بہت کچھ اندر کے دشمن کی کارستانی تھی۔

جب قنوطیت کی روایت معاشرتی رویوں میں گہری جڑیں پھیلا چکی ہو‘ تو سیاست اور ریاست کو صرف اسی زاویے سے دیکھنے کی روش زور پکڑ لیتی ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ وطن عزیز کو بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا‘ اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں‘ کہ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جو اس بھٹی سے نکل کرکندن نہ بنا ہو۔ ہر بار ہم سرخرو ہوئے‘ لیکن بہت کچھ کھویا بھی‘ کچھ بچا بھی لیا۔ طوفانوں اور آندھیوں سے نکلنے کے بعد ہم دوبارہ اپنے راستے پر چل نکلے۔ دھکے بھی کھائے‘ ہر قدم آگے بھی لپکے اور پیش قدمی رکی بھی رہی۔ غیروں کا کیا غم‘ دشمنوں سے کیا گلہ‘ بہت کچھ اندر کے دشمن کی کارستانی تھی۔ ہمارے اہلِ اقتدار‘ حکمرانوں اور مقتدر طبقوں کی کج فہمی‘ حالات کے تجزیے کی کمزور صلاحیت اور سیاست برائے مال بنائو‘ لوٹ مار اور اداروں کو ارادتاً کمزور کرنے کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ ترجیحات غلط‘ بلکہ انتخابی سیاست ہی ان کا معیار‘ دکھاوے کے کام اور ہاں‘ جہاں حکمران اور نوکر شاہی لوٹ مار کر سکتے تھے‘ وہی منصوبے اور منشور ٹھہرے۔ سماجی ترقی پر کبھی کسی نے دھیان نہ دیا‘ کہ اس کے نتائج تو کئی دہائیوں کے بعد نمودار ہوتے ہیں۔ پھرتیاں صرف بجلی کی کھمبوں کی رسائی‘ قدرتی گیس کی فراہمی اور شاہراہوں کی تعمیر میں نظر آئیں۔
سماجی ترقی میں ہم اپنے خطے کے ہر ملک سے پیچھے ہیں سوائے افغانستان کے۔ یہ ملک بھی اگر خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی آگ سے نکل آیا اور ہمارے حکمران طبقوں کی ڈھیل یا ڈیل حسبِ توفیق اور سیاسی موسموں کے بدلنے کے ساتھ ملتی رہی تو قیاس یہی ہے کہ ہم جہاں ہیں‘ وہیں رہیں گے اور ہمارا یہ پس ماندہ ہمسایہ بھی ہم سے آگے نکل جائے گا۔ صحت اور تعلیم دو ایسے شعبے ہیں جن میں سرمایہ کاری اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے برابر رہی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ قوم اور ریاست کی تعمیر کے ان کلیدی شعبوں میں بدعنوانی زوروں پر رہی۔ اصلاحات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ مفادات پرست گروہوں کا زور ہے کہ ٹوٹتا نہیں۔ جہاں نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے سرجری کی ضرورت تھی‘ وہاں حکمران پٹی باندھ کر کام چلانے جیسی ڈنگ ٹپائو پالیسی اختیار کرنے کی کوشش میں رہے۔ آج بھی وقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ماضی کو رونے دھونے کی بجائے اپنے عمل سے اصلاحات کر دکھائے۔ اس بحران سے اگر ہم کچھ حاصل کر سکتے تو یہ کہ تعلیم اور صحت پہ تمام مہیا وسائل خلوصِ نیت اور تن دہی کے ساتھ استعمال کرنا ہوں گے۔ تعلیم اس لیے کہ اس کے بغیر شعور اور روشنی نصیب نہیں ہوتی۔ علم ہی واحد کنجی ہے‘ جس سے قسمت کا قفل کھل سکتا ہے۔ سب بچے سکولوں میں ہوں اور سب بالغ تعلیمِ بالغاں کے مراکز میں۔ ایوب خان کے دور میں ہمارے ہی قومی اداروں نے یہ سب کر دکھایا تھا۔ اب بھی ہم یہ سب کر سکتے ہیں۔
صحت کے شعبے میں ہم کمزور ہیں۔ اس کے باوجود کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز سند یافتہ ہو رہے ہیں۔ بیرونی دنیا میں ہمارے ہی اداروں سے فاضلِ تعلیم معالجوں نے نام کمایا ہے۔ جو یہاں کام کر رہے ہیں‘ ان کی تعلیم اور تجربہ دنیا کے کسی دوسرے ملک سے کم نہیں۔ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ آج ہمیں جس آفت کا سامنا ہے‘ ہمارے پاس تو خود اس سے بچنے کے لیے حفاظتی لباس معقول تعداد میں موجود نہیں ہیں۔ اس کے باوجود طبی شعبے کے لوگ اس جنگ کا ہراول دستہ ہیں۔ میدان سے بھاگے نہیں۔ سب خطرات کو مول لیا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ سلام ان کی خدمات اور ان کی حب الوطنی کو۔ اس وقت بڑی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ چند سالوں میں ہسپتالوں کی تعداد اگر چوگنا نہیں تو دوگنا کرنا ناممکن نہیں۔ وسائل کا رونا رونا بند ہونا چاہئے۔ ریاست کے اداروں کو متحرک اور فعال کریں‘ تو ٹیکس سے حاصل ہونے والا ریونیو دگنا کیا جا سکتا ہے۔ پتہ نہیں شبر زیدی صاحب کہاں چلے گئے۔ مجھے ان سے بہت امیدیں وابستہ تھیں کہ اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں اور کچھ کرنے کا جذبہ بھی۔ بابو اگر قابو میں نہیں تو پھر حکومت اور اس وقت کی قیادت کی اس سے بڑی کمزوری کیا ہو سکتی ہے؟ جن ریاستی کل پُرزوں پر منشور اور منصوبوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری عائد ہے‘ ان کی ڈور اگر ڈھیلی ہو یا ان کا دل و دماغ اور ہاتھ ساتھ نہ دیں تو حکومت بیکار ہی رہے گی۔ دھرانے کی ضرورت نہیں کہ وسائل ملک کے اندر موجود ہیں۔ ان کا منصفانہ حصول اور انہیں ذمہ داری کے ساتھ سماجی ترقی کے منصوبوں کے لیے تفویض کرنے کی ضرورت ہے۔ دیکھیں‘ عمران خان صاحب کی سوئی گزشتہ چالیس سال کی لوٹ کھسوٹ کے ذکر پہ اٹکی رہتی ہے یا وہ اپنا بھی کوئی راگ الاپ سکیں گے۔ بہت ہو چکا۔ انہیں پُرانے بیانیے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے۔ قوم تو پوچھے گی اور ہم سب بھی کہ اصطبل کو صاف کرنا بھی ضروری تھا‘ مگر آپ خود سے کتنے گھوڑے لائے‘ کیا کچھ بنا‘ آپ کے منشور کا کیا ہوا؟ یہ بحران ان کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی کہ ریاست اور قوم کو اسی منزل کی طرف اور اسی راستے پہ ڈال سکتے ہیں‘ جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا اور جس کا ذکر اب روزانہ ہونا ہے کہ ”ہم کر کے دکھائیں گے‘‘۔
باقی دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد یعنی مریضوں اور اس وبا سے وفات پا جانے والوں کی تعداد الحمدللہ انتہائی کم ہے۔ اس تعداد کو محدود رکھنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں‘ بروقت اور موثر رہی ہیں۔ ناچیز خود اس کا شاہد ہے۔ میں چار سے سات فروری تک لندن میں ایک کانفرنس میں شریک تھا۔ میرے ساتھ پاکستان سے کچھ اور لوگ بھی تھے‘ ایک وفد کی صورت میں۔ وہاں کورونا کے بارے میں کسی قسم کے کوئی خدشات یا احکامات سامنے نہیں آئے۔ زندگی معمول کے مطابق اسی تیزی سے رواں دواں تھی۔ یاد رہے کہ تین جنوری کو دنیا کو معلوم ہو گیا تھا کہ ووہان میں یہ نیا اور مہلک وائرس سر اٹھا رہا ہے۔ ”چین کی بیماری‘‘ سمجھ کر بڑی سے بڑی طاقتیں خاموش رہیں۔ کسی بھی نوعیت کے اقدامات کرنے سے گریز کیا گیا۔ آٹھ فروری کی صبح ہم اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترے تھے۔ پاسپورٹ کا مرحلہ ختم ہوا تو آگے ماسک پہنے صحت کے عملے نے قطار لگوا دی اور ایک فارم بھی تھما دیا کہ یہ پُر کریں۔ اس پرواز میں ماضی کے کچھ طاقت ور لوگ بھی تھے۔ احتجاج کرنے لگے کہ یہ فضول‘ بیکار کی چیکنگ اور فارم پُری ہے۔ یہاں کیوں؟ جہاں جہاں سے وہ تشریف لائے تھے‘ وہاں تو سب کچھ حسبِ معمول تھا۔ صحت کا عملہ ڈٹ گیا اور سب کی سکریننگ کی۔ آٹھ فروری کو امریکہ کے اندر ایک بھی کورونا کا مریض نہیں تھا۔ نہ ہی غالباً پاکستان میں تھا۔ آج امریکہ میں کورونا متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس سلسلے کے مزید بڑھنے اور وبا کے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اٹلی اور سپین میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ دم توڑ چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ اموات کا یہ سلسلہ مزید کچھ عرصہ جاری رہے گا۔ یورپ کے اکثر ممالک کی آبادیاں پاکستان کی آبادی کے نصف کے برابر بھی نہیں ہیں اور یہ بھی کہ وہاں لوگ زیادہ تر خوش حال‘ پڑھے لکھے اور منظم زندگی گزارتے ہیں۔ پھر وہ اس قدر وبا کا شکار کیوں ہوئے؟
جن ممالک نے غفلت کا مظاہرہ کیا‘ بروقت اقدامات نہیں کیے‘ ان کا حال آپ کے سامنے ہے۔ خود شکنی کے مارے اور حریفانہ سیاسی روایت کے اسیر حکومت اور ریاستی ادارے کچھ بھی کر لیں‘ انہیں صرف گھٹا ٹوپ اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔ سیاست اور حکومتوں کے اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں معروضی اندازِ فکر کم از کم ہمارے مکالمے سے ختم ہو چکا ہے۔ آپ کا موقف جو بھی ہو‘ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ حکومت نے بروقت اقدامات کیے اور ہم بڑے نقصان سے بچ گئے۔ وبا وسیع پیمانے پر نہیں پھیلی‘ محدود ہے‘ اور اسے مزید محدود کرنے کی ضرورت ہے‘ گھر میں رہیں اور سلامت رہیں اور دوسروں کو بھی سلامت رہنے دیں۔ Rasul-Bux-Raees-Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں