جو مشینیں ڈینگی کے علاج کیلئے پلازما پراسس کرنیکے کام آتی ہیں انہی مشینوں کو کورونا کے علاج کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے

چلڈرن ہسپتال کراچی کے سی ای او اور معروف ہیما ٹالوجسٹ ڈاکٹر ثاقب انصاری نے پاکستان میں کرونا وائرس کے پہلے مریض یحیٰ جعفری، ان کے والدین کے ہمراہ چلڈرن اسپتال گلشن اقبال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں کسی حکومتی فنڈ ، اضافی ورک فورس یا مشینری کی ضرورت نہیں ہے ، جو مشینیں ڈینگی کے علاج کے لیے پلازما پراسس کرنے کے کام آتی ہیں انہی مشینوں کو کورونا کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ عملہ موجود ہے جس کے ذریعے کورونا وائرس سے متاثر ہو کر ابصحت مند ہونے والے مریضوں کے جسم سے پلازما حاصل کرکے اس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں ۔اور وہ پانچ دن کے اندر کورونا وائرس سے صحت مند ہونے والے تمام مریضوں کا پلازمہ لے کر اسے محفوظ کر سکتے ہیں ، حکومت کو متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے گائیڈ لائنز جاری کرنا چاہیے۔ چلڈرن ہسپتال کراچی اور امریکا کے میتھوڈس ہسپتال ہیوسٹن کے ڈاکٹر فضل محمود اس حوالے سے رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے دونوں ہسپتالوں کے درمیان باہمی تعائون جاری ہے ۔ ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ ہم کورونا وائرس کا مقابلہ تین جہتوں میں کر رہے ہیں ،

ہم کوشش کررہے ہیں کہ اسے پھیلنے سے روکیں ، متاثرہ مریضوں کا علاج کریں اور معاشرے میں خوف وہراس کو نہ پھیلنے دیں ، کورونا ایک نیا وائرس ہے دنیا اس کے علاج کے حوالے سے کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے ماضی کے تجربات سے بھی مدد لی جارہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض یحییٰ جعفری کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے آج چلڈرن ہسپتال کراچی کو اپنا پلازمہ عطیہ کیا ہے ۔ڈاکٹر ثاقب انصاری نے یحییٰ جعفری کے والدین کے عزم و حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کورونا سے صحت یاب ہونے والے دیگر مریضوں سے بھی اپیل کی کہ انسانیت کی بہتری کے لیے وہ آگے آئیں، انہوں نے بتایا کہ پلازمہ محفوظ کرنے کا موثر طریقہ کار پاکستان کے اکثر ہسپتالوں میں پہلے ہی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی اداروں نے اشتہار شایع کروایا ہے اور صحت یاب ہونے والے مریضوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا پلازمہ عطیہ کریں، انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی اجازت کے ساتھ مخصوص ڈاکٹروں اور ماہرین کو پلازمہ تک رسائی دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں اب تک 94افراد اس مرض سے صحت یاب ہوچکے ہیں جن میں سے تقریباً نصف تعداد خواتین کی ہے۔ یحییٰ جعفری نے کہا کہ بہت جلد یہ وائرس تاریخ کا حصہ بن جائے گامگر جو چیز یاد رکھی جائے گی وہ ہمارا عزم اور حوصلہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں