ  کو میز کے نیچے رکھ دیا  میسج کچھ ایسا تھا کہ بقول ایک قصہ گو کہ  فیصل واڈوا  کا بس نہ چلا کہ  وہ  اس بوٹ کو  جیب میں چھپا لیں،  اس ٹاک شو کے بعد  موصوف  دوبارہ نظر آج تک نہیں آئے،نہ ہی  کسی  ٹاک شو میں اور نہ ہی  کسی پرنٹ میڈیا میں ۔ میں بہ حیثیت ایک  خبر قارئین کو  یہ  آگا ہ کروں کہ  تحریک انصاف میں  سنجیدہ لوگ بھی اچھی خاصی  تعداد موجود ہیں۔ کرونا وائرس   کے معاملے پر ساری ہی دنیا  اپنے ملک کے عوام کو کم از کم نقصان پہنچانے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ ہم تاخیر سے جاگے۔  اور خود بھی کنفیوز ہیں  اور عوام کو بھی  کنفیوز کررہے ہیں حزب اختلاف کو چھوڑیں ۔ کہیں نہ کہیں وہ حکومت  پر تنقید کریں  انکا حق بنتا ہے ، مگر  اسوقت  حزب اختلاف  کی نامور جماعتیں  اور رہنماء  ایک صفحے پر کہی جاسکتی ہیں،چو نکہ عوام ہونگے تو  لیڈری بھی ہوگی،  اس صورتحال میں  حکومت کا رویہ  تا حال  مخالف جماعتوں کے ساتھ دوستانہ نہیں ہے،  ورنہ پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں  وزیر اعظم کا  خطاب کے بعد  بقیہ لوگوں کی تقاریر نہ سننا کیا معنی ؟؟  دوماہ سے زائد  عرصے کے بعد شائد اب حکومت کو  کچھ اقدامات کرنے کی سمجھ آئی ہے  وزیر اعظم نے ایک معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے  کیا ہی اچھا ہو  کہ  اس پر ایمانداری سے عمل ہو  سیاست نہ،  یہ اچھا ہوتا ہے کہ وزیر  اعظم  ضرورت مند  و  روز کی دھاڑی والوں کی امداد کیلئے ’ٹائیگر اسکواڈ‘  بنانے کے بجائے اراکین اسمبلی  چاہے انکا تعلق  کسی بھی جماعت سے ہو  انہیں ایک متعین فنڈ دیتے، اسکا حساب لیتے،  چونکہ  ضرورت مند  افراد صرف  پی ٹی آئی کے حلقوں میں نہیں،  اس طرح کی تقسیم سے یہ شک ہوگا کہ  ”اندھا بانٹے رویوڑیاں  اپنے اپنوں کو “وزیر اعظم کی  جانب سے ریلیف کا  اعلان سنکر  میرا موکل پھر میرے پاس آیا کہ  جناب،  50 لاکھ  گھر  تو مل نہ سکے  وعدے کے مطابق ، اب چندہ  پھر ہم سے ہی مانگ لیا ؟؟اسوقت  چاہے  دھاڑی والا،  چاہے سفید  کالر  شخص  موجودہ  وائرس کی وجہ سے  آنے والے  معاشی  طوفان میں  بیرون ملک پاکستانی بھی اسی کشتی کے سوار ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ  ملک کی موٹی موٹی  آسامیاں ِجو  اربوں کی جائیداد کی مالک ہیں اور یہ رقم  انہوں نے چاہے ایمانداری  یا  چاہے بیمانی سے  اسی ملک سے کمائی ہے،  اپنے خزانے کھولیں،  شاہد خان ،میاں منشاء، سر انور  پرویز،  صدر الدین ہاشوانی،  آصف علی ذرداری،  جہانگیر ترین، میاں نواز شریف فیملی،  ملک ریاض، ناصر چوہان، رفیق حییب ،گمشدہ  فیصل واڈوا،   یہ بات علیحدہ ہے کہ  اگر  یہ لوگ  ملک کی مدد کریں تو  یہ ملک  قرض دار ہی نہ ہوں یہ ایک طویل بحث ہے  کم از کم  اگریہ لوگ  اس وبائی دور میں  ہم وطنوں کی مدد کریں  تو  کسی کو   نہ تو جھوٹے وعدے کرنا پڑینگے،  نہ  عوام روٹی کیلئے پریشان ، یہ بات خوش آئیند ہے  پاکستانکی تاریخ کی ستر سالوں میٰں  پہلی دفعہ  سابقہ ،  اور موجودہ حکمرانوں کو معلوم ہوا ہے کہ  اس ملک میں غریب بھی ہیں  اور  انکا ڈیٹا  اکھٹا کیا جارہے   ’غریبوں کو مبارک ہو“  یہ بات حقیقت ہے  دنیا اور دنیا چیخ   رہی ہے  کہ  social distance  اس وائرس کو شکست دینے کیلئے ضروری ہے  اور ایک طریقہ  ہم مسلمانوں کیلئے  یہ کہ مساجد میں اکھٹا نہ ہونا  ،   ۔   اسوقت دنیا بھر میں مشترکہ طور پر دعا ء   و  توبہ کرنے کے تمام تر  ذرائع  بند ہیں  یہ اللہ تعالی کی ناراضگی کا ایک طریقہ بھی ہے۔،  نہ ہی  گوردوارے، نہ ہی کلیساء  یہاں تک کے  مدینہ المنورہ ، روضہ رسول،  مکہ مکرمہ  بند ہیں۔وہاں کی حکومتوں نے  اپنے مذہبی رہنماؤں سے مشورہ نہیں  کیا  بلکہ  اپنی عوام کو تحفظ دینے کیلئے فوری اقدامات کئی اور  بند کردئے، ہمارے لئے مکہ اور مدینہ سے زیادہ بڑی عبادت گاہ کونسی ہے  اپنی عوام  اور  یہاں برسرروزگار لاکھوں افراد  کے  تحفظ کیلئے  اسے  ایک حکم نامے کے ذریعے بند کردیا جسے تمام  مسلم زعماء  نے سراہا  مگر ہم بزد ہیں کہ نماز  جماعت سے ہی پڑھنی ہے   ہمارے ہاں تو ہم یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ lock downکیا ہوتا ہے اور کرفیو کیا ہوتا ہے   ہماری پالیساں از خود  شکوک پھلاتی ہیں  اس سے پہلے کہ پاکستان میں وائرس کا کوئی معاملہ ہو، اس نے چین کے شہر ووہان میں پھنسے 800 پاکستانی طلبا کو وطن واپس نہ آنے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان کی حکومت ان کی واپسی اور ملک میں  بیماری پھیلانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی۔چین نے یقینا  ان طلباء کا بھر پور خیال کیا ہوگا  اور کررہا ہے۔ مگر تفتان میں کیا ہوا۔؟؟ایران   سے واپس آنے والے عازمین   پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ حکومتی اعلانات کے باوجود  وہاں سے آمد  تاحال جاری ہے۔ خبریں یہ بھی ہیں بارڈر پر موجود  اہلکار بھی ملوث ہیں۔ پھر  ہمارے منافع خور  اور  مشکل وقت میں حرام طریقوں سے اپنا الو سیدھا کرنے والے وہ لوگ  جو  ٹرکوں میں چھپا کر تمام تر سفری پابندیوں کے باوجود  ہزاروں روپے کے عوض ایک شہر سے دوسرے شہر  لوگوں کو لیجار ہے ہیں۔  یہ  تو انتظامیہ کا ہی کام ہے  کہ اسے روکے، مگر مسئلہ  یہ ہے کہ  وہ ٹرک  جس پر  انسانی اسملنگ کی جارہی ہے وہ کسی وزیر،  کسی ممبر اسمبلی،  کسی سیاسی رہنماء کا ہوگا   اور  کچھ  تادیبی کاروائی نہ ہوسکے گی، میڈیا بھی بادشاہے کھانے پینے کے ذرائع کھلے رکھتا ہے، قصہ مختصر وبائی مرض ہے  گھروں میں رہ کر  اللہ تعالی  سے  دعایں کریں انسانیت کی بقاء کیلئے دھیان نہ دیں  دنیا کے دو نجومیوں کے  ایک ہمارے شیخ رشید کہ  آئیند ہ پندرہ دن میں  یہ  وائرس  خاتمے کی طرف جائے گا  دوسرے نجومی  امریکی صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں کہ آئیندہ ہفتے  امریکہ میٰں اموات  بہت  بڑی تعداد میں ہونگی۔  

اپنا تبصرہ بھیجیں