کوئٹہ 2اپریل :۔بلو چستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اورجسٹس نذیر احمد لانگوپر مشتمل دورکنی بنچ نے کورونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات ودیگر متعلقہ امور بارے کیس کی سماعت کی

کوئٹہ 2اپریل :۔بلو چستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اورجسٹس نذیر احمد لانگوپر مشتمل دورکنی بنچ نے کورونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات ودیگر متعلقہ امور بارے کیس کی سماعت کی۔ا یڈوکیٹ جنرل نے معزز عدالت کے روبرو عدالت عالیہ کی ہدایت کے مطابق سرحدی علاقوں کے زیر تبادلہ ڈپٹی کمشنرز کے تبادلوں کی منسوخی کا نوٹیفیکیشن پیش کیا اس پر معزز عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے ایک اور نوٹیفیکیشن کی بابت دریافت کیاجس کی کاپی عطاءاللہ لانگو ایڈوکیٹ کی جانب سے پیش کی گئی تھی جو کہ چیف آف سیکشن پی اینڈڈی حبیب الر حمن کی بطور ڈپٹی کمشنر قلات تعیناتی سے متعلق تھا جنکا موقف تھا کہ ڈی سی قلات کی اس حوالے سے تعیناتی پر عدالت احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کے لیے ایڈوکیٹ جنرل نے مجاز حکام سے اس سلسلے میںرابطے کیلئے عدالت سے وقت مانگا ۔معزز دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اب تک نو ڈاکٹرز اور ایک ہیلتھ ٹیکنیشن کا کرونا وائرس ٹیسٹ رپورٹ مثبت آیا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ اب تک یہ بھی نہیں معلوم کہ کتنے ڈاکٹرز ،پیرامیڈیکس ،ہیلتھ ٹیکنیشن اور انتظامی اسٹاف کرونا وائرس میں مبتلا ہے ان تمام متاثرہ طبی عملے کا علاج معالجہ یقینی بنایا جائے انہوں نے تجویز دی کہ کرونا وائرس میں مبتلا ہیلتھ ورکرز کے علاج کے لیے اگر کوئی جگہ مختص کر لی جائے تواس سے ان کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اس موقع پر سپیشل سیکرٹری صحت نے نشاندہی کی کہ حکومت نے کورنا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو علاج معالجہ فراہم کرنے والے تمام طبی عملے کے ٹیسٹ کروانے کے لیے ریپڈ ریسپانس ٹیم تشکیل دے دی ہے مزید برآں حکومت نے بعض مقامات جیسا کہNIM اور ایم پی اے ہاسٹل کو حکومتی و دیگر اہلکاروں کے لیے مختص کر دیئے ہیں جس پر بحث کے بعد یہ تجویز سامنے آئی کہ اس مقاصد کے لئےNIM زیادہ مناسب مقام ہے جس پرسپیشل سیکریڑی اور ڈائریکٹرجنرل صحت نے اتفاق کیااور حکومتی منظوری کیلئے وقت مانگا ۔عدالت نے اس حوالے سے ہدایت کی کہ ایسے تمام طبی عملے، انتظامیہ جن کی رپورٹ مثبت آ چکی ہے یا وہ کورو نا مریضوں سے براہ راست رابطے میں ہیں ان کے تحفظ کے لیے حکومت کو خصوصی اقدامات کرنے چاہیے اس طرح حکومت مثبت رپورٹ آنے والے ڈاکٹروںو عملے کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات اٹھائے۔ سپیشل سیکرٹری صحت اور دیگر موجود حکام نے صدر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ کے جواب میں عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹروں دیگر سٹاف کے اوقات کار کے تعین کے لیے روسٹر مرتب کردیا گیا ہے جس کے مطابق ان کی گزشتہ ڈیوٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کی ڈیوٹیاں طے کی جائیں گی اس سلسلے میں ڈبلیو ایچ اوWHO کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ممکنہ حد تک انہی اصولوں کے مطابق کوئٹہ سے باہر فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں سے متعلق امور بھی طے کئے جائیں گے اور اس حوالے سے اقدامات لیے جا چکے ہیں سیکرٹری صحت نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں کی باقاعدہ دستیاب آسامیوں پر تقرری کے لئے پہلے ہی اشتہار دیا جا چکا ہے جن پر فوری وکنٹریکٹ بنیاد پر تعیناتی کیلئے 7 تا 14 اپریل 2020 انٹرویوز منعقد ہوں گے جنہیں بعدازاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقل بنیادوں پرپر کیا جائے گا انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل500 ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس جن کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا تھا ان کا کنٹریکٹ پریڈ ختم ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع دینے یا نہ دینے کیلئے سمری مجاز حکام کو بھجوا دی گئی ہے تاکہ وہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں۔ امید ہے کہ مذکورہ سمری کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ محکمہ صحت منظور شدہ آسامیوں پر تعیناتی کے عمل کو تیز کریں اور ساتھ ہی ان تمام آسامیوں پر باقاعدہ بنیادوں پر تقرری کے لئے پبلک سروس کمیشن سے اس عمل کا آغاز کر ائے اور جہاں تک دیگر پانچ سو ڈاکٹروں اور نرسوں کے سلسلہ میں تیار کردہ سمری کاتعلق ہے اسے بھی ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دی جائے سپیشل سیکریڑی صحت نے عدالت کو مزید بتایا کہ محکمہ صحت پہلے ہی دستیاب ذاتی تحفظ کا سازوسامان ((PPEs کی تقسیم کی ذمہ داری ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم کے سپرد کر چکا ہے اور آئندہ موصول ہونے والی اشیاءکو بھی اسی طرح تقسیم کیا جائے گا عدالت نے اس موقع پر کہا کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ موجودہ ایمرجنسی صورتحال میں محکمہ صحت پر بہت دبا¶ ہے لیکن اس صورت حال کے پیش نظر محکمہ کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے حکومت کورونا وائرس سے نبردآزماہونے والے ڈاکٹروں پیرامیڈکس اور دیگر عملے کو(PPEs) کے فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں اور وہ ڈاکٹر جنہیں اس نوعیت کا سازوسامان فراہم کیا گیا ہے وہ اس کا مناسب استعمال یقینی بنائیں اور اس کے غلط استعمال سے اجتناب کریں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کمیٹی ان ہسپتالوں کے بارے میں بھی فیصلہ کریں جہاں سے وائرس کے مثبت رپورٹ موصول ہورہے ہیں اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری صحت ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ زاید ہسپتال اور ایم ایس سول اسپتال نے نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ منتخب اراکین اور سیاسی شخصیات سیکیورٹی اور پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اکثر اوقات دیگر لوگوں کے ہمراہ ہسپتالوں کا وزٹ کرتے ہیں لہذا عوام کے ساتھ ساتھ انہیں بھی ہسپتالوں کے وزٹ سے منع کیا جائے انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کسی کو معلومات درکار ہوں تو وہ متعلقہ ایم ایس سے رابطہ کر سکتا ہے بشر طیکہ ہے کہ ڈبلیو ایچ اوWHO کے فراہم کردہ پروٹوکول کا خیال رکھا جائے جس پر معزز عدالت نے ریمارکس دیئے کہ منتخب اراکین اور سیاسی شخصیات مذکورہ پروٹوکول کی نہ صرف پابندی کرے بلکہ کورونا وائرس سے متعلق عوام میں آگاہی مہم کا آغاز بھی ممکن بنائے اورغیر ضروری دوروں سے گریز کریں اس ضمن میں معلومات کے حصول کیلئے بذریعہ موبائل متعلقہ ایم ایس سے رابطہ کریں ۔عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو آئندہ مقررہ سماعت تک پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ مذکورہ آرڈر کی کاپی پرنسپل سیکریڑی برائے وزیراعلیٰ ،چیف سیکریڑی ،سیکرٹری صحت ،ڈی جی صحت اور ایم ایس SPH،ایگزیکٹو ڈائریکٹر SZH اور AG کوفراہم کرنے کی بھی ہدایت دی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں