کینیڈا فری پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے حامد میر نے دنیا بھر میں اس وقت ہلچل مچادی تھی جب انہوں نے دعوی کیا کہ

آئیے آج پاکستان کے نامور صحافی کے حالات زندگی کا جائزہ لیتے ہیں ۔

کینیڈا فری پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے حامد میر نے دنیا بھر میں اس وقت ہلچل مچادی تھی جب انہوں نے دعوی کیا کہ القاعدہ نے روس سے تین نیوکلیئر سوٹ کیس حاصل کر لیے ہیں اور انہیں کامیابی سے یورپ اسمگل کر دیا ہے حامد میر کے مطابق یہ ہتھیار نائن الیون کے واقعے سے بہت پہلے سے القاعدہ کے پاس موجود تھے اور اصل ہدف لندن پیرس اور کیلیفورنیا ہیں
حامد میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ میں القاعدہ کے 23 سلیپر ایجنٹس موجود ہیں جن میں سے 19 نائن الیون کے واقعے میں مارے گئے ۔اور ان ایجنٹس کے پاس اتنا ریڈیو ایکٹیو میٹریل دستیاب ہے جو چھ بم بنانے کے لئے کافی ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتے ہیں ۔

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ صحافی حامد میر پر مختلف الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ وہ ایک ایجنٹ ہے اور خفیہ طور پر ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے لیکن کس کا ایجنٹ ہے اور کس ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے یہ بات آج تک کوئی طے نہیں کر سکا ۔
جب حامد میر نے طالبان کی حمایت میں لکھا اور پروگرام کیے تو کہا گیا کہ حامد میر طالبان کا ایجنٹ ہے ۔

جب حامد میر نے ملالہ یوسفزئی کی حمایت کی تو طالبان نے حامد میر کو امریکی ایجنٹ کہہ ڈالا اور یہاں تک کہا گیا کہ وہ سی آئی اے ایجنٹ فرحان ڈھڈوال کے نیچے کام کرتا رہا ہے ۔

مبینہ طور پر طالبان نے حامد میر کی گاڑی کے نیچے بم لگایا کیونکہ وہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی کوشش سے روکنا چاہتے تھے ۔

جب حامد میر نے پرویز ہودبھائی جیسے سائنسدان کا انٹرویو کیا اور اسے اپنے پروگرام میں بلایا تو پرویز ہود بھائی کی باتوں سے اختلاف کرنے والوں نے حامد میر کو بھارتی خفیہ ادارے را کا ایجنٹ قرار دے دیا اور یہاں تک کہا گیا کہ ٹی وی پر دو ایجنٹ بیٹھے ہوئے تھے ۔

ستمبر 2009 میں امریکی سفیر نے ٹی وی چینل کو خط لکھا کہ حامد میر غلط رپورٹنگ کرتا ہے ۔

23 جولائی 1966 کو لاہور میں پیدا ہونے والے حامد میر کا تعلق ایک صحافی گھرانے سے ہے ان کے والد وارث میر ایک مشہور صحافی اور جنگ کے کالم نویس تھے حامد میر کے دو بھائی عمران میر اور عامر میر اور ان کی اہلیہ ٹی وی کے لئے کام کرتی ہیں حامد میر کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ۔حامد میر نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انیس سو ستاسی میں عملی صحافت میں قدم رکھا اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کامیابی کے سفر کو تیزی سے طے کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے حامیر کے کیریئر کا آغاز پرنٹ میڈیا سے ہوا اردو کے اخبارات کے ساتھ منسلک رہے پھر جیو ٹی وی شروع ہوا تو کیپیٹل ٹاک پروگرام ان کی وجہ شہرت بنا ۔
انہوں نے اسامہ بن لادن کے تین انٹرویو کیے ۔امریکہ میں نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کا انٹرویو عالمگیر شہرت کا حامل بنا ۔حامد میر نے اسامہ بن لادن کے علاوہ بھی متعدد عالمی شہرت یافتہ شخصیات کے انٹرویوز کیے جن میں جان کیری ہیلری کلنٹن ٹونی بلیئر کولن پاول نیلسن منڈیلا ۔شمن اور شاہ رخ خان وغیرہ نمایاں ہیں ان کے علاوہ کنڈولیزارائس۔ ایل کے ایڈوانی ۔ پاکستان کے مختلف اور تقریبا تمام سرکردہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے انٹرویوز کیے ۔حامد میر نے دنیا کے مختلف علاقوں میں ہونے والے جنگی حالات کی رپورٹنگ بھی کی 2006 میں حامد میر کو بیروت میں حزب اللہ نے اس وقت گرفتار کر لیا جب ان پر اسرائیل کے جاسوس ہونے کا شک گزرا بعد میں انہیں رہا کردیا گیا ۔2007 میں وکلاء تحریک کے دوران حامد میر کے دفتر پر خوفناک حملہ ہوا بعد میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے پولیس حملے کی معافی مانگ لی ۔نومبر 2007 میں پیمرا نے حامد میر کو چار مہینے کے لئے بین کر دیا تھا تب حامد میر نے سڑکوں پر جاکر اپنا شروع کر دیا ۔2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت بھی ان سے ناراض ہوئی اور کچھ دن کے لیے ان کے پروگرام پر پابندی لگائی گئی ۔بعد میں انہیں ہلال امتیاز دیا گیا ۔2017 میں انہیں فری پریس ایوارڈ کا عالمی اعزاز ملا جب کہ وہ متعدد مقامی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ جیت چکے ہیں سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا تھا ۔
حامد میر کے دادا میر عبدالعزیز کا تعلق سیالکوٹ سے تھا جبکہ والد وارث میر جنگ کے کالم نویس تھے حامد میر کی فیملی نے کافی مشکل وقت بھی دیکھا جب سیکیورٹی کے مسائل تھے اور کچھ عرصہ حامد میر کو اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے باہر بھی رہنا پڑا ۔
حامد میر نے 1996 میں پاکستان اخبار اسلام آباد کے ینگ ایڈیٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی نواز شریف کے خلاف لکھنے پر ان کی نوکری چلی گئی اور پھر اوصاف اخبار اسلام آباد سے نکالا ۔دسمبر2001میں افغانستان میں تورابورا کی پہاڑیوں میں اسامہ بن لادن کی غار تک جا پہنچے اور ان کا انٹرویو کیا بعد میں پتہ چلا کہ امریکی اتحاد ناردن الائنس کے لیڈر حضرت علی نے بھاری معاوضہ لے کر محفوظ راستہ فراہم کیا تھا ۔
اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا جس میں ان پر چھ گولیاں چلائی گئیں اور تین گولیاں جسم کے اندر پیوست ہوگئیں تب غیر ملکی میڈیا نے لکھا کہ پاکستان صحافت کے لیے انتہائی خطرناک ملک بن چکا ہے چار سال میں 28 صحافی پاکستان میں مارے جا چکے ہیں اسی مہینے اپریل 2014 میں انتیسواں صحافی میانوالی میں سما کا رپورٹر شہزاداقبال بھی مارا گیا -چار سال پہلے سلیم شہزاد گھر سے ٹی وی شو کرنے کے لیے نکلا پھر غائب ہوگیا اور اس کی لاش نہر سے ملی وہ غالبا اغوا کرنے والوں کا ٹار چر برداشت نہ کر سکا تو اس کی لاش پھینک دی گئی عدالتی کمیشن بنا جس نے قاتل کو تلاش نہ کیا لیکن انٹیلیجنس ریفارمز پر اتفاق ضرور کیا ۔-
حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے آغا خان اسپتال کراچی میں حامد میر کی عیادت کی غیر ملکی اخبار نے لکھا کہ وزیراعظم پاکستان نے حامد میر سے کہا کہ دیکھیں حامد ہم آپ کو جلد تندرست دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم سے یہ توقع نہ رکھیں کہ ہم اسے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جس نے آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔کیونکہ کوئی ادھر جاکر سوال نہیں پوچھ سکتا ۔غیر ملکی اخبار نے لکھا تھا کہ حامد میر پر حملے کے بعد ان کے بھائی کے حوالے سے اس ٹی وی چینل نے جہاں حامدمیر کام کرتے تھے انٹیلی جنس چیف کی تصویر آویزاں کر دی تھی اور حامد میر کے بھائی نے انٹیلیجنس چیف کے سربراہ پر اپنا شک ظاہر کیا تھا اگلے روز آرمی چیف نے انٹیلی جنس ادارے کے دفتر کا دورہ کرکے واضح پیغام دیا کہ انٹیلی جنس چیف کو ان کا بھرپور اعتماد حاصل ہے اس کے بعد ٹی وی چینل بند کرنے کے لئے سرکاری دباؤ بڑھنے لگا تھا کے اس ٹی وی چینل نے ایک اہم قومی ادارے کو بد نام کیا ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے لندن سے شائع ہونے والے اخبار نے لکھا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کے صحافیوں کے لیے کام کرنا انتہائی خطرناک ہو چکا ہے فیوڈل لارڈز سے لے کر طالبان فائٹرز تک اور فرقہ وارانہ تنظیموں سے لے کر علیحدگی پسندوں تک سب نے صحافیوں کو مارا ہے ۔لاہور میں ایک اور ٹی وی اینکر رضا رومی پر حملہ ہوا جہاں ان کا ڈرائیور مارا گیا اور رضا رومی کو ملک چھوڑنا پڑا ۔
نومبر 2012 میں حامد میر اس وقت بچ نکلے تھے جب بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ایک بم ناکارہ بنایا جو ان کی کار کے نیچے لگایا گیا تھا تب یہ ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے تسلیم کرلی تھی ۔
2015 میں واشنگٹن پوسٹ نے حامد میر کو پاکستان کا سب سے مقبول ٹی وی جرنلسٹ قرار دیا 10 اگست 2018 کو حامد میر نے جیو ٹی وی چھوڑ کر جی این این گروپ کو بطور صدر جوائن کیا لیکن تھوڑے ہی دنوں بعد واپس آگئے ۔

بھائی 2010 میں حکیم اللہ محسود کے نمبر ٹو عثمان پنجابی اور حامد کی گفتگو کی مبینہ آڈیو منظرعام پر آئی جس میں خالد خواجہ کے اغوا کے حوالے سے کوئی بات چیت تھی ۔
خالد خواجہ اپریل 2010 میں مارا گیا ۔
حامد میر نے اس آڈیو کو جھوٹا قرار دیا جبکہ حامد میر کے مخالفین نے حامد میر کو اس معاملے میں زیر تفتیش لانے کی بہت کوشش کی ۔بعد میں طالبان کے ہاتھوں عثمان پنجابی کے مارے جانے کی اطلاع آئی ۔

حامد میر آزادی صحافت کے چیمپئن اور علمبردار ہیں انہیں پاکستان میں آزادی اظہار کے حوالے سے ایک مضبوط آواز قرار دیا جاتا ہے انہوں نے اپنی رپورٹنگ اپنے کالموں اور اپنے ٹی وی پروگراموں کے ذریعے مظلوم طبقوں کے حق میں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ناانصافی کی نشاندہی کی وہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کے سب سے بڑے ناقد ہیں انھوں نے مظلوم کشمیریوں اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی اور قلم اٹھایا ۔حامد میر ملک میں جمہوریت اور سول بالادستی کے حامی ہیں اور آئین پاکستان کی سربلندی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں حامد میر کی مشہور مطبوعات میں بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں جنگ پبلشرز 1990 اور قلم کمان پاکستان کا مستقبل دوست پبلشرز 2014 نمایاں ہیں ۔

writer-salik- majeed-for -jeeveypakistan.com

اپنا تبصرہ بھیجیں