4 اپریل۔۔ تعمیر وطن میں ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات یاد رکھنے کا دن

4 اپریل 1979 کو راولپنڈی میں صرف پاکستان کے ایک مقبول ترین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر نہیں لٹکایا گیا تھا بلکہ اس روز ملک میں سولین بالادستی کا قتل کیا گیا تھا جس کا خواب بھٹو نے خود بھی دیکھا اور کروڑوں پاکستانیوں کو بھی دکھایا تھا ۔

یہی بھٹو کا سب سے بڑا جرم تھا کہ وہ پاکستانیوں کو خود مختار اور آزاد دیکھنا چاہتا تھا ہر قسم کی ذہنی غلامی سے آزاد ۔

بھٹو کے جرائم کی فہرست تیار کی جائے تو وہ کافی طویل ہو سکتی ہے ۔

پاکستان کو ایٹمی ملک بنانا اس کے بڑے جرائم میں سے ایک تھا ۔
بھٹو نے بھارت کے نیوکلیئر پروگرام کے جواب میں سویڈن سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان لا کر ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے بھٹو نے کہا تھا ۔

ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے اور ہزار سال بھی لڑنا پڑا تو لڑیں گے ۔

بھٹو نے اپنے عوام سے وعدہ بھی لیا تھا کہ
میرے ساتھ لڑو گے ۔۔۔۔۔لڑیں گے ۔

میرے ساتھ مروگے ۔۔۔۔۔ملیں گے ۔

اس لیے بھٹو پھانسی چڑھ کر بھی زندہ ہے اور پھانسی دینے والوں کا کوئی نہ لیوا نہیں رہا ۔

خود کو ضیاء الحق کا بیٹا کہنے والے نوازشریف کو بھی ضیاءالحق کا راستہ چھوڑنا پڑا اور بھٹو کی بیٹی بے نظیر کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنا پڑے ۔

لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد بھی بھٹو کا بہت بڑا عالمی جرم تھا جس کی وجہ سے عالم اسلام تو اکٹھا ہو رہا تھا لیکن دشمنان اسلام کے ہوش اڑ گئے تھے پھر بھٹو سمیت عالم اسلام کے اہم رہنماوں کو چن چن کر قتل کرنے اور منظر سے ہٹانے کا کھیل کھیلا گیا ۔

بھٹو نے امریکہ کو سفید ہاتھی کہا تھا ۔ہنگری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی تھی کہ تمہارا انجام عبرتناک بنا دیں گے ۔بھٹو نے جیل سے ہی لکھ دیا تھا کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو اس کے ذمہ دار کون کون ہونگے اور پاکستان کے سات یہ سب کچھ کون اور کیوں کر رہا ہے ۔

جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں بھٹو کا تختہ الٹا جانا اور ملک میں مارشل لاء لگنا اور پھر قتل کے ایک مقدمے میں عدالت سے بھٹو کو سزا دلانے کے بعد پھانسی پر چڑھا دیا جانا ۔درحقیقت یہ سب کچھ ایک عالمی سازش کا حصہ تھا جس پر جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں عملدرآمد کیا گیا بھٹو کے خلاف گیم پلان بہت پہلے تیار ہوگیا تھا اور بھٹو کو اپنے ہی ملک کے لوگوں نے بتا دیا ۔
سوویت یونین افغانستان پر چڑھائی کا پروگرام بنا چکا تھا اور امریکہ نے سوویت یونین کو آگے بڑھنے سے روکنا تھا اسے پاکستان کی ضرورت تھی افغانستان میں جہاد کے نام پر سوویت یونین سے امریکہ نے جو لڑائی لڑی اس میں پاکستان کو استعمال کیا گیا اسلا اور پیسہ امریکہ نے فراہم کیا ۔

بھٹو پر پاکستان کو دولخت کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ بھٹو کی ضد اور دھمکی کی وجہ سے اقتدار شیخ مجیب کو منتقل نہ کیا جاسکا اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا بعد میں بھٹو نے ہی بنگلہ دیش کو تسلیم بھی کرلیا ۔

لیکن آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے ایک ٹی وی انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ پاکستان ٹوٹنے کے اصل ذمہ دار بھٹو نہیں بلکہ جنرل یحییٰ تھے اگر بھٹو نے ان کو اکسایا بھی تھا تب بھی اتھارٹی یحی خان کے پاس تھی جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ داری یا یحیی خان کی حکومت پر ہے ۔

بھٹو پر شملہ معاہدہ کرکے کشمیر پر بھارت کا کیس مضبوط کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے لیکن بھٹو کو کریڈٹ جاتا ہے کہ جنگ کے بعد 93 ہزار پاکستانی فوجی جو بھارتی قید میں تھے انہیں وہ واپس لائے اور پاکستان کا وہ علاقہ جو بھارت کے تسلط میں چلا گیا تھا وہاں سے واپس لیا ۔

بھٹو نے ایک شکست خوردہ قوم کو دوبارہ حوصلہ دیکھ کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا کام بخوبی انجام دیا اور نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی اسٹیل میل اور پورٹ قاسم جیسے بڑے منصوبے شروع کیے اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کرکے عالم اسلام کو بیدار کیا اور تیل کی طاقت سے آگاہ کیا اپنی دولت مغربی بینکوں میں رکھنے کی بجائے اپنے پاس رکھنے کی بات کی ۔بھٹو کے عالمگیر ویژن کی وجہ سے غیرملکی مسلمان دشمن عالمی طاقتیں بھٹو کے خلاف سرگرم ہیں اور بھٹو کا نشانہ بنایا ۔

پاکستان میں بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے بھٹو نے خلیجی ملکوں میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر آئے اور لاکھوں لوگوں کو بیرون ملک روزگار ملا آج تک وہ لوگ بیرون ملک سے زرمبادلہ کے ذخائر بیچتے آرہے ہیں ۔

یقینی طور پر بھٹو ایک شخص تھا ایک فرد تھا جس میں خوبیاں بھی تھیں اور خامیاں بھی ۔
بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی نے ملک میں خوف کا ماحول پیدا کیا اور بڑے خاندانوں نے فرمایا کھینچ لیا اس فیصلے کا پاکستان کی معیشت پر بہت دور رس اثرات پڑا اور ملکی معیشت کو زبردست نقصان ہوا آنے والی حکومتوں کو پرائیویٹائزیشن کی پالیسی پر عمل کرنا پڑا ۔خود بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے بھی پرائیوٹائزیشن کی پالیسی کو آگے بڑھایا ۔

بھٹو نے محنت کا اور مزدور طبقہ کو بااختیار اور خوشحال بنانے کی کوشش کی لیکن معیشت کو سنبھال نہیں سکے اور مسائل بڑھ گئے ۔

روٹی کپڑا اور مکان بھٹو کا ایک ایسا پرکشش نعرہ تھا جو آج بھی پیپلزپارٹی کو عوام کے ساتھ جوڑتا ہے ۔

لیکن بھٹو اپنے مزاج کے لحاظ سے ایک سخت گیر انسان تھے ان کے اندر ایک وڈکرا بھی رہتا تھا جو اپنی اچھائیوں کے ساتھ ساتھ دوسروں سے انتقام اور بدلہ لینے کا بھی عادی تھا اور بھٹو نے اس کا مظاہرہ کی مرتبہ کیا بھٹو پے اندر غرور اور تکبر بھی تھا جس نے انہیں نقصان پہنچایا ۔
مجموعی طور پر بھٹو ایک ذہین کامیاب اور انتہائی مقبول سیاستدان اور لیڈر تھے انہوں نے ضیاالحق کے ہاتھوں مرنا قبول کیا لیکن تاریخ میں زندہ رہے

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com

اپنا تبصرہ بھیجیں