ملک بھر کی تاجر برادری بھی دیوان محمد یوسف فاروقی کی تجاویز سے متفق ۔بحفاظت ماحول کی فراہمی کی صورت میں کام کرنے کی اجازت دی جائے

ملک کی تاجر برادری نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت میں ہونے والے زبردست نقصان کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر شدید تشویش اور سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو فوری طور پر لاگت ڈاؤن کے ساتھ ساتھ معیشت کی بحالی اور بے روزگاری کو بڑھنے سے روکنے کے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے تاجر برادری کے رہنماؤں نے ملک کے مشہور بزنس مین اور سابق صوبائی وزیر دیوان محمد یوسف فاروقی کی ان تجاویز سے بھی اتفاق کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اس بات کو واضح کیا جائے کہ لاک ڈاؤن کی تعریف کیا ہے اور جن فیکٹریوں اور کارخانوں میں لیبرکالونی موجود ہیں اور جہاں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے وہاں پر محدود پیمانے پر کام کرنے کی اجازت دی جائے ۔ملک میں بڑے بڑے بزنس ہاؤسز اور کاروباری پیداواری کارخانے اور ادارے ایسے ہیں جو ملازمین کو حفاظتی اقدامات کی فراہمی یقینی بنا کر کام جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں تاکہ بیروزگاری نہ پھیلے اور آنے والے دنوں میں مہنگائی اور بے روزگاری کا جو طوفان نظر آرہا ہے اس پر قابو پایا جاسکے

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد ) کے سابق چیئرمین ، ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (یوبی جی ) کے رہنما محمد حنیف گوہر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موجودہ لاک ڈاءون کی وجہ سے گزشتہ 14 روز کے دوران تعمیراتی شعبے کو کھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ حکومت تعمیراتی شعبے کو بچانے کے لیے بیل آءوٹ پیکج کا اعلان کرے ۔ محمد حنیف گوہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری طبقہ، ملازمت پیشہ افراد اوردیہاڑی دار مزدوروں سمیت بے شمار لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو ماہانہ کرایہ، بجلی گیس کے بلز کے علاوہ تین وقت کی کھانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ لاک ڈاءون کے دوران تعمیراتی سرگرمیاں رک گئی ہیں جس کے باعث بلڈرز اور ڈیولپرز کو اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں تو دوسری جانب گھر بیٹھنے والے تعمیراتی ورکروں کی کفالت بھی کررہے ہیں ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے جو حکومتی امدادی پروگرام کا اعلان کیا ہے اس میں تعمیراتی شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو مستحکم کیے بغیر معاشی صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی ۔ تعمیراتی شعبہ مدر انڈسٹری کی حیثیت رکھتا ہے ۔ تعمیراتی شعبہ ہی دیگر 70 سے زائد انڈسٹریز کا پہیہ چلانے کا موجب بنتا ہے ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک ویژنری لیڈر ہیں اور وہ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ تعمیراتی شعبے کو ترقی دیے بغیر پاکستان کی معیشت کو اوپر نہیں اٹھایا جاسکتا اور وہ اپنی ہر تقریر میں بھی اس حقیقت کا اظہار کرچکے ہیں ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک کی طرف سے جس پیکج کا اعلان کیا گیا ہے اس میں تعمیراتی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ترقی یافہ ممالک نے بیل آءوٹ پیکج میں اپنے تعمیراتی شعبے کو تباہی سے بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ حنیف گوہر نے اس امید کا اظہار کیا کہ تعمیرات شعبے کو تباہی سے بچانے اور موجودہ معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ سیّد مُراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاءون کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے تعمیراتی صنعت کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کو کھلنے کا حکم صادر فرمائیں اوراحتیاطی تدابیر اختیار کرکے تمام روزمرہ کے معاملات شروع کردیئے جائیں ۔

