لاک ڈاؤن کے باعث صنعتی ورکرز، مزدور فاقہ کشی پر مجبور، کراچی میں 16 سے 17 ہزار صنعتیں قائم ہیں

لاک ڈاؤن کے باعث صنعتی ورکرز، مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہیں، ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے ذریعے صنعتی ورکرز،مزدوروں میں راشن اور معاوضہ تقسیم کیا جائے،سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاؤلہ نے کروناوائرس کی روک تھام کے لیے جاری لاک ڈاؤن کے باعث صنعتوں کی بندش اوراس کے نتیجے میں لاکھوں ورکرز، مزدروں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کے لیے سیسی ، ای او بی آئی اورورکرز ویلفیئر فنڈزکوورکرز ،مزدوروں کو راشن پہنچانے، بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور معاوضہ دینے کے لیے استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سلیمان چاؤلہ نے سندھ حکومت سے اپیل میں کہا کہ کراچی میں16سے 17ہزار صنعتیں قائم ہیں اور لاکھوں ورکرز، مزدوروں کا روزگاراِن صنعتوں سے وابستہ ہے۔

یعنی صنعتی پہیہ گھومے گا تو لوگوں کو روزگار ملے گا مگر ملک بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات باالخصوص طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے کراچی کے کاروباری مراکز اورصنعتوں کو تالے لگے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں ورکرز ، مزدوروں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑے ہیں بلکہ صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگیا ہے۔ کیونکہ لاک ڈاؤن کے باعث ورکرز تنخواہ لینے کے لیے فیکٹریوں میں نہیں پہنچ پارہے جبکہ حکومت کی ہدایت کے مطابق صنعتیں بھی بند ہیں جس کی وجہ سے ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی دشواری کا سامنا ہے ۔لاک ڈاؤن میں توسیع سےمزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں