کیا اب نجم سیٹھی کی وکٹ گرنے والی ہے ۔ماضی میں وہ دو مرتبہ کب کیسے کیوں گرفتار ہوئے ؟

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ایک دن نجم سیٹھی کی وکٹ گرے گی ضرور ۔
جس طرح میر شکیل کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اور دور دور تک اس کی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن نیب نے چالیس سال پرانا کیس کھول دیا اور میر شکیل کو گرفتار کر لیا گیا اسی طرح کوئی بعید نہیں کہ نجم سیٹھی کے خلاف بھی برسوں پرانی فائلیں کھولی جائیں اور ان سے بھی پرانے حساب برابر کیے جائیں ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نجم سیٹھی کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو انہیں کوئی حیرت نہیں ہوگی البتہ اگر ان کے خلاف خاموشی اختیار کرلی گئی تو یہ بات حیران کن ضرور ہوگی ۔

عمران خان اینڈ کمپنی کو یقین تھا کہ 2013 کا الیکشن رزلٹ چوری کیا گیا ہے اور انہیں حکومت میں آنے سے روکا گیا اس پورے پلان میں دیگر طاقتوں اور کرداروں کے علاوہ وہ جن تین اہم شخصیات کو ٹارگٹ بناتے رہے اور وقت آنے پر ان کو سبق سکھانے کا عزم کیا ہے وہ تین لوگ یہ تھے ۔
نواز شریف۔ میر شکیل اور نجم سیٹھی۔

نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی اور نواز شریف کو جیل بھی جانا پڑا ۔

میر شکیل کے ساتھ لڑائی جاری رہی لیکن میرشکیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔

اب بچ گیا ہے تیسرا کردار یعنی نجم سیٹھی ۔

آپ کو یاد ہوگا 18 پنکچر والا قصہ۔

نجم سیٹھی نگران وزیر اعلی پنجاب تھے اور عمران خان اینڈ کمپنی کو یقین تھا کہ انہیں ہروانے میں نجم سیٹھی نے پورے رول پلے کیا ہے اس لیے اب نجم سیٹھی کے ساتھ کیا ہوگا یہ دیکھنا باقی ہے ۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ایک دن نجم سیٹھی کہیں وکٹ گرے گی ضرور ۔
جس طرح میر شکیل کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اور دور دور تک اس کی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن نیب نے چالیس سال پرانا کیس کھول دیا اور میر شکیل کو گرفتار کر لیا گیا اسی طرح کوئی بعید نہیں کہ نجم سیٹھی کے خلاف بھی برسوں پرانی فائلیں کھولی جائیں اور ان سے بھی پرانے حساب برابر کیے جائیں ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نجم سیٹھی کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو انہیں کوئی حیرت نہیں ہوگی البتہ اگر ان کے خلاف خاموشی اختیار کرلی گئی تو یہ بات حیران کن ضرور ہوگی ۔

نواز شریف نے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنایا ۔بیلنس سیٹھی نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرا دی۔ پی ایس ایل شروع کرا دیا پاکستان میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو واپس لے کر آئے کرکٹ ٹیم کو نمبر ون رینکنگ پر پہنچایا اور چیمپئنز ٹرافی جتوا دی۔

لیکن عمران خان اینڈ کمپنی نے نجم سیٹھی کی تعریف نہیں کی بلکہ یہ کہتے رہے کہ یہ تو ریلوکٹے اور پھٹیچر کھلاڑی ہیں جن کو نجم سیٹھی کے دور میں پاکستان لایا گیا ۔

نجم سیٹھی سے پی سی بی اور پی ایس ایل کے عہدے واپس ہوچکے نجم سیٹھی کے ٹی وی شوز بھی پیمرا کی زد میں ہیں نجم سے ٹھیک ہے پاکستان میں جو جو کاروبار ہیں وہ سب کے سب خطرے میں ہیں ان کے حساب کتاب اور ٹیکسوں کی فائلیں سرکاری اداروں میں کسی بھی وقت کھل سکتی ہیں ۔شاید نجم سیٹھی بھی پوری طرح حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں ۔انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پروگراموں کا سلسلہ شروع کیا ۔
دیکھنا یہ ہے کہ نجم سیٹھی کی چڑیا کب تک محفوظ پرواز کر سکتی ہے ۔اور کب کوئی شکاری اس کا شکار کھیلنے آتا ہے ۔

قصور میں 20 مئی 1948 کو پیدا ہونے والے نجم عزیز سیٹھی ایک پروفیشنل صحافی ہیں ان کی اہلیہ جگنو محسن بھی ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں ۔دونوں نے ماضی میں بھی حکمرانوں کا غصہ اور انتقام دیکھ رکھا ہے سیاسی نشیب و فراز سے وہ خود اور ان کے گھرانے اچھی طرح واقف ہیں ماضی میں بزرگوں اور بہن بھائیوں نے یہ سخت حالات دیکھے تھے اب ان کے بچے بھی یہ چیزیں سمجھ رہے ہیں اداکارہ میرا سیٹھی اور سنگر علی سیٹھی انکے ٹیلنٹڈ اور مشہور بچے ہیں ۔

نیلم سیٹھی کو ایک زمانے میں سیاست کا شوق تھا بلوچستان کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئے تھے سوشلسٹ کا حصہ بنے 1975 میں نے گرفتار کر لیا گیا تھا تین سال تک مقدمے بازی کا سامنا کرنا پڑا 1978 میں مقدمے سے جان چھوٹی ۔

پھر انہوں نے پبلکیشن ہاؤس بنالیا اور وین گارڈ کے پلیٹ فارم سے کتابیں چھاپنا شروع کی ۔
یونانی سو اکیانوے میں مصطفی کھر کی سابقہ اہلیہ تہمینہ درانی کی کتاب مائی فیوڈل لارڈ انہوں نے ہی چھاپی اور تہلکا مچا دیا ۔سیاست میں غلام مصطفی کھر کا طوطی بولتا تھا وہ زبردست طاقت رکھنے والے سیاستدان تھے ان کے ساتھ ٹکر لی گئی تھی ۔تہمینہ درانی کا درانی خاندان بھی فوجی پس منظر رکھتا تھا اور مضبوط کنکشنز تھے ۔یہ وہی تہمینہ درانی ہے جو بعد میں میاں نواز شہباز شریف کی اہلیہ بنیں ۔
نجم سیٹھی کیوں کہ خود پولیس ریکارڈ میں آ چکے تھے اس لئے ضیاءالحق کے دور میں نیا اخبار یا میگزین نکالنے کے لئے انہیں اجازت نہیں مل سکتی تھی ڈیکلئیریشن لینا ویسے بھی مشکل کام ہوا کرتا تھا فیصلہ کیا گیا کہ ان کی اہلیہ جگنو کے نام سے ڈیکلئیریشن لیاجائے اور سوشل میگزین شروع کیا جائے انیس سو چوراسی کوششیں شروع کیں لیکن 1987 میں جاکر ڈکلیئریشن ملا کہ جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد اگلے سال یعنی انیس سو نواسی میں انگریزی ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز شروع کیا گیا ۔

1999 میں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں نجم سیٹھی کو گرفتار کیا گیا اور بغاوت کا الزام لگایا گیا بعد میں سپریم کورٹ سے جان چھوٹی ۔

2002 میں روزنامہ ٹائمز آف پاکستان شروع کیا ۔2009 تک اس کی ادارت سنبھالی اس کے علاوہ نجم سیٹھی پاکستان میں 1990 سے لیکر 2008 تک دی اکانومسٹ کے نمائندے بھی رہے ۔

1999 میں امریکی تنظیم سی پی جے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ نے نجم سیٹھی کو انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ دیا ۔

2009 میں ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز کی جانب سے گولڈن پین آف فریڈم ایوارڈ ملا ۔

2011 میں حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز ملا ۔

2013 میں حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق سے وہ پنجاب کے نگران وزیراعلی بنے۔

نواز شریف سے اختلافات کب ہوئے ۔۔۔۔۔۔

میں 1999 میں میں نواز حکومت میں نجم سیٹھی کو لاہور سے پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ان کی اہلیہ جونمو سن کے مطابق آٹھ مسلح پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور نجم کو گرفتار کرلیا ۔ہم نے اریسٹ وارنٹ مانگے پر انہوں نے دھمکی دی کہ یہی پر نجم کو شوٹ کر دیں گے ۔
بعد میں وجہ یہ پتہ چلی کہ نجم سیٹھی نے بی بی سی ٹی وی شو کے لیے ایک انٹرویو دیا تھا اور بی بی سی والے نواز حکومت کی کرپشن کے حوالے سے کوئی رپورٹ بنا رہے تھے نواز شریف کا خیال تھا کہ نجم سیٹھی ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں ۔

آٹھ میں سے لے کر ایک مہینے تک نجم سیٹھی کو حراست میں رکھا گیا لاہور کے ایک ڈیٹینشن سنٹر میں ہی تھے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس واقعے کی مذمت کی اور حکومت پر دباؤ ڈالا جبکہ نجم سیٹھی کو ضمیر کا قیدی قرار دیا ۔

انٹرنیشنل صحافی تنظیموں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھتا گیا ورلڈ بینک کے صدر جیمز وولف نے وزیراعظم نوازشریف سے نجم سیٹھی کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ۔

نجم سیٹھی کے لئے یہ بات زیادہ صدمے کا باعث بنی کہ تہمینہ درانی نے بھی ان کے خلاف پریس کانفرنس کرڈالی اور ان پر اپنی کتاب کی آمدن چوری کرنے کا الزام لگایا اور مقدمہ کیا ذہنی ٹارچر دیا۔ کتاب کے انٹرنیشنل رائٹس کے حوالے سے بھی تنازعہ چلا اور 1992 میں یہ معاملہ طے پایا ۔

2008 میں نجم سیٹھی کہوں ان کے اخبار کی انتہا پسندوں کے خلاف ادارتی پالیسی کی وجہ سے طالبان نے قتل کرنے کی دھمکی دی ۔جس کی وجہ سے انہیں مسلسل سیکیورٹی گارڈز کے حصار میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا ۔لال مسجد کے تناظر میں بھی ان کے اخبار نے جو کارٹون شاپ تھا اس نے بہت مسائل پیدا کئے ۔
اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے حوالے سے خود نجم سیٹھی کیا کہتے ہیں اس کی تفصیلات آئندہ قسط میں ۔
Salik Majeed-for-jeeveypakistan.com

اپنا تبصرہ بھیجیں