مشہور بزنس مین دیوان محمد یوسف فاروقی نئے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ انہوں نے گھر گھر جاکر راشن پہنچانے والی جس نئی فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے اس پر کافی وسائل خرچ ہوں گے اور ان کے لیے وسائل درکار بھی ہونگے وزیراعظم اگر برا نہ منائیں اور غور فرمائیں تو ہماری تجویز ہے کہ ملک بھر میں کمشنر ڈپٹی کمشنر سطح پر مکمل انفراسٹریکچر معلومات ڈیٹا موجود ہے اسے استعمال میں لایا جائے ان کے پاس مکمل معلومات ہے کس جگہ کس قسم کی ضرورت ہے ان کے ساتھ این جی اوز اور فلاحی تنظیموں کو بھی منسلک کر دیا جائے تو وزیراعظم جس لیول پر لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ باآسانی ممکن ہو جائے گا کل بھی اس سسٹم کے ذریعے رجسٹریشن کا نیٹ ورک بنایا جائے تو وہ زیادہ موثر ہوگا اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور اس کے فوری نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ فورس بننے اور بنانے اور ان کو وسائل فراہم کرنے میں ٹائم لگ جائے گا اور پھر فورس بنانے کے ساتھ ہیں جو نیا ادارہ بنے گا وہ آئندہ بتا نہیں کتنے سالوں تک پھر چلے گا اور اضافی اخراجات کا باعث بنے گا اور اس کا بوجھ حکومت پاکستان پر آجائے گا ہیں جو ہمارے پاس جو دستیاب وسائل ہیں ان کو بروئے کار لانا
دیوان محمد یوسف فاروقی نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ موجودہ صورتحال میں اگر ہنگامی بنیادوں پر جرتمندانہ اور درست فیصلے نہ کئے گئے تو تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بھوک افلاس لوگوں کو سول وار کی طرف لے جا سکتا ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے پہلے لاک ڈاؤن کی تعریف واضح کی جائے ۔کن مقامات پر مکمل لاگت ڈاؤن کی ضرورت ہے اور کن مقامات پر لاگت ڈاؤن کے بغیر ضروری کام کاج چلایا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میں حکومت سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ انڈسٹریز جن کے اندر اپنی لیبرکالونیاں بنی ہوئی ہیں جنہوں نے اپنے گیٹ بند کر کے آنے جانے پر پابندی لگا دی تھی اور اپنے یہاں ماحول کو محفوظ رکھا تھا وہاں پر کام کرنے کا موقع دیا جائے فیکٹریوں کے اندر ویسے بھی ٹمپریچر پچاس ڈگری سے زیادہ ہوتا ہے وہ ابھرکر سیف رہتا ہے اور کام کے بہانے ورکر آٹھ گھنٹے سے زیادہ مصروف ہی رہتا ہے پھر تھک کر جاکر اپنے مخصوص کمرے میں آرام کر لیتا ہے یہ ایک مخصوص ایریا ہوتا ہے جہاں ان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے ایسی انڈسٹریز کو بند کرنے کا بہت نقصان ہوا ہے کیونکہ یہ ورکر لیبرکالونی چھوڑ کر اپنے گاؤں دیہاتوں میں چلے گئے ہیں اور وہاں ان کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کرے یہ صورتحال دس پندرہ دن سے زیادہ رہے اور حالات جلدی ٹھیک ہو جائیں لیکن اگر ایسا نہ ہوسکا اور زیادہ وقت لگ گیا تو جب ہم انڈسٹری دوبارہ چلانے جائیں گے اس وقت مہینہ ڈیڑھ مہینہ لگ جائےگا سائیکل بنتے بنتے ٹائم لگتا ہے پروڈکشن اور ریونیو پر اثر پڑے گا اور حکومت کو کیسے ٹیکسز ادا کیے جا سکیں گے بجلی اور گیس کے بل کیسے ادا ہوسکیں گے تنہا کیسے دی جا سکے گی بہت سوچ سمجھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے بہت بڑا مسئلہ سر پر آگیا ہے کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال میں حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ہماری کنڈیشنز یورپ اور امریکا سے مختلف ہیں وہاں لیبرکالونی کا کوئی تصور نہیں ہے جبکہ ہمارے یہاں لیبرکالونی ہوتی ہے ہمارے ملک میں لوگوں کی قوت مدافعت بھی زیادہ ہے کیونکہ اینٹی بائیوٹک کا استعمال زیادہ ہے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز بزنس مین برادری کے رہنما اسوسی ایشن کے ساتھ بات کرے اور ڈاکٹروں اور ایکسپرٹس کو لے کر بیٹھے بات کریں مسئلے کا کوئی حل ضرور نکل آئے گا جنہیں داروں فیکٹریوں اور دفاتر میں محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی ہے وہاں کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے اور کام آگے بڑھے گا تو لوگوں کے لیے روزگار کا حصول ممکن ہوگا اکانومی کاپہیہ چلے گا ورنہ خدانخواستہ پاکستان میں کرونا وائرس سے لوگ کم ملیں گے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگاری مہنگائی غربت کا جو طوفان آ رہا ہے اس سے لوگ زیادہ مر جائیں گے اگر فوری طور پر جرات مندانہ اقدامات نہ کیے گئے تو حالات خراب ہونگے اور پہلے ہی روزگار کی کمی ہے ۔
دیوان محمد یوسف فاروقی جنہیں 2005 میں حکومت پاکستان سے ستارہ امتیاز کا اعزاز عطا کر چکی ہے انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ لانڈی کورنگی کوٹری نوری آباد فیصل آباد رائونڈ اور دیگر مقامات جہاں انڈسٹریل اسٹیٹ موجود ہے فیکٹریوں کے اندر لیبر کالونی بنی ہوئی ہے وہاں محفوظ ماحول میں کام کرنے دیا جائے ۔
جو انڈسٹری اپنے ملازمین کو محفوظ ماحول فراہم کرسکتی ہے وہاں معیشت کا پہیہ چلنے دیا جائے البتہ دین انڈسٹریز میں ورکر باہر سے آتے ہیں روز گھر آتے جاتے ہیں وہاں کام بند کرنے کی لوجک سمجھ میں آتی ہے لیکن جن دفاتر اور فیکٹریوں میں ماحول محفوظ ہے وہاں ٹمپریچر چیک کیا جاتا ہے ماسکو فراہم کیے جاتے ہیں سینیٹ ایزر فراہم کیا جاتا ہے ان کو چلنے دینا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ سوچے سمجھے بغیر جلد بازی میں جو سب کچھ بند کر دیا گیا اس پر خدارا سوچیے جہاں کالونی بنی ہوئی ہیں وہاں کام کرنے دیا جائے پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے دیوان محمد یوسف فاروقی نے کہا کہ سوچے سمجھے بغیر جلد بازی میں جو سب کچھ بند کر دیا گیا ہے آنے والے دنوں میں اس کے بہت منفی اثرات آئینگے خدا رہا سوچئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کرنا ضروری تھا اور احتیاط بھی اچھی بات ہے لیکن لاگ ان کی تعریف ہونی چاہیے جہاں مکمل طور پر لاگت ڈاؤن کی ضرورت ہے جیسے پارک ہی گراؤنڈ ہی ہوٹل ہیں شاپنگ پلازے ہیں وہاں ضرور لاک ڈاؤن رکھیں لیکن دفاتر فیکٹریوں اور کارخانوں میں محفوظ ماحول میں کام جاری رکھا جا سکتا ہے وہاں کا مت روکیں ۔
انہوں نے کہا کہ ایک فیکٹری میں اچھی خاصی ایڈمنسٹریشن ہوتی ہے جو ملازمین کو کنٹرول کرتی ہے ان کا ڈسپلن برقرار رکھتی ہے یہی ملازمین جو اپنے گھروں پر چلے جاتے ہیں گاؤں دیہاتوں میں چلے جاتے ہیں تو وہاں ڈسپلین کون رکھے گا میں دعا گو ہوں کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو اگر یہ مسئلہ طول پکڑ گیا تو نہ جانے معاملہ دیوار کی طرف نہ چلا جائے کیونکہ مارکیٹ میں چیزیں سپلائی نہیں ہورہی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جو اسٹاک تھا وہ ختم ہو رہا ہے لوگوں کی نہ آمدن ہے نہ قوت خرید رہے گی آنے والے دنوں میں کیا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ آرمی کے لوگوں کو فرنٹ پر نہیں لانا چاہئے آرمی نے ہمارے بارڈرز کی حفاظت کرنی ہے اللہ نہ کرے یہ وائرس بیرکوں تک پہنچے ہمارے جوان بیرکوں میں زیادہ محفوظ ہیں سڑکوں پر پولیس رینجرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذریعے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں آرمی کو پیچھے رکھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ گلی محلوں پارکوں گراؤنڈ چائے کے ہوٹلوں اور پبلک مقامات پر لاک ڈاؤن سمجھ میں آتا ہے لیکن دفاتر اور فیکٹریوں کے اندر ماحول کو محفوظ بنا کر کام کیا جا سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